Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خاص بندے اسی طرح آیاتِ مبارکہ دل میں   بار بار پڑھتے رہتے ہیں   اور ان کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مدد سے  مشاہدات حاصل کرتے ہیں  یہا ں   تک کہ فہم و ادراک جب چاروں   طرف سے  ان کا احاطہ کرتا ہے تو بحرِ علم میں   ڈوب جاتے ہیں  ۔ اگر تلاوت کرنے والے کا مشاہدہ یہ مقام ومرتبہ حاصل نہ کر سکے تو اسے  یہ مشاہدہ کرنا چاہئے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  اُسی کے کلام کے ذریعے مناجات کر رہا ہے اور اِن مناجات کے ذریعے اُسے  راضی کرنے میں   مصروف ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اسے  اسی کی زبان میں   مخاطب کیا ہے اور اس کی زبان کی تحریک اور آواز سے  اس سے  کلام فرمایا ہے تا کہ اسے  جو علم دیا گیا ہے اس کے ذریعے اس کے کلام کو سمجھ سکے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی حکمت اور رحمت سے  عطا کردہ فہم کے ذریعے اس کا شعور حاصل کرے کیونکہ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے  اپنی شان کے مطابق ایسا کلام کرتا جس کا ادراک کان کر سکتے تو عرش اپنی جگہ برقرار رہتا نہ فرش،   بلکہ عرش و فرش کے مابین تمام اشیاء اس کی قدرت کی عظمت اور انوار کی تجلیات سے  فنا ہو جاتیں  ۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اسے  عقلوں   سے  چھپا دیا اور دلوں   پر پردہ ڈال دیا۔ البتہ! دلوں   کی خاطر عقلی علوم ظاہر فرما دیئے اور عقلوں   کو اپنے لطف و کرم اور رحمت و احسان سے  عقلی باتوں   کی پہچان عطا فرما دی۔

نیکی کی دعوت دینے کا منفرد انداز: 

            سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے واقعات میں   سے  ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے صدیقین اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام میں   سے  ایک ولی کو زمانۂ فترت  (دو نبیوں   کے درمیان کا زما نہ)  میں   ایک جابر بادشاہ کی جانب بھیجا گیا تا کہ وہ اسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی وحدانیت اور انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شریعت کی دعوت دیں  ۔ بادشاہنے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس برگزیدہ بندے سے  توحید کے متعلق کئی سوال کئے اور وہ بادشاہ کی سوجھ بوجھ کے مطابق جواب دیتے رہے اور ایسی ضرب الامثال بیان کرتے رہے جو عام طور پر لوگوں   میں   معروف تھیں   تا کہ بادشاہ ان امثال کو سمجھ سکے یہاں   تک کہ بادشاہنے ان سے  عرض کی:  ’’ آپ کا اپنے اس دعویٰ کے متعلق کیا خیال ہے کہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جو کلام لے کر مبعوث ہوئے وہ نہ تو لوگوں   کا کلام ہے اور نہ ہی ان کی آرا کا اس میں   کوئی عمل دخل ہے،   تو کیا وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا کلام ہے؟ ‘‘  تو اس حکیم و دانا شخص نے فرمایا کہ’’ ہاں  ! وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ہی کلام ہے۔ ‘‘ 

