Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            قرآنِ کریم میں   بہترین تدبر و ترتیل وہ ہے جو نماز میں   ہو۔ لہٰذا منقول ہے کہ نماز میں   تفکر کرنا نماز کے علاوہ تفکر کرنے سے  افضل ہے کیونکہ نماز اور تفکر دو الگ الگ عمل ہیں   اور تدبر وتفکر سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عظمتِ شان اور بزرگی کی وجہ سے  اس کے وعدہ ووعید اور امر ونہی وغیرہ کے احکام میں   غور و فکر کرنا مراد ہے۔

            رسولِ بے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  عرض کی گئی کہ کون سی نماز افضل ہے؟ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’جس نماز میں   قیام طویل ہو۔ ‘‘  ([1])   اور ایک روایت میں   ہے کہ جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خاطر سجدہ کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کا ایک درجہ بڑھا دیتا ہے۔ ([2])

            شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خادم حضرت سیِّدُنا ابو فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  جنت میں   ساتھ رہنے کا سوال کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ کثرتِ سجود سے  میری معاونت کرو۔ ‘‘   ([3])

            حضرت سیِّدُنا ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ دن کے وقت سجدوں   کی کثرت اور رات کے وقت قیام طویل ہوتا ہے۔  ([4])

نماز اور قبر کی راحت: 

            منقول ہے کہ بندے کی قبر میں   ویسی ہی اطمینان و سکون والی کیفیت و حالت ہو گی جو اس کی نماز میں   ہوا کرتی تھی اور وہ اپنی اس آرام گاہ میں   ویسی ہی راحت پائے گا جیسی حالتِ نماز میں   پایا کرتا تھا۔

            اسی مفہوم کا ایک قول حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  بھی مروی ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب،   دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  جو ارشاد فرمایا تھا اس کا بھی یہی مفہوم ہے۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشا فرمایا:  ’’نماز کے ذریعے ہمیں   راحت دو۔ ‘‘   ([5])

 (2) … خشوع وخضوع سے  پڑھنا: 

            ایک بزرگ فرماتے ہیں   کہ میں    (نماز میں  )  ایک سورت شروع کرتا ہوں   اور  (دورانِ تلاوت)  مشاہدۂ حق میں   ایسا کھو جاتا ہوں   کہ صبح ہو جاتی ہے اور میں   کبھی  (لذتِ تلاوت یا مشاہدۂ حق سے ) سیر نہیں   ہو پاتا۔ حضرت سیِّدُنا سلیمان بن ابی سلیمان دارانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں   کہ انہوں  نے اپنے ایک بھائی حضرت سیِّدُنا ابنِ ثوبان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان کے پاس رات کا کھانا کھانے کا وعدہ کیا لیکن انہیں   دیر ہو گئی یہاں   تک کہ طلوعِ فجر کا وقت ہو گیا،   صبح کے وقت ان کے بھائی ملے تو عرض کی: ’’آپ نے میرے پاس رات کا کھانا کھانے کا وعدہ کیا تھا لیکن پورا نہیں   کیا۔ ‘‘  تو انہوں  نے ارشاد فرمایا: ’’ اگر تم سے  وعدہ نہ کیا ہوتا تو میں   تمہیں   کبھی نہ بتاتا کہ مجھے کیا مجبوری تھی،   میں  نے نمازِ عشا ادا کی تو خود سے  کہا: جانے سے  قبل وتر بھی ادا کر لوں   کیونکہ موت کا کوئی بھروسا نہیں  ۔ جب میں   وتر کی دعا میں   تھا میں نے اپنے سامنے ایک سر سبز باغ دیکھا جس میں   رنگا رنگ جنت کے پھول تھے،   میں   انہیں   ہی دیکھتا رہا یہاں   تک کہ صبح ہو گئی۔ ‘‘   ([6])

            اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے: 

اُولٰٓىٕكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُؕ- (پ۲۸،  المجادلۃ:  ۲۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: یہ ہیں   جن کے دلوں   میں   اللہنے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے  ان کی مدد کی۔

