Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

اجْعَلْنِی مِنَ الْبَاكِیْنَ اِلَیْكَ الْخَاشِعِیْنَ لَكَ )  تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے اپنی بارگاہ میں   رونے والوں   اور ڈرنے والوں   میں   سے  بنا دے۔

            اسی طرح باقی آیاتِ مبارکہ کے مفہوم کے مطابق سجدۂ تلاوت میں   دعا کیا کرے۔

            بندے کو چاہئے کہ اس کا علم و عمل اور ذکر ودعا،   ارادہ و مشغلہ سب کچھ قرآن ہی ہو،   اسی کے متعلق سوال کیا جائے،   اس پر ہی ثواب دیا جائے،   اس سے  ہی اس کے مقام کا تعین ہو،   اس کا ذکر بھی قرآن ہو اور اس کی سب حالتیں   قرآنِ کریم کے مطابق ہوں  ۔ عارفین نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے کلام سے  ہی اس کی معرفت حاصل کی اور اس کے خطاب سے ہی اہلِ یقین نے اس کے اوصاف کا مشاہدہ کیا،   ان کے علوم اس کے کلام کا حصہ ہیں   اور ان کی وجدانی کیفیات ان کے علوم کا سبب ہیں  ،   ان کا مشاہدہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی صفات کے معانی سے  ہے اور ان کا کلام ان کے مشاہدے سے  ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے کلام کی مختلف اقسام اس کی صفات کے مفہوم پر دلالت کرتی ہیں  ۔ مثلاً رضامندی،   ناراضی،   نعمتوں   کا اظہار کرنے والا،   انتقام پر دلالت کرنے والا اور مہربانی و شفقت فرمانے والا کلام سب اسی کی صفات پر دلالت کرتا ہے۔ جب بندہ عالم ربّانی ہو اور اسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے  فہم و سماعت اور مشاہدہ کی دولت نصیب ہو تو وہ ایسی چیزوں   کا بھی مشاہدہ کرتا ہے جو دوسروں   سے  غائب ہوتی ہیں   اور ان چیزوں   کو بھی دیکھتا ہے جن کو دوسرے لوگ نہیں   دیکھ سکتے۔ چنانچہ،   

          اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَۙ (۳۸)  وَ مَا لَا تُبْصِرُوْنَۙ (۳۹)  (۲۹،  الحاقۃ:  ۳۸،   ۳۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو مجھے قسم ان چیزوں   کی جنہیں   تم دیکھتے ہو اور جنہیں   تم نہیں   دیکھتے۔

            ایک مقام پر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:

فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ (۲)  (پ۲۸،  الحشر:  ۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو عبرت لو اے نگاہ والو۔

            یعنی میری جانب بڑھو کیونکہ تم اصحابِ بصیرت ہو۔ پس جب اللہ عَزَّ وَجَلَّنے انہیں   ہاتھ اور آنکھیں   عطا فرمائیں   تو وہ صرف اسی طرف بڑھے جو انہیں   صحیح نظر آیا۔ چنانچہ جب انہوں  نے اس کی مخلوق میں   غورو فکر کیا تو اس سے  منہ موڑ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب بھاگ کھڑے ہوئے،   انہوں  نے آزمائشوں   اور مصیبتوں   کا مقابلہ کیا تو یہ مصیبتیں   ان میں   کچھ نقص پیدا نہ کر سکیں   اور وہ ثابت قدم رہے جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمانِ عالیشان میں   ان کے متعلق خبر دی گئی ہے:

وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ (۴۹) فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِؕ- (پ۲۷،  الذاریات:  ۴۹،   ۵۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور ہم نے ہر چیز کے دو جوڑ بنائے کہ تم دھیان کرو۔ تو اللہ کی طرف بھاگو۔

            پھر اس کے بعد ارشاد فرمایا:

وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَؕ- (پ۲۷،  الذاریات:  ۵۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اللہ کے ساتھ اور معبود نہ ٹھہراؤ۔

            اس سے  معلوم ہوا کہ اصحابِ بصیرت موحدین و مخلصین ہیں   اور اللہ عَزَّ وَجَلَّیکتا و تنہا اور انہیں   اخلاص عطا فرمانے والا ہے۔ پس جب وہ اشیاء کے ذکر سے  ہٹ کر اس کی جانب متوجہ ہوئے اور بارگاہِ ربوبیت میں   حاضر ہو کر انہوں  نے یہ ذکر کیا یعنی  (لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ)  کہا تو تمام مخلوق سے  منہ موڑ کر اس یکتا و تنہا کی جانب متوجہ ہوئے اور پھر کبھی بھی اس کے سوا کسی کو معبود بنایا نہ ہی کسی کی عبادت کی۔

                 (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ بے شک  قرآنِ کریم کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے اور ایک حد اور ایک مطلع ہے۔ ‘‘   ([1]) اور ہم کہتے ہیں   کہ اس کا ظاہر اہلِ عرب  (یعنی عربی زبان جاننے والوں  )  کے لئے،   باطن اہلِ یقین کے لئے،   حد اہلِ ظاہر کے لئے اور مطلع اہلِ اشراف یعنی محبین اور ڈرنے والے عارفین کے لئے ہے اور رحمتِ عالم،   نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عالیشان ہے: ”حاضر وہ کچھ دیکھتا ہے جو غائب نہیں   دیکھتا۔“ ([2])

            پس جو حاضر ہو وہی دیکھتا ہے اور جو دیکھے وہی پاتا ہے اور جو پائے وہ منفرد ہوتا ہے اور جو منفرد ہو معزز ہوتا ہے اور جو غائب ہو اندھا ہوتا ہے اور جو اندھا ہو ہوش سے  بیگانہ ہوتا ہے اور جسے  ہوش نہ ہو وہ بھول جاتا ہے اور جو بھول جائے سو وہ بھول ہی جاتا ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَاۚ-وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى (۱۲۶)  (پ۱۶،  طہ:  ۱۲۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: فرمائے گا یونہی تیرے پاس ہماری آیتیں   آئی تھیں   تونے انہیں   بُھلادیا اور ایسے  ہی آج تیری کوئی خبر نہ لے گا۔

            یعنی تونے ہماری آیات کو ترک کر دیا،   ان کی پروا نہ کی اور ان کی جانب دیکھا تک نہیں  ،   اسی طرح آج تو بھی چھوڑ دیا جائے گا کہ تیری جانب نہ نظر رحمت کی جائے گی،   نہ تجھ سے  لطف و کرم کا کوئی کلام کیا جائے گا اور نہ ہی قرب سے  نوازا جائے گا۔

 



[1]     شرح السنة للبغوی، کتاب العلم، باب الخصومة في القران، الحديث:۱۲۲، ج۱، ص۲۱۴

                                                الزھد لابن مبارک فی نسخۃ الزائد، باب فی لزوم السنۃ، الحدیث: ۹۳، ص ۲۳

[2]     المسند للامام احمد بن حنبل، مسند علي بن ابي طالب، الحديث:۶۲۸، ج۱، ص۱۸۰



Total Pages: 332

Go To