Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

        اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآنِ کریم میں   توبہ کے لئے عقل مندی و دانائی کو اور نصیحت قبول کرنے کے لئے حضورِ قلب کو شرط ٹھہرایا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:

 (۱) تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ (۸)  (پ۲۶،  ق:  ۸)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: سوجھ اور سمجھ ہر رجوع والے بندے کے لئے۔

 (۲) وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ (۱۳)  (پ۲۴،  المؤمن:  ۱۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور نصیحت نہیں   مانتا مگر جو رجوع لائے۔

 (۳) اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ (۹)  (پ۲۳،  الزمر:  ۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: نصیحت تو وہی مانتے ہیں   جو عقل والے ہیں  ۔

 (۴) الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ (۲۰)  (پ۱۳،  الرعد:  ۲۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: وہ جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں   اور قول باندھ کر  (وعدہ کرتے)  پھرتے نہیں  ۔

        توبہ پر استقامت عہد پورا کرنا اور حدود سے  تجاوز کرنا عہد توڑنا اور سچائی کی کمی ہے،   انابت سے  مراد توبہ اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب متوجہ ہونا ہے اور الالباب سے  مراد پاکیزہ عقلیں   اور صاف ستھرے دل ہیں  ۔

قاری کے اوصاف: 

        قرآنِ کریم کی تلاوت کرنے والے کو چاہئے کہ٭...ڈرتا رہے،   خود کو اور ساری مخلوق کو نصیحت کرے٭... سلیم القلب ہو٭...جب ایسی آیاتِ مبارکہ تلاوت کرے جن میں   وعدہ،   مدح،   عمدہ اوصاف اور مقربین کے درجات کا ذکر ہو تو خود کو اس مقام پر فائز تصور نہ کرے اور نہ ہی خود کو اس قابل خیال کرے بلکہ دوسرے مومنین کو اس مقام ومرتبہ پر دیکھے اور صدیقین کو سلامتی کے مقام پر تصور کرے اور٭... جب ایسی آیات کی تلاوت کرے جن میں   لوگوں   پر ناراضی کا اظہار ہو،   ان کی مذموم صفات کا تذکرہ ہو اور غافلین کے مقامات اور گناہگاروں   کے حالات بیان کئے گئے ہوں   تو خود کو اس مقام پر سمجھے اور جانے کہ وہی ان آیاتِ مبارکہ کا مخاطب ہے۔

        پس تلاوت کرنے والا اس مشاہدہ سے  مخلوق کے لئے تو بھلائی کی امید رکھے گا مگر اپنے نفس پر خوف محسوس کرے گا اور اس تصور اور خیال سے  اس کا دل بندوں   کے لئے خالص ہو جائے گا۔

        امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے متعلق مروی ہے کہ آپ یہ دعا کیا کرتے تھے:  (اَللّٰھُمَّ اِنِّیْۤ اَسْتَغْفِرُكَ لِظُلْمِیْ وَ کُفْرِیْ)   ([1])  راوی فرماتے ہیں   کہ میں  نے ان سے  عرض کی: ’’اے امیر المومنین! یہ ظلم تو سمجھ میں   آتا ہے لیکن کفر کیا ہے؟ ‘‘  تو انہوں  نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:  ([2])

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ (۳۴)  (پ۱۳،  ابراھیم:  ۳۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بیشک آدمی بڑا ظالم بڑا ناشکرا ہے۔

        اگر کسی بندے پر معاملہ اس کے برعکس ہو،   یوں   کہ وہ خود کو مقامِ مدح و تعریف پر فائز سمجھے اور دوسروں   کو مقامِ ذم وناراضی پر تصور کرے تو جان لے کہ اس کا دل صادقین اور خائفین کے راستے سے  بھٹک چکا ہے،   خود بھی ہلاک ہو گا اور دوسروں   کو بھی برباد کرے گا کیونکہ جو قُرب میں   بُعد محسوس کرے خوف کے وقت محفوظ رہے گا اور جو بُعد میں   قُرب محسوس کرے بے خوف ہو کر خود کو دھوکا دے گا۔

سلف صالحین کا شوقِ تلاوت: 

        ایک بزرگ فرماتے ہیں   کہ میں   قرآنِ کریم کی تلاوت کیا کرتا مگر اس کی حلاوت نہ پاتا،   پھر ایک وقت آیا اور میری کیفیت یہ ہو گئی گویا یوں   محسوس ہوتا کہ میں   سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے سامنے تلاوت کرتے ہوئے سن رہا ہوں  ،   اس کے بعد ایک درجہ مزید بلند ہوا،   پھر جب مَیں   تلاوت کرتا تو یوں   لگتا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نزولِ وحی کے وقت حضرت سیِّدُنا جبرائیل امین عَلَیْہِ السَّلَام سے  قرآنِ کریم سن رہا ہوں  ،   اس کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ایسا مقام عطا فرمایا کہ اب میں   تلاوت کرتا ہوں   تو لگتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  قرآن سن رہا ہوں  ،   پس اس مقام پر میں  نے جو نعمت و لذت پائی ہے اس کے لئے ہر دم بے قرار رہتا ہوں ۔ ([3])

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  یا حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ اگر دل پاک ہو جائیں   تو لوگ تلاوتِ قرآنِ کریم سے  کبھی سَیر نہ ہوں  ۔  ([4])   حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں   کہ میں  نے 20 سال تک قرآنِ کریم میں   مشقت اٹھائی اور اب 20 سال ہوئے اس سے  لطف اندوز ہو رہا ہوں ۔  ([5])   علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ ہر آیت کے 60 ہزار معانی ہیں   جو عقل و فہم میں   آنے والے ہیں   اور جو عقل و سمجھ سے  بالاتر ہیں   وہ اس سے  بھی زیادہ ہیں  ۔ ([6])

 



[1]     ترجمہ: اے اللہ عَزَّ    وَجَلَّمیں تجھ سے اپنے بے جاعمل اور ناشکری کی بخشش چاہتا ہوں۔

[2]     الدر المنثور، پ۱۳، ابراهيم، تحت الاية ۳۴، ج۵، ص۴۵

[3]     حلية الاولياء، الرقم ۴۱۰ سالم الخواص، الحديث:۱۲۳۰۹، ج۸، ص۳۰۸مفھوماً

[4]     الزهد للامام احمد بن حنبل، زهد عثمان بن عفان، الحدیث: ۶۸۰، ص۱۵۴عن عثمان بن عفان

[5]     حلية الاولياء، الرقم  ۱۹۷ ثابت البناني، الحديث: ۲۵۷۴، ج۲، ص۳۶۴ القران بدله الصلاة

[6]     البرهان في علوم القران، النوع الهادي والاربعون، ج۲، ص۱۷۱



Total Pages: 332

Go To