            منقول ہے کہ قرآنِ کریم اہلِ ایمان کے ایمان کو اپنے علوم سے  قوی اور طاقتور بناتا ہے کیونکہ یہ ایمان کی روح ہے اور اہلِ ایمان کے قوی ہونے سے  مراد ان کا اس پر عمل پیرا ہونا ہے۔

            کسی بزرگ سے  پوچھا گیا:  ’’ جب آپ قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے ہیں   تو کیا آپ کے دل میں   کسی شے کا خیال آتا ہے؟ ‘‘  تو انہوں  نے ارشاد فرمایا:  ’’کیا میرے نزدیک قرآنِ کریم سے  بڑھ کر بھی کوئی شے محبوب ہو سکتی ہے کہ جس کا خیال میرے دل میں   آئے؟ ‘‘ 

            ایک قول کے مطابق قرآنِ کریم میں   میدان،   باغات،   محلات،   دلہنیں  ،   دیباج  (ریشمی لباس) ،   باغیچے اور آرام گاہیں    (سرائے و ہوٹل)  ہیں  ۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں   موجود میمات  (یعنی حرفِ میم)  اس کے میدان ہیں  ،   حرفِ ”ر“ قرآنِ کریم کے باغات ہیں   اور ”ح“ اس کے محل ہیں  ،   مسبحات  (یعنی وہ کلمات جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی تسبیح پر دلالت کرتے ہیں  )  قرآنِ کریم کی دلہنیں   ہیں   اور لفظ ”حم “قرآنِ کریم کے دیباج ہیں  ،   مفصل سورتیں   اس کے باغیچے ہیں   اور اس کے سوا باقی سب کچھ اس کی سرائیں   ہیں  ۔ جب راہِ سلوک پر چلنے والا میدانوں   میں   گھومتا ہے باغوں   سے  پھل چنتا ہے،   محلات میں   داخل ہوتا ہے،   دلہنیں   دیکھتا ہے،   ریشمی لباس زیبِ تن کرتا ہے،   باغیچوں   کی سیر کرتا ہے اور سرائے میں   سکونت اختیار کرتا ہے تو ان تمام اشیاء کا مشاہدہ اس کا تعلق بقیہ جہان سے  توڑ دیتا ہے اور وہ جو کچھ دیکھتا ہے بس اسی پر ٹھہر جاتا ہے اور اسے  مَا بَقِیَ کی کچھ خبر نہیں   رہتی۔  ([7])

 (3) … غورو فکر کرتے ہوئے پڑھنا: 

 



[1]     صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرین، باب افضل الصلاة طول القنوت، الحدیث: ۱۷۶۹، ص۷۹۶

[2]     سنن النسائی، کتاب التطبیق، باب من سجد للّٰہ سجدة، الحدیث: ۱۱۴۰، ص۲۱۶۰

[3]     صحیح مسلم، کتاب الصلاة باب فضل السجود و الحث علیه، الحدیث: ۱۰۹۴، ص۷۵۴ سنن ابن ماجه، ابواب اقامة الصلوات، باب ما جاء فی کثرة السجود، الحدیث: ۱۴۲۲، ص۲۵۶۲

[4]     المصنف لابن ابی شیبة،کتاب صلاةالتطوع والامامة،باب الرکوع والسجود افضل ام القیام،الحدیث:۷،ج۲،ص۳۶ بتغیر

[5]     المسند للامام احمد بن حنبل، احادیث رجال من اصحاب النبی صلی اللہ علیه وسلم، الحدیث: ۲۳۱۴۹، ج۹، ص۳۹

[6]     تاریخ مدینة دمشق، الرقم ۳۷۷۳ عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان، ج۳۴، ص۲۵۷

[7]     الاتقان فی علوم القران للسیوطی، النوع السابع عشر، فائدة فی اعراب اسماء السور، ج۱، ص۸۱ بدون خانات البرهان فی علوم القران للزرکشی، النوع التاسع والعشرون، ج۱، ص۵۳۶



Total Pages: 332

Go To