Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

نقطے لگائے گئے تو علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے کہا: اس میں   کوئی حرج نہیں  ،   یہ تو قرآنِ کریم کا نور ہے۔ پھر آیاتِ مبارکہ کے ختم ہونے کے مقام پر علامات لگائی گئیں   تو انھوں  نے کہا کہ اس میں   بھی کوئی حرج نہیں   کیونکہ اس سے  آیات کی ابتدا کی پہچان ہوتی ہے۔ پھر آغاز و اختتام کی علامات کا اضافہ کیا گیا تو انہوں  نے کہا کہ اس میں   بھی کوئی حرج نہیں   کیونکہ یہ ان کی پہچان کی علامت ہیں  ۔ ([1])

”فہمِ قرآنِ کریم“ کے 11 حروف کی نسبت سے قرآنِ کریم کے فہم و ادراک سے  دور کرنے والی 11باتیں  

            جس شخص میں   ذیل کی باتوں   میں   سے  کوئی بات پائی جائے اسے  قرآنِ کریم کا وہ فہم و ادراک حاصل نہیں   ہو سکتا جو اس کی قوتِ مشاہدہ سے  حجاب دور کر دے اور ملکوت میں   اس کی قدر و منزلت ظاہر کر دے اور وہ باتیں   یہ ہیں  :

 (۱) … ادنیٰ درجے کی بدعت  (۲) … گناہوں   پر اصرار  (۳) … دل کا تکبر اور نفسانی خواہشات میں   مبتلا ہونا  (۴) … دنیا کی محبت  (۵) … ایمان کی ناپائداری  (۶) … یقین کی کمزوری  (۷) … اپنے علم کو کافی جاننا  (۸) … ظاہر معنٰی کی پیروی کرنا  (۹) … ظاہری عمل پر ڈٹ جانے والے مفسر کی تفسیر دیکھنا  (۱۰) … محض عقل کا استعمال اور  (۱۱) … قرآنِ کریم کے باطنی معانی اور حروفِ مقطعات کے راز کے بارے میں   اہلِ عرب اور اہلِ زبان کے مذاہب کے ذریعے فیصلہ کرنا۔

            یہ سب ایسے  لوگ ہیں   جن کی عقلوں   پر پردہ پڑا ہوا ہے،   ان کے وہ علوم مردود ہیں   جن میں   یہ مشغول ہیں  ،   ان کی عقلوں   میں   جو سما چکا ہے اسے  ہی کافی جانتے ہیں   اور اپنے علم و عقل کے سبب مزید خرابیوں   کا شکار ہوتے ہیں  ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو ایک ماننے والوں   کے نزدیک ایسے  لوگ علم و عقل کے شرک میں   مبتلا ہیں  ۔ پس یہ اس پوشیدہ شرک ہی کی ایک صورت ہے جو انتہائی آہستگی سے  پیدا ہوتا ہے جیسا کہ تاریک رات میں   کسی ٹیلے پر چیونٹی چڑھتی ہے۔

            حضرت سیِّدُنا محمد بن علی بن سنانہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی علمی و عقلی بات غیرکامل عقل کا نتیجہ ہے کیونکہ عقلِ کامل وہ ہوتی ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے  ہو اور اس کے حکم و کلام کا فہم و ادراک رکھتی ہو اور اس کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے کلام کو سمجھا جا سکتا ہو۔ چنانچہ، 

            رسولِ اَکرم،   شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ معظَّم ہے:  ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے  حاصل ہونے والی عقل یہ ہے کہ اس کے امر و نہی معلوم ہو جائیں  ۔ ‘‘   ([2])

            ایک مرتبہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’میری امت کے منافقین کی بہت بڑی تعداد قاری ہو گی۔ ‘‘  ([3])

