Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے  مروی ہے کہ اگر میں   چاہوں   تو سورۂ فاتحہ کی تفسیر سے  70 اونٹ بھر دوں  ۔  ([1])  حضرت سیِّدُنا ابو سلیمان دارانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں   کہ جب میں   ایک آیتِ مبارکہ پڑھتا ہوں   تو مسلسل چار پانچ راتوں   تک اسی آیتِ مبارکہ میں   ذکر و فکر کرتا رہتا ہوں   اور اگر خود غور و فکر ترک نہ کروں   تو راتیں   اس سے  بھی بڑھ جائیں  ۔  ([2])

معرفت کلامِ باری تعالٰی:

        ایک بزرگ کے متعلق مروی ہے کہ وہ سورۂ ھود کو بار بار پڑھتے رہے یہاں   تک کہ چھ مہینے تک اس کی قراء ت سے  فارغ نہ ہوئے۔ ([3])  اور عارفین میں   سے  کسی کا قول ہے کہ میں   ایک قرآنِ کریم ہر ہفتے ختم کرتا ہوں  ،   ایک ہر مہینے اور ایک ہر سال ۔ ایک قرآنِ کریم کا آغاز 30 سال پہلے ہوا اور ابھی تک اس سے  فارغ نہیں   ہوا ([4])   یعنی یہ ختم مشاہدے اور فہم کا ہے۔انہوں  نے یہ بھی فرمایا کہ میں  نے خود کو مقامِ عبودیت میں   ایک مقام پر کھڑا کر رکھا ہے کہ میں  روزانہ کے حساب سے ،   ہفتہ،   مہینہ اور سال کے حساب سے  عمل کرتا ہوں  ۔

            بے شک  مخلوق پر حجاب ڈال دیا گیا ہے کہ وہ کلامِ باری تعالیٰ کی حقیقت سمجھے اور اس کی مراد کے راز کی معرفت حاصل کرے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنی معرفت کی حقیقت لوگوں   سے  چھپا رکھی ہے اور انہیں   اسی قدر اپنے کلام کی معرفت عطا فرمائی ہے جس قدر انہیں   اپنی ذات کی معرفت عطا فرمائی ہے،   اس لئے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے کلام سے  اس کی صفات،   افعال اور احکام کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس لئے بھی کہ اس کا کلام در حقیقت اس کی صفات کا ہی ایک حصہ ہے۔ پس یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم میں   آسانی بھی ہے اور سختی بھی،   امید بھی ہے اور خوف بھی کیونکہ رحمت اور لطف،   انتقام و گرفت اللہ عَزَّ وَجَلَّہی کے اوصاف ہیں  ۔ پس اگر کسی کو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی معرفت اس طرح نصیب نہ ہو جیسے  کوئی خود کو جانتا ہے تو سوائے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے کوئی بھی اس کے کلام اور اوصاف کی حقیقت نہ جان سکتا ۔

عارفِ قرآن: 

            مخلوق میں   جو سب سے  زیادہ کلامِ باری تعالیٰ کے معانی جانتا ہے وہی سب سے  زیادہ اس کی صفات کے معانی کا عارف ہوتا ہے اور جو سب سے  زیادہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اوصاف،   اخلاق اور احکام کا مفہوم جاننے والا ہوتا ہے وہی خطاب کے رازوں  ،   حروف کی شکل اور کلام کے باطنی مفہوم کا عارف ہوتا ہے اور سب سے  زیادہ وہی اس کا حقدار ہے جو سب سے  زیادہ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  ڈرنے والا ہو اور جو سب سے  زیادہ ڈرنے والا ہوتا ہے وہی سب سے  زیادہ اس کے قریب ہوتا ہے اور سب سے  زیادہ قریب وہی ہوتا ہے جسے  وہ اپنے کرم سے  ترجیح دے کر خاص کر لیتا ہے۔ چنانچہ،   

            حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ لوگوں   میں   سب سے  اچھی آواز سے  قرآنِ کریم پڑھنے والا وہ ہے کہ جب پڑھے تو تم دیکھو کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  ڈر رہا ہے۔ ‘‘  ([5])

                                                اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  جو بھی ڈرتا ہے اسے  معرفت حاصل ہوتی ہے اور جسے  معرفت نصیب ہو وہی اس کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور جس کا تعلق ہوتا ہے وہی قریب بھی ہوتا ہے اور جو قریب ہوتا ہے وہی اس کی جانب متوجہ ہوتا اور دیکھتا ہے۔ پس اس وقت وہ خطاب کے راز اور کتاب کے باطن سے  بھی آگاہ ہو جاتا ہے۔

سجودِ تلاوت کی دعائیں  : 

            بندہ جب سجدۂ تلاوت کرے  ([6]) تو اسے  سجدے میں   آیتِ کریمہ کے مفہوم کے مطابق خیر و بھلائی کی دعا کرنا چاہیے۔ مثلاً شر وغیرہ کا تذکرہ ہو تو پناہ مانگے کیونکہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام ایسا ہی کیا کرتے ہیں   اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکو بھی یہی پسند ہے اور ان معانی و مفاہیم کی بنا پر وہ سب سے  زیادہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکو سجدہ کرنے والا شمار ہو گا،   مثلاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان  (اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ (۱۵)   (پ۲۱،   سجدہ:  ۱۵) )   ([7])  کے بعد سجدۂ تلاوت میں یہ کہے:  (اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنِی مِنَ السَّاجِدِیْنَ لِوَجْہِكَ الْمُسَبِّحِیْنَ بِحَمْدِكَ وَاَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ عَنْ اَمْرِكَ اَوْ عَلٰۤی اَوْلِیآئِكَ )  

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے اپنی رضا کی خاطر سجدہ کرنے والوں   اور اپنی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرنے والوں   میں   سے  بنا دے اور میں   اس سے  تیری پناہ مانگتا ہوں   کہ تیرے حکم سے  یا تیرے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام پر تکبر کرنے والوں   میں   سے  ہو جاؤں۔

            اسی طرح اس آیتِ مبارکہ  (وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩ (۱۰۹)  (پ۱۵،  بنی اسرآئیل:  ۱۰۹) )   ([8])  کے بعد سجدۂ تلاوت میں   یہ دعا کیا کرے:  (اَللّٰہُمَّ



[1]     الاتقان في علوم القران، النوع الثامن والسبعون، ج۲، ص۵۶۳

[2]     التبصرة لابن الجوزی، المجلس السادس والعشرون، ج۱، ص۳۷۱

[3]     شعب الايمان للبيهقي، باب في تعظيم القران، فصل في احضار    الخ، الحديث: ۲۰۴۶، ج۲، ص۳۶۱فیہ ذکر امرأۃ

[4]     التبصرة لابن الجوزی، المجلس السادس والعشرون، ج۱، ص۳۷۱

[5]     سنن ابن ماجه، ابواب اقامة الصلوات، باب في حسن الصوت بالقران، الحديث: ۱۳۳۹، ص۲۵۵۶

[6]     عند الاحناف: آیت سجدہ پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے پڑھنے میں یہ شرط ہے کہ اتنی آواز سے ہو کہ اگر کوئی عذر نہ ہو تو خود سُن سکے، سننے والے کے ليے یہ ضرور نہیں کہ بالقصد سنی ہو بلا قصد سُننے سے بھی سجدہ واجب ہو جاتا ہے۔ (بہارِ شریعت، ج ۱، ص ۷۲۸)

[7]     ترجمۂ کنز الایمان: کہ جب وہ انہیں یاد دلائی جاتی ہیں سجدہ میں گر جاتے ہیں اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔  

[8]     ترجمۂ کنز الایمان: اور ٹھوڑی کے بل گرتے ہیں روتے ہوئے اور یہ قرآن ان کے دل کا جھکنا بڑھاتا ہے۔



Total Pages: 332

Go To