Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرمانِ عالیشان:  (وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُؕ- (پ۱،  بقرة:  ۷۴)) ([1]  ) کی تفسیر میں   منقول ہے کہ یہاں   زیادہ رونے والی آنکھ مراد ہے اور  (وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُ جُ مِنْهُ الْمَآءُؕ- (پ۱،  بقرة:  ۷۴) )   ([2]) سے  مراد کم رونے والی آنکھ ہے اور  (وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِؕ-  (پ۱،  بقرة:  ۷۴) )   ([3]) سے  مراد دل کا رونا ہے کہ جس میں   آنکھ سے  آنسو نہیں   بہتے۔ ([4])

رونا کہاں   ہے؟

            حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں  :  ’’میں  نے خواب میں   دیکھا گویا کہ میں   بارگاہِ نبوت میں   حاضر ہوں   اور قرآنِ کریم کی تلاوت کر رہا ہوں  ،   جب میں   پڑھنے سے  فارغ ہوا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے استفسار فرمایا: ’’یہ تو محض قرآنِ کریم کی تلاوت تھی،   رونا کہاں   ہے؟  ‘‘  ([5])

            حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے: اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! قرآنِ کریم پر ایمان رکھنے والا جو بندہ صبح کے وقت قرآنِ کریم کی تلاوت کرتا ہے اس کا غم زیادہ اور خوشی کم ہو جاتی ہے،   اس کا رونا کثیر اور ہنسنا قلیل ہو جاتا ہے،   اس کی مشقت و مصروفیات بڑھ جاتی ہیں   اور اس کی راحت اور فارغ البالی کم ہو جاتی ہے۔  ([6])

قاریوں   کے درجات: 

            تلاوت کرنے والے تین طرح کے ہیں  :

 (۱)  اَلْعَارِفِیْنَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْن: سب سے  بلند مقام و مرتبہ انہی کا ہے،   یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی صفات کا اس کے کلام میں   مشاہدہ کرتے ہیں   اور اس کے اوصاف کو اس کے خطاب کے معانی و مفاہیم سے  پہچان لیتے ہیں  ۔ یہ مرتبہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے مقربین یعنی عارفین کا ہے۔

 (۲)  اَلْاَبْرَار مِنْ اَصْحَابِ الْیَمِیْن: بعض وہ لوگ ہیں   جو اپنے ربّ کے مشاہدے میں   مصروف رہتے ہیں  ،   اسی کے لطف و کرم سے  مناجات کرتے ہیں   اور اسی کے انعامات و احسانات سے  اس سے  کلام کرتے ہیں  ،   ان کا مقام حیا و تعظیم اور حالت کلامِ باری تعالیٰ کو سننا اور سمجھنا ہے۔ یہ مرتبہ اصحابِ یمین یعنی نیک لوگوں   کا ہے۔

 (۳)  اَلْمُعْتَرِفِیْن وَ الْمُرِیْدِیْن مِنْ اَصْحَابِ الْیَمِیْن:  بعض لوگ خود کو ربّ عَزَّ وَجَلَّسے  مناجات کرتے ہوئے پاتے ہیں  ،   ان کا مقام اور حالت اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  مانگتے رہنا،   اس کی حمد و ثنا کرتے رہنا اور اس کی بارگاہ سے  چمٹے رہنا ہے۔ یہ مقام ومرتبہ معترفین اور مریدین کا ہے،   یہ لوگ اصحابِ یمین میں   سے  خاص ہیں  ۔

 (6) … مشاہدۂ حق بذریعہ قرآنِ کریم : 

            تلاوت کے دوران بندے کو چاہئے کہ اس بات کا مشاہدہ کرے کہ اس کا ربّ عَزَّ وَجَلَّاس سے  اپنے کلام  (یعنی قرآنِ کریم)  کے ذریعے مخاطب ہے کیونکہ قرآنِ مجید اللہ عَزَّ وَجَلَّکا کلام ہے اور بندے کی یہ مجال نہیں   کہ وہ کلامِ باری تعالیٰ کے موافق کوئی بات کرے بلکہ اس کا کام تو صرف زبان کو حرکت دینا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّنے بھی بندے کی زبان پر اپنے کلام کو ایک خاص حد تک آسان فرمایا ہے۔ جیسا کہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ایک درخت کے سامنے کھڑے ہوتے اور اس درخت سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّکے کلمات کا اظہار ہوتا۔

قرآنِ کریم کا ہر حرف کوہِ قاف سے  بڑا ہے: 

            منقول ہے کہ لوحِ محفوظ میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے کلام کا ہر حرف کوہِ قاف سے  بڑا ہے،   اگر تمام فرشتے مل کر ایک حرف اٹھانا چاہیں   تو وہ اس کی طاقت نہ رکھیں   گے،   یہاں   تک کہ حضرت سیِّدُنا اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام تشریف لائیں   گے جو کہ لوحِ محفوظ پر مقرر ہیں   اور اسے  اٹھا لیں   گے،   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت اور اس کے اذن سے  اس کا وزن کم ہو جائے گا کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے انہیں   اس بات کی طاقت دے رکھی ہے اور انہیں   اس پر عامل مقرر کر رکھا ہے۔ ([7])

            حضرت سیِّدُنا امام جعفر بن محمد صادق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے کلام کی صورت میں   لوگوں   پر تجلی فرمائی مگر وہ ہیں   کہ اس کی جانب دیکھتے ہی نہیں  ۔ ([8])

            ایک مرتبہ نماز پڑھتے ہوئے حضرت سیِّدُنا امام جعفر بن محمد صادق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کیفیت عجیب ہو گئی یہاں   تک کہ بے ہوش ہو گئے،   جب افاقہ کے بعد ان سے  اس کا سبب دریافت کیا گیا تو انہوں  نے ارشاد فرمایا: ’’میں   بار بار ایک ہی آیتِ مبارکہ پڑھ رہا تھا کہ اچانک میں  نے وہی آیتِ مبارکہ متکلم  (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ)  سے  سنی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قدرت و ہیبت کے سامنے میرا جسم اپنی جگہ قائم نہ رہ سکا۔ ‘‘  ([9])

 



[1]     ترجمۂ کنز الایمان: اور پتھروں میں تو کچھ وہ ہیں جن سے ندیاں بہہ نکلتی ہیں۔

[2]     ترجمۂ کنز الایمان: اور کچھ وہ ہیں جو پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلتا ہے۔

[3]     ترجمۂ کنز الایمان: اور کچھ وہ ہیں کہ اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں۔

[4]     تفسير القران العظيم لابن کثير، البقرة، تحت الاية ۷۴، ج۱، ص۱۹۹

[5]     تاريخ مدينة دمشق، الرقم ۸۲۳۵يزيد بن ابان الرقاشی، ج۶۵، ص۸۴ قول يزيد الرقاشی

[6]     الزهد للامام احمد بن حنبل، اخبار الحسن بن ابی الحسن، الحديث: ۱۴۵۳، ص۲۶۹ بتغير و بالاختصار

[7]     روح المعانی، پ۲۹، المزمل، تحت الایة  ۵، الجزء التاسع والعشرون، ص۱۶۴

[8]     المرجع السابق، المقدمة، الجزء الاول، ص۱۲

[9]     مرقاة المفاتيح شرح مشکاة المصابيح، کتاب العلم، الفصل الاول، تحت الحديث: ۲۰۴، ج۱، ص۴۵۶



Total Pages: 332

Go To