Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            شہنشاہِ خوش خِصال،   پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے متعلق مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے  (بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ)  کو 20 بار پڑھا اور ہر بار آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ایک نئی فہم حاصل ہوئی اور ہر کلمے سے  ایک نیا علم حاصل ہوا۔  ([1])

            بہتر یہ ہے کہ ہر ہر کلمہ کو درست مخارج کے ساتھ پڑھتے وقت تلاوت کرنے والے کا دل اس کے معنی پرغور وفکر کرتا جائے یہاں   تک کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّان کلمات سے  وابستگی کے سبب اس پر مزید حقائق کھول دے۔ اس کے ساتھ ساتھ بندے کو چاہئے کہ مزید باتوں   میں   بھی غورو فکر کرے اور ان کا مشاہدہ کرتا رہے۔ ایک بزرگ کا قول ہے کہ جس آیتِ مبارکہ کی مَیں   تلاوت کروں   لیکن اسے  سمجھ نہ سکوں   اور نہ ہی میرا دل اس میں   مشغول ہو سکے تو میں   اسے  اپنے لئے قابلِ ثواب نہیں   سمجھتا۔

جیسا کلام ویسا عمل: 

            بعض سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن جب کوئی سورت تلاوت فرماتے اور ان کا دل اس میں   مشغول نہ ہوتا تو وہ دوبارہ اس سورت کو دہرایا کرتے اور جب آیتِ کریمہ میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی پاکی بیان کرنے اور بڑائی بیان کرنے کا تذکرہ آتا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی پاکی و بڑائی بیان کرتے،   اگر دعا و استغفار کا تذکرہ ہو رہا ہوتا تو دعا و استغفار کرنے لگتے اور اگر خوف اور امید کا تذکرہ ہوتا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ مانگتے اور خیر وبھلائی کا سوال کرتے۔ پس اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمانِ عالیشان کا یہی مفہوم ہے:

یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖؕ- (پ۱،  البقرۃ:  ۱۲۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان:  وہ جیسی چاہئے اسکی تلاوت کرتے ہیں  ۔

            سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی دورانِ تلاوت ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک روایت میں   آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جو قرآنِ کریم کو اسی طرح ترو تازہ پڑھنا چاہے جیسا یہ نازل ہوا تو ابن ام عبد کے پڑھنے کی طرح پڑھا کرے۔ ‘‘  ([2])

            اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ حاضر دلی،   بھرپور سماعت اور باریک بینی سے  قرآنِ کریم کی تلاوت کیا کرتے گویا کہ معانی و مفاہیم کے مطابق اور متکلم عَزَّ وَجَلَّکے اوصاف کا مشاہدہ کرتے ہوئے قرآنِ کریم کی تلاوت کر رہے ہوں  ،   یعنی وہ دورانِ تلاوت تذکرۂ وعید پر غمزدہ ہو جاتے،   وعدہ کی نوید پر شوق کا اظہار کرتے،   خوف والی آیاتِ بینات سے  نصیحت حاصل کرتے،   سختی کا اظہار کرنے والی آیات سے  ڈرتے،   نرمی پر کھل جاتے اور توفیق سے  خوش ہوتے کیونکہ وہ متکلم عَزَّ وَجَلَّکی صفات سے  آگاہ تھے اور کلمات کی ادائیگی کا بہترین لطف اٹھاتے تھے۔

 (4) … تلاوت کرتے وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  ڈرنا: 

            بندے کو چاہئے کہ قرآنِ کریم کو اچھی آواز سے  پڑھے۔ چنانچہ،   

            شہنشاہِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کا فرمانِ فضیلت نشان ہے: ’’لوگوں   میں   آواز کے لحاظ سے  قرآنِ کریم کو سب سے  بہتر پڑھنے والا وہ ہے کہ جب قرآنِ کریم کی تلاوت کر ے تو تم اسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  ڈرتا ہوا پاؤ۔ ‘‘   ([3])

 (5) … دورانِ تلاوت رونا یا رونے جیسی صورت بنانا: 

            منقول ہے:  ’’جب قرآنِ کریم کی تلاوت کیا کرو تو رویا کرو اور رَو نہ سکو تو رونے جیسی صورت بنا لیا کرو۔ ‘‘  ([4])

            ایک روایت میں   ہے کہ قرآنِ کریم غم کے ساتھ نازل ہوا،   پس جب تم اس کی تلاوت کیا کرو تو غمزدہ ہو جایا کرو کیونکہ قرآنِ کریم میں   وعدہ و وعید اور اس قسم کی سزاؤں   کا تذکرہ ہے جن پر آہ و بکا کرنا لازم ہے۔ اگر وجدانی کیفیات کی وجہ سے  غمزدہ نہ ہو سکو اور نہ ہی دل سے  رونا آئے تو محض تصدیقِ قلبی اور اقرار کی خاطر ظاہری طور پر غمزدہ بن جاؤ اور رونے جیسی صورت بنا لو۔  ([5])

            تلاوتِ قرآنِ کریم میں   غم اور رونے والی صورت بنانے پر ابھارنا اس لیے ہے کہ بندہ تلاوت میں   مگن ہونے کے سبب تدبر و تفکر کرے گا تو ممکن ہے اس کا دل بھی حقیقت میں   ایسا ہی ہو جائے۔ پس اس صورت میں   یہ رونے و غم والی صورت بنا لینا ہی دل میں   یادِ الٰہی کو بسانے اور غیر اللہ سے  اس کو خالی کرنے کا سبب بن جائے گا کیونکہ حقیقی رونےجیسی صورت بنانے والا اپنے اس دکھ کا اظہار کرتا ہے جس کے سبب وہ رو رہا ہوتا ہے اور غم میں   مبتلا شخص دل کے حاضر ہونے اور فکر کے مجتمع ہونے کے سبب رلانے والی شے کے سوا بقیہ ہر شے سے  غافل ہوجاتا ہے ۔

        حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  مروی ہے کہ جب سجدۂ سبحان پڑھو تو سجدے میں   جلدی نہ کرو یہاں   تک کہ رو لو۔ اگر کسی کی آنکھ نہ روئے تو اس کا دل رونا چاہئے ([6]) اور دل کے رونے سے  مراد اس کا غم اور خوف کی کیفیت میں   مبتلا ہونا ہے۔ یعنی اگر تمہیں   علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے فہمِ قرآن کی وجہ سے  رونے کی طرح رونا نہ آئے تو اس پر دل میں   دکھ اور درد محسوس کرو اور اس بات سے  ڈرو کہ تمہارے دلوں   میں   اہلِ علم جیسے  اوصاف کیوں   نہیں   ہیں  ۔

 



[1]     اخلاق النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لابی الشیخ، ذکر شدة اجتهاده     الخ، الحدیث: ۵۵۱، ص۱۱۱بتغیر

[2]     سنن ابنِ ماجه، کتاب السنة، باب فضل عبداللہ بن مسعود، الحدیث:۱۳۸، ص۲۴۸۵ المعجم الاوسط، الحدیث: ۲۴۰۴، ج۲، ص۳۳

[3]     سنن ابن ماجه، ابواب اقامة الصلوات، باب فی حسن الصوت بالقران، الحدیث:۱۳۳۹، ص۲۵۵۶

[4]     المرجع السابق، الحدیث:۱۳۳۷، ص۲۵۵۶

[5]     المرجع السابق  ,المعجم الکبیر، الحدیث:۱۰۸۵۲، ج۱۱، ص۶مفھوماً

[6]     التفسير الکبير للرازی، مريم، تحت الاية ۵۸، ج۷، ص۵۵۱



Total Pages: 332

Go To