            بادشاہنے عرض کی:  ’’  (اگر یہ اس قدر عظمتوں   والے ربّ کا کلام ہے)  تو پھر لوگوں   کے لئے اس کلام کو اٹھانا کیسے  ممکن ہے؟  ‘‘  تو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ولینے بادشاہ کو سمجھانے کے لئے ایک مثال دی کہ ہم لوگوں   کو دیکھتے ہیں  ،   جب وہ جانوروں   اور پرندوں   کو کوئی بات سمجھانا چاہتے ہیں  : مثلاً چاہتے ہیں   کہ وہ آگے آئیں   یا پیچھے ہوں   یا اِدھر اُدھر ہوں   تو جانور اور پرندے چونکہ لوگوں   کی زبان نہیں   سمجھتے،   لہٰذا لوگوں  نے اِنہیں   سمجھانے کے لیے ایسے  طریقے اختیار کر رکھے ہیں   جنہیں   وہ سمجھتے ہیں   مثلاً چٹکی وسیٹی بجانا اور ڈانٹنا وغیرہ۔ پس وہ فوراً اس آواز کو سمجھ جاتے ہیں  ۔ یہی حالت لوگوں   کی بھی ہے کہ ان کا اللہ عَزَّ وَجَلَّکے کلام کو اس کے کمال و اوصاف کی حقیقت کے ساتھ اٹھانا ممکن نہیں   بلکہ انہوں  نے بھی کلام کی خاطر ایسی آوازیں   مقرر کر رکھی ہیں   جن کے ذریعے وہ حکمت سے  بھرپور کلام کو سن سکیں  جیسا کہ جانور لوگوں   کی ڈانٹ ڈپٹ اور سیٹی وغیرہ کی آوازیں   سنتے ہیں  ،   یہ بات ان آوازوں   میں   پوشیدہ حکمت کے معانی و مفاہیم کے مانع نہیں   کیونکہ اس کلام کی عظمت و شرافت اسی حکمت کے سبب ہے۔ لہٰذا آوازیں   حکمت کے لئے ایک جسم اور مکان کی حیثیت رکھتی ہیں   اور حکمت آواز کے لئے روح کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس طرح انسانی اجسام کی عزت و تکریم ان میں   موجود روح کی وجہ سے  ہے اسی طرح کلام کی اصوات و آوازوں   کی عزت و تکریم ان میں   موجود حکمت کی وجہ سے  ہے۔ کلام کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند ہے،   وہ بادشاہ کے غلبہ کی حیثیت رکھتا ہے اور حق و باطل میں   حکم کا نافذ کرنے والا ہے اور یہ عادل قاضی بھی ہے اور شاہد بھی،   جو نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے  منع کرتا ہے۔ باطل کی مجال نہیں   کہ حکمت سے  بھرپور کلام کے سامنے ٹھہر سکے جیسا کہ سایہ سورج کا سامنا کرنے کی طاقت نہیں   رکھتا اور کسی انسان کے بس میں   بھی نہیں   کہ وہ حکمت کی گہرائی تک رسائی حاصل کر سکے جیسا کہ یہ ممکن نہیں   کہ کسی کی آنکھیں   سورج کی جانب دیکھ سکیں  ۔ البتہ! آنکھیں   سورج کی شعاعوں   سے  حیات بخش قدرت ضرور حاصل کرتی ہیں   اور لوگ اپنی حاجات بھی اس کی روشنی میں   ہی پوری کرتے ہیں  ۔ پس کلام کی مثال اس بادشاہ جیسی ہے جو پردے کے پیچھے ہو اس کا چہرہ تو چھپا ہوا ہو لیکن اس کے حکم کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہو جیسا کہ سورج کی حرارت تو ظاہر ہوتی ہے لیکن اس کا محل اور عنصر چھپا ہوا ہوتا ہے اور جیسا کہ روشن ستارے جن سے  وہ شخص راہنمائی حاصل نہیں   کر سکتا جو ان کے راز سے  آگاہ نہیں  ۔ پس کلام اس سے  بھی بڑھ کر اشرف و اعلیٰ ہے،   یہ تو عمدہ خزائن کی چابی،   بلند و بالا محلات کا دروازہ اور اعلیٰ درجات کے حصول کی سیڑھی ہے،   آبِ حیات ہے جس نے ایک بار پیا پھر اسے  موت نہ آئی،   بیماریوں   کی ایسی دوا ہے کہ جس نے کچھ دوا بھی پی لی کبھی بیمار نہ ہوا،   اگر حقیقت سے  ناآشنا کوئی شخص کلامِ باری تعالیٰ کو اپنا حقیقی لباس بنا لے تو وہ اس میں   پوشیدہ بھید ظاہر کر سکتا ہے اور اگر کوئی شخص اس کا لبادہ تو اوڑھ لے مگر اس کا اہل نہ ہو تو وہ بھی اہل بن جاتا ہے۔‘‘ 

            اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حکمتوں   سے  آگاہ اس شخص نے کہ جس سے  بادشاہ مخاطب تھا،   بادشاہ کو یہ جواب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اِذن سے  دیااور در حقیقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کلام کا یہی وصف ہے جسے  اسنے ہمارے لئے نشانی،   عبرت،   نعمت اور رحمت مقرر کر رکھا ہے۔ غور کریں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس ولینے کلامِ باری تعالیٰ کو سمجھنے میں   کیسے  انسانی عقلوں   کو جانوروں   اور پرندوں   کے سیٹی وغیرہ کے ذریعے سمجھنے کے ہم پلہ قرار دیا ۔ سیٹی وغیرہ کے ذریعے چوپایوں   اور پرندوں   کو انسان کا سمجھانا ایک مثال ہے کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی انسانوں   کو الہام کے ذریعے اپنے جلیل القدر کلام کے معانی اسی طرح سمجھاتا ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ (۱۰۰)  (پ۱۳،   یوسف:  ۱۰۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بیشک میرا رب جس بات کو چاہے آسان کردے بیشک وہی علم و حکمت والا ہے۔

            لطیف ہونا اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ایک لا متناہی قدرت اور اس کی بے شمار حکمتوں   میں   سے  ایک پختہ و محکم حکمت ہے۔ یقیناً وہ حکمت والا اور علم والا ہے۔ پس بندے کو دیکھنا چاہئے کہ سورۂ فاتحہ سے  لے کر آخر قرآن تک سب کا مقصود ایک ہی ہے جس کو سمجھانے کی خاطر مثالیں   بیان کی گئی ہیں  ،   اس میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے تمام اوصاف کا تذکرہ ہے۔

            اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآنِ کریم کے نازل کرنے میں   اہلِ ایمان اور حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو ایک معنی کے اعتبار سے  مساوی خطاب فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

 (۱) وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-  (پ۲،  البقرة:  ۲۳۱)

 



Total Pages: 332

Go To