            اس نفاق سے  غیر اللہ کی معیت کو کافی جاننا اور اس کی جانب دیکھنا مراد ہے اور اس سے  شرک اور قدرتِ باری تعالیٰ کا منکر ہونے والا نفاق مراد نہیں  ۔ ایسا بندہ عقیدۂ توحید سے  الگ نہیں   ہوتا اور نہ ہی وہ مزید مقام و مرتبہ کے حصول کی جانب بڑھتا ہے۔ لہٰذا جب بندے کی کیفیت یہ ہو کہ٭…وہ کانوں   کو بارگاہِ ربوبیت میں   لگانے والا ۹اس کے کلام کے راز کو غور سے  سننے والا ۹صفات کے معانی میں   غور کرنے کے لئے دل سے  حاضر٭…اس کی قدرت پر نگاہ جمانے والا٭…عقلی قیاسات اور علمی مباحث کو ترک کرنے والا٭…اپنی قوت و طاقت سے  براء ت کا اظہار کرنے والا٭…کلام کرنے والے کی عظمتِ شان کو پیشِ نظر رکھنے والا٭…اس کی بارگاہ میں   ہر وقت حاضر رہنے والا اور ۹حالِ مستقیم،   قلبِ سلیم،   پاکیزہ یقین اور علم کی قوت کے ساتھ فہم و ادراک کی حاجت رکھنے والا ہو تو یقیناً کلام سنے گا اور غیب کا مشاہدہ بھی کرے گا۔

تلاوتِ قرآنِ کریم کے آداب

 (1) … ترتیل سے  پڑھنا: 

            سب سے  بہتر قراء ت قرآنِ کریم کو ترتیل سے   (یعنی ٹھہر ٹھہر کر)  پڑھنا ہے کیونکہ ترتیل کے ساتھ پڑھنا حکمِ باری تعالیٰ پر عمل کرنا ہے اور یہ مستحب بھی ہے،   نیز اس میں   تدبر و تفکر کا بھی موقع مل جاتا ہے۔ چنانچہ،   

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے  مروی ہے کہ اُس عبادت میں   کوئی بھلائی نہیں   جس میں   علم نہ ہو اور اس قراء ت میں   بھی کوئی خیر نہیں   جس میں   تدبر نہ ہو۔

            حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں   کہ میرا ترتیل سے  اور غورو فکر کرتے ہوئے سورۂ بقرہ اور آل عمران پڑھنا مجھے اس بات سے  زیادہ پسند ہے کہ میں   پورا قرآنِ کریم ھَدْر سے   (یعنی معانی پر غور کیے بغیر

جلدی جلدی)  پڑھوں  ۔ ([4]) اور ایک قول میں   ہے کہ مجھے سورۂ بقرہ اور آلِ عمران ھَدْر سے  پڑھنے کے بجائے سوچ سمجھ کر اذا زلزلت اور القارعۃ پڑھنا زیادہ محبوب ہے۔

            حضرت سیِّدُنا مجاہد عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَاحِد سے  عرض کی گئی کہ دو بندے نماز شروع کریں  ،   دونوں   کے قیام کی مقدار برابر ہو لیکن ان میں   سے  ایک سورۂ بقرہ پڑھے اور دوسرا پورا قرآنِ کریم  (تو کس کا ثواب زیادہ ہو گا) ؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’وہ دونوں   اجر و ثواب میں   برابر ہیں   کیونکہ ان کے قیام کی مقدار ایک جیسی ہے۔ ‘‘  ([5])

 



[1]     تفسیر القرطبی، باب ما جاء فی سور ترتیب القران، فصل فی وضع الاعشار، ج۱، ص۶۶

[2]     تاریخ مدینة دمشق، الرقم ۲۲۴۵ زرافة، ج۱۸، ص۴۵۰

[3]     المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن عمرو، الحدیث: ۶۶۴۴، ج۲، ص۵۸۷

[4]     السنن الکبریٰ للبیهقی، کتاب الصلاة، باب مقدار ما یستحب، الحدیث: ۴۰۶۰، ج۲، ص۵۵۵ دون قوله اٰل عمران مفھوماً

[5]     الزهد لابن مبارک، باب فضل ذکر اللہ، الحدیث: ۱۲۷۸، ص۴۵۳ مفھوماً



Total Pages: 332

Go To