Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

ارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی کتاب کا علم حاصل کرو اور اس کی تعلیمات پر عمل کرو کہ اس میں   اس سے  نکلنے کا راستہ ہے۔ ‘‘  آپ فرماتے ہیں   کہ میں  نے دوبارہ یہی عرض کی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی کتاب کا علم حاصل کرو اور اس کی تعلیمات پر عمل کرو کہ اسی میں   اس سے  نکلنے کا راستہ ہے۔ ‘‘  میں  نے پھر عرض کی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی کتاب کا علم حاصل کرو اور اس کی تعلیمات پر عمل کرو کہ اسی میں   نجات ہے۔ ‘‘  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تین مرتبہ یہی ارشاد فرمایا۔    ([1])

        امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں   کہ رسولِ بے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے کوئی ایسی شے نہیں   بتائی جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے لوگوں   سے  چھپائی ہو مگر یہ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کو اپنی کتاب کی سمجھ عطا فرما دے۔ ([2])

        آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  یہ قول بھی مروی ہے کہ جو فہم و ادراک رکھے وہی مجمل باتوں   کی تفسیر کرے۔  ([3])

        حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرمانِ عالیشان  (وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًاؕ- (پ۳،  البقرۃ:  ۲۶۹) )   ([4])  کی تفسیر میں   فرماتے ہیں   کہ یہاں   خیر کثیر سے  مراد اللہ عَزَّ وَجَلَّکی کتاب کا سمجھنا ہے۔ ([5])

            اللہعَزَّ وَجَلَّنےاپنے فرمانِ عالیشان  (فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَۚ-وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا٘- (پ۱۷،   الانبیاء:  ۷۹) )   ([6])  میں   فہم کو حکم اور علم سے  بلند مرتبہ عطا فرمایا ہے اور اسے  خاص کرنے کے لئے اس کی نسبت اپنی جانب فرمائی۔ پس جب بندہ کلام سمجھنے لگے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے  اس کا عامل بھی بنا دے تو وہ جو کہے گا واقع ہو جائے گا بشرطیکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے  ہو اور محض اس کے قول کی حکایت کرنے والا نہ ہو۔ مثلاً قرآنِ مجید سے  جب یہ آیتِ مبارکہ تلاوت کرے گا:  (اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (۱۵)  (پ۱۱،   یونس:  ۱۵) )   ([7])  تو یقیناً اس عظیم دن سے  ڈرنے والا بھی ہو گا اور جب یہ آیتِ مبارکہ تلاوت کرے گا:   (عَلَیْكَ

تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا (پ۲۸،  الممتحنۃ:  ۴) )   ([8])  تو توبہ کرنے والا اور توکل کرنے والا بھی ہو گا اور جب یہ آیتِ مبارکہ تلاوت کرے گا:  (وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَاؕ- (پ۱۳،  إبراھیم:  ۱۲)  )   ([9]) تو بے شک  مصیبت و تکلیف پر صبر کرنے والا بھی ہو گااور اگر وہ اس قول کے قائل یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکی معرفت سے  آگاہ نہ ہو گا تو نہ تلاوت کی حلاوت پائے گا اور نہ ہی اس کی میراث اور اگر وہ آگاہ ہو گا تو تلاوت کی حلاوت بھی پائے گا اور مرتبۂ ولایت پر بھی فائز ہو گا۔

            اسی طرح اگر ایسی آیاتِ مبارکہ کی تلاوت کرے جن میں   کسی کی مذمت مذکور ہو یا ناراضی کا اظہار ہو مثلاً:

 (۱) وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ (۱)  (پ۱۷،  الانبیاء:  ۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور وہ غفلت میں   منہ پھیرے ہیں  ۔

 (۲) فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى ﳔ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ (۲۹)  (پ۲۷،  النجم:  ۲۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو تم اس سے  منہ پھیر لو جو ہماری یاد سے  پھرا اور اسنے نہ چاہی مگر دنیا کی زندگی۔

 (۳) وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ (۱۱)  (پ۲۶،  الحجرات:  ۱۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور جو توبہ نہ کریں   تو وہی ظالم ہیں  ۔

        وہ بندہ کتنا برا ہو گا جو اِن برائیوں   سے  متصف ہو اور اِس پڑھنے والے کا شمار بھی انہی لوگوں   میں   ہو اور یہ بات کتنی عظیم ہے کہ قرآنِ کریم میں   ایسے  برے اوصاف رکھنے والوں   کی مذمت بیان کی گئی ہے اور یہ پڑھنے والا بھی انہی میں   سے  ہے۔ پس قرآنِ کریم کی یہ آیاتِ مبارکہ اس قاری کے خلاف حجت ہیں   اور وہ ان عیوب کی موجودگی میں   نہ تو مناجات کی حلاوت پاتا ہے اور نہ ہی جس ہستی سے  مناجات کی جاتی ہیں   اس کا خطاب سنتا ہے کیونکہ اس کی مذموم صفاتنے اس پر حجاب ڈال رکھا ہے ٭اس کی تباہ کن خواہشِ نفسنے اسے  فہم کی حقیقت سے  محروم کر دیا ہے ٭اس کی قساوتِ قلبی نے اس کا رخ قرآن فہمی سے  موڑ دیا ہے اور٭ اس کو اپنی حالت کے متعلق کذب بیانینے بیان سے  دور کر کے اس کا منہ بند کر دیا ہے۔ پس جب وہ بیدار دل اور بارگاہِ الٰہی کی طرف متوجہ ہونے والا ہو گا تو سچے دل سے  توبہ کرنے والا بھی ہو گا اور واضح خطاب بھی سنے گا اور اس کی دعا بھی قبول کی جائیگی۔

توبہ کی شرائط: 

 



[1]     المستدرک، کتاب الفتن والملاحم، باب تکون فتن علي ابوابها  دعاة الي النار، الحديث:۸۳۷۹، ج۵، ص۶۱۶مختصراً

[2]     صحيح مسلم، کتاب الاضاحي، باب تحريم الذبح، الحديث:۱۹۷۸، ص۱۰۳۱ سنن النسائي، کتاب القسامة، باب سقوط القود، الحديث: ۴۷۴۸، ص۲۳۹۵

[3]     موسوعة لابن ابی الدنيا، کتاب اليقين، الحدیث: ۴، ج۱، ص۲۰

[4]     ترجمۂ کنز الایمان: اور جسے حکمت ملی اُسے بہت بھلائی ملی۔

[5]     سنن الدارمي، کتاب فضائل القران، باب فضل من قرا القران، الحديث:۳۳۳۳، ج۲، ص۵۲۸ عن ابراهيم

[6]     ترجمۂ کنز الایمان: ہم وہ معاملہ سیلمان کو سمجھا دیا اور  دونوں کو حکومت  اور علم عطاکیا۔

[7]

Total Pages: 332

Go To