Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

٭٭٭

فصل:  17

کلامِ مفصّل اور موصل کا بیان

فصل کا تعارف: 

 (اس فصل کی ابتدا میں   حضرت سَیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے قرآنِ مجید میں   مذکور علمِ بلاغت کی روشنی میں   ایجاز و اختصار وغیرہ کی بہت سی مثالیں   ذکر کی ہیں  ،   اہلِ علم حضرات ذوقِ مطالعہ کی تسکین کے لیے کتاب ہٰذا کے آخر میں   دی گئی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیں  ۔ عوام الناس کا چونکہ ان ابحاث و امثلہ سے  کوئی تعلق نہیں  ،   لہٰذا ان امثلہ کا تر جمعہ یہاں   نہیں   کیا گیا،   البتہ! ان کے لیے اس فصل میں   موجود دیگر مفید مدنی پھول درج ذیل مذکور ہیں  ۔ چنانچہ،   حضرت سَیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :  )  

            ہم نے قرآنِ کریم میں   سے  چند مثالیں   ذکر کی ہیں   حالانکہ یہ بہت زیادہ ہیں   اور ہم نے ان مثالوں   کا تذکرہ کر کے ایک بہت بڑے علم کے ذخیرے کی جانب رہنمائی کی ہے تا کہ جو ہم نے ذکر کیا ہے اس سے  استدلال کیا جا سکے اور مزید مثالوں   تک رسائی کی راہ کھل سکے۔

قرآنِ کریم کی فصاحت و بلاغت: 

                                                اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جب اہلِ عرب کو انہی کی زبان میں   خطاب فرمایا تو ان کی عقلوں   اور روزمرہ معمولات کے اعتبار سے  انہیں   سمجھایاتا کہ وہ کلام ان کے نزدیک حسین ہو اور ان کے سمجھ جانے کی وجہ سے  ان پر حجت بھی بن سکے کیونکہ اسنے اپنی حکمت اور لطف و کرم سے  انہیں   صرف اسی بات کا حکم دیا جسے  وہ جانتے تھے اور اچھا خیال کرتے تھے۔ ان معانی کی بنا پر اہلِ عرب کا خاص اور اعلیٰ مقام و مرتبہ سمجھا جا سکتا ہے کہ ان کے مرتبہ کی بلندی کے مطابق اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں   علم و عقل سے  نوازا۔ پس جس طرح علم و عقل میں   لوگوں   کے درجات مختلف ہوتے ہیں   اسی طرح مشاہدات اور فہم و ادراک میں   بھی لوگوں   کے درجات مختلف ہوتے ہیں  ۔ چونکہ،   قرآنِ کریم میں   عموم،   خصوص،   محکم،   متشابہ،   ظاہر اور باطن ہر قسم کے احکام ہیں  ۔ لہٰذا قرآنِ کریم کا عموم عام مخلوق کے لئے،   خصوص خاص افراد کے لئے،   ظاہر اہلِ ظاہر کے لئے اور باطن اہلِ باطن کے لئے ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی وسعت والا اور علم والا ہے۔

تلاوت کا حق ادا کرنے والے: 

            اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے حکم سے  ایمان والوں   کو راہِ ہدایت بخشی۔ لہٰذا جب دل نورِ یقین سے  پاکیزہ و صاف ہو،   عقل کو توفیق و رسائی سے  تائید حاصل ہو،   خیال کا مخلوق کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو،   باطن خالق کی بارگاہ میں   ہر وقت ٹھہرنے کو عبادت بنا لے،   نفس خواہشات سے  کنارہ کش ہو جائے تو روح سیر کرنے لگتی ہے اور جب وہ ملکوتِ اعلیٰ میں   گھومتی ہے تو ملکوتِ عرش تک رسائی پانے والے نورِ یقین کے ذریعے دل سے  حجابات اٹھا دیئے جاتے ہیں   اور بندہ صفات کے معانی،   خالق کے احکام،   معروف اسمائے حسنیٰ کے باطن اور رحیم و رؤوف عَزَّ وَجَلَّکے علوم کے غرائب کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے اور جب حجاب اٹھنے کے سبب ایسے  اوصاف کا مشاہدہ کرتا ہے جن کی معرفت اسے  نصیب نہ تھی تو جس قدر معرفت پاتا ہے وہیں   ٹھہر جاتا ہے اور اس کا شمار ان لوگوں   میں   ہونے لگتا ہے جن کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا ہے:

یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖؕ- (پ۱،  البقرۃ:  ۱۲۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: وہ جیسی چاہئے اس کی تلاوت کرتے ہیں   وہی اس پر ایمان رکھتے ہیں۔

انعاماتِ خداوندی: 

            تلاوت کا حق صرف ایمان والے ہی ادا کرتے ہیں   کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّجب بندۂ مومن کو حقیقت ِ ایمان کی دولت سے  نوازتا ہے تو اسے  اس کی مثل ایسے  معانی و مفاہیم بھی عطا فرماتا ہے جن کا سرچشمہ حقیقت ِ مشاہدہ ہے۔ اس طرح بندے کی تلاوت تو مشاہدہ سے  ہوتی ہے مگر اس کے ایمان میں   زیادتی تلاوت کے معانی و مفاہیم سمجھنے سے  ہوتی ہے اور یہی حقیقت ِ ایمان کا معیار ہے۔ چنانچہ،   

                                                اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا (پ۹،  الانفال:  ۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور جب اُن پر اس کی آیتیں   پڑھی جائیں   ان کا ایمان ترقی پائے۔

            اور ایک مقام پر ارشاد فرمایا: 

اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاؕ- (پ۹،  الانفال:  ۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: یہی سچےمسلمان ہیں۔

            پس بندۂ مومن کو اس وقت حضوری کا شرف ملتا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے عذاب سے  ڈرانے والوں   میں   اس کا شمار ہونے لگتا ہے،   خاص طور پر ایمان کی زیادتی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں   کی بشارتیں   دینا اس کے حصے میں   آتا ہے۔ چنانچہ قرآنِ کریم میںاللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضوری و اِنذار کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْاۚ-فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ (۲۹)  (پ۲۶،  الاحقاف:  ۲۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: پھر جب وہاں   حاضر ہوئے آپس میں   بولے خاموش رہو پھر جب پڑھنا ہوچکا اپنی قوم کی طرف ڈر سناتے پلٹے۔

            اور ایمان کی زیادتی اور استبشار  (یعنی خوش ہونے)  کا تذکرہ ان آیاتِ بینات میں   کیا:

فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ (۱۲۴)  (پ۱۱،  التوبۃ:  ۱۲۴)

 



Total Pages: 332

Go To