Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ان کے ایمان کو اسنے ترقی دی اور وہ خوشیاں   منارہے ہیں  ۔

            بندۂ مومن کی یہ بھی تعریف ذکر کی کہ وہ علم والا،   رجا والا اور خوف رکھنے والا ہوتا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:

 (۱) یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖؕ-قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ-  (پ۲۳،  الزمر:  ۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: آخرت سے  ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت کی آس لگائے کیا وہ نافرمانوں   جیسا ہو جائے گا تم فرماؤ کیا برابر ہیں   جاننے والے اور انجان۔

 (۲)   یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا٘- (پ۲۱،  السجدۃ:  ۱۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اپنے رب کو پکارتے ہیں   ڈرتے اور امید کرتے۔

قرآنِ کریم اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت: 

دو جہاں   کے تاجْوَر،   سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  مروی ہے کہ قرآن والے ہی اللہ والے اور اس کی مخلوق میں   اس کے خاص بندے ہیں  ۔ ([1])

حضرت سیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ تم میں   سے  ہر ایک پر لازم ہے کہ وہ صرف قرآنِ کریم کے متعلق ہی کسی سے  سوال کیا کرے،   اگر وہ قرآن کریم سے  محبت کرے گا تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  بھی محبت کرنے والا ہو گا اور اگر قرآنِ کریم سے  محبت نہ ہو گی تو اسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  بھی محبت نہ ہو گی۔   ([2])

            حقیقت میں   بھی ایسا ہی ہے جیسا انہوں  نے ارشاد فرمایا ہے کیونکہ جب آپ کسی بات کرنے والے کو محبوب جانیں   گے تو یقیناً اس کے کلام کو بھی پسند فرمائیں   گے اور اگر اسے  ناپسند کرتے ہوں   گے تو یقیناً اس کی باتوں   کو بھی ناپسند کریں   گے۔ ([3])

            حضرت سیِّدُنا ابو محمد سہل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ ایمان کی علامت اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  محبت کی علامت قرآنِ کریم کی محبت ہے اور قرآنِ کریم سے  محبت کی علامت رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت ہے اور حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  محبت کی علامت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیروی و اتباع ہے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیروی کی علامت دنیا میں   زہد اختیار کرنا ہے۔  ([4])

            کسی مرید  (راہِ حق کے سالک)  کا قول ہے کہ میں   جدہ میں   تھا اور ہر وقت تلاوتِ قرآنِ کریم میں   مگن رہتا،   پھر میں   سستی کا شکار ہو گیا اور چند دنوں   تک قرآنِ کریم کی تلاوت نہ کر سکا۔ اچانک ایک دن ہاتفِ غیبی کی آواز آئی: ’’اگر تو مجھ سے  محبت کرتا تھا تو میری کتاب سے  منہ کیوں  پھیرا؟ کیا تونے اس میں   میری ناراضی نہیں   پائی؟ ‘‘   ([5])

            ایک عارف کا قول ہے کہ کوئی بھی حقیقی مرید نہیں   بن سکتا یہاں   تک کہ قرآنِ کریم میں   اپنی ہر مراد پا لے اور اسے  نفع ونقصان کی پہچان حاصل ہو جائے اور وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت میں   مگن ہو کر باقی مخلوق سے  دور ہو جائے۔

قرآنِ کریم کے علوم: 

                قرآنِ کریم جن ظاہری معانی کے علوم پر مشتمل ہے ان کی کم از کم مقدار کے متعلق مروی ہے کہ وہ چوبیس ہزار

 آٹھ سو  (24800)  علوم ہیں   کیونکہ قرآنِ کریم کی ہر آیتِ مبارکہ چار علوم پر مشتمل ہے: ظاہر،   باطن،   حد اور مطلع۔

            ایک قول کے مطابق قرآنِ کریم ستتر ہزار دو سو  (77,200)  علوم پر مشتمل ہے کیونکہ ہر کلمہ ایک علم ہے اور ہر علم ایک وصف ہے،   پس ہر کلمہ ایک صفت کا تقاضا کرتا ہے اور ہر صفت کئی افعالِ حسنہ اور ان کے علاوہ دوسرے کئی معانی کی موجب ہے۔

٭٭٭

٭تمام مومنین کی مائیں ٭

پیارے اسلامی بھائیو! ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی تعداد 11 تھی اور یہ سب امہات المومنین یعنی مومنین کی مائیں کہلاتی ہیں،   ان کے اسمائے مبارکہ یہ ہیں: 

                         (1) … ام المومنین حضرت سَیِّدَتُنا خدیجہ بنت خویلد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا

                         (2) … ام المومنین حضرت سَیِّدَتُنا سودہ بنت زمعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا

                         (3)  ام المومنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ بنت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا

                         (4) … ام المومنین حضرت سَیِّدَتُنا حفصہ بنت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا

                         (5) … ام المومنین حضرت سَیِّدَتُنا ام سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا

 



[1]     سنن ابن ماجه، کتاب السنة، باب فضل من تعلم القران وعلمه، الحديث:۲۱۵، ص۲۴۹۰

[2]     سنن سعيد بن منصور، فضائل القران، الحدیث: ۲،ج۱، ص۱۰ بتغير و بدون ’’وان لم يکن يحب القران     الخ‘‘

[3]     صحيح البخاری، کتاب التوحيد، باب قول اللہ ’’يريدون ان يبدلوا کلام اللہ‘‘، الحديث: ۷۵۰۴، ص۶۲۵ مفھوماً

[4]     تفسير القرطبي،  پ۳، ال عمران، تحت الاية ۳۱، ج۱، الجزء الثانی، ص۴۷

[5]     جامع العلوم والحکم، تحت الحديث الثامن والثلاثون، ص۴۵۲



Total Pages: 332

Go To