Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

کے وقت بھی دو دو رکعت کر کے پڑھ سکتے ہیں  ۔  ([1])   جب رکوع میں   تسبیح کی تعداد شمار کرنا ہو تو گھٹنوں   پر رکھے ہوئے ہاتھوں   کی انگلیوں   سے  شمار کریں   اور سجدہ میں   زمین پر رکھی ہوئی انگلیوں   کی مدد سے  شمار کریں  ۔

            حضرت سیِّدُنا محمد بن جابر رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں   کہ میں  نے حضرت سیِّدُنا ابن مبارک رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے  نمازِ تسبیح کے متعلق پوچھا کہ جب میں   دونوں   سجدوں   کے بعد قیام کی خاطر زمین سے  سر اٹھاتا ہوں   تو کیا کھڑے ہونے سے  پہلے تسبیح پڑھوں  ؟ تو انہوں  نے فرمایا: نہیں  ! یہ قعدہ نماز کی سنت نہیں   ہے۔

            حضرت سیِّدُنا ابن ابی رزمہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ میں  نے حضرت سیِّدُنا ابن مبارک رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے  پوچھا :  ’’کیا تین تین مرتبہ  (سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم)  اور  (سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی)  بھی پڑھوں  ؟ ‘‘  تو انہوں  نے فرمایا کہ’’ ہاں   پڑھا کرو۔ ‘‘  میں  نے دوبارہ عرض کی: ’’اگر مجھ پر سجدۂ سہو لازم ہو جائے تو کیا سجدۂ سہو میں   بھی 10 بار تسبیح پڑھوں  ؟ ‘‘  تو انہوں  نے فرمایا: ’’نہیں  ،   کیونکہ یہ تسبیحات صرف 300 مرتبہ ہی ہیں    ([2])  اور میں   سورۂ فاتحہ کے بعد صَلَاۃُ التَّسْبِیح میں   20 سے  زائد آیات پڑھنا پسند کرتا ہوں  ۔ ‘‘ 

٭… ٭… ٭

فصل:  16

تلاوت اور آدابِ تلاوت کا بیان

  ختمِ قرآنِ کریم کی مدت: 

            مرید کے لئے مستحب یہ ہے کہ ہر ہفتے میں   دو قرآنِ کریم ختم کیا کرے،   ایک ختم دن کے وقت اور ایک رات کے وقت۔ دن کا ختم پیر کے روز نمازِ فجر کی دو رکعتوں   میں   یا ان کے بعد کرے اور رات کا ختم شبِ جمعہ مغرب یا اس کے بعد کرے تا کہ اس کا قرآنِ کریم ختم کرنا دن یا رات کے ابتدائی حصے میں   ہو کیونکہ اگر وہ رات کے وقت قرآن کریم ختم کرے گا تو فرشتے اس کے لئے صبح تک دعا کرتے رہیں   گے اور اگر دن کے وقت کرے گا تو رات تک اس کے لئے دعا کرتے رہیں   گے۔ پس یہ دو ایسے  وقت ہیں   جو مکمل طور پر رات اور دن کا احاطہ کر لیتے ہیں۔ چنانچہ،   

            تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: ’’اس شخص نے قرآنِ کریم سمجھا ہی نہیں   جس نے تین دنوں   سے  کم میں   ختم کیا۔ ‘‘   ([3])

            شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو حکم دیا کہ وہ سات دنوں   میں   ایک قرآنِ کریم ختم کیا کریں  ۔ ([4])  صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی ایک جماعت اسی طرح ہر جمعہ میں   ایک قرآنِ کریم ختم کیا کرتی تھی۔

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عثمان بن عفان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ شبِ جمعہ قرآنِ کریم کا آغاز فرماتے اور سورۂ بقرہ سے  لے کر سورۂ مائدہ تک پڑھتے،   شبِ ہفتہ سورۂ انعام سے  لے کر سورۂ ھود تک تلاوت فرماتے،   شبِ اتوار سورۂ یوسف سے  لے کر سورۂ مریم تک قراء ت کرتے،   شبِ پیر سورۂ طہ سے  لے کر سورۂ طٰسٓمٓ،   موسٰی و فرعون تک تلاوت فرماتے،   شبِ منگل سورۂ عنکبوت سے  لے کر سورۂ صٓ تک اور شبِ بدھ سورۂ تنزیل سے  لے کر سورۂ رحمٰن تک،   پھر شبِ جمعرات آخر تک پڑھ کر قرآنِ کریم ختم کیا کرتے۔  ([5])

            حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا اُبی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی اسی طرح سات دنوں   میں   ایک ختمِ قرآن کیا کرتے تھے۔ حضرت سیِّدُنا ابنِ مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے متعلق مروی ہے کہ وہ بھی سات دنوں   میں   قرآنِ کریم ختم کیا کرتے اور ہر رات میں   قرآنِ کریم کا ساتواں   حصہ تلاوت فرماتے۔ ([6])

            ایک جماعت کا روزانہ ختمِ قرآن کرنا بھی مروی ہے لیکن ایک گروہنے تین سے  کم دنوں   میں   ختمِ قرآن کو مکروہ کہا ہے اور معتدل راستہ وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا کہ ہر تین دن میں   ختم قرآن کیا جائے۔

قرآنِ کریم کی منزلیں   اور صحابۂ  کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن : 

            اگر قرآنِ کریم کی ایک منزل روزانہ پڑھی جائے تو یہ بہت بہتر ہے اور یہ سنت بھی ہے۔ نیز یہ دل کے موافق،   ترتیب کے لئے زیادہ بہتر اور فہم و ادراک کے زیادہ قریب ہے اور اگر چاہے تو ہر رکعت میں   قرآنِ کریم کا تیرھواں   یا چھبیسواں   حصہ پڑھے۔ اس طرح قرآنِ کریم کے 30 پاروں   میں   سے  ایک پارہ ہر ایک یا دو رکعتوں   میں   ہو جائے گا۔

قرآنِ کریم پر نقطوں   اور رموزِ اوقاف کی ابتدا: 

            منقول ہے کہ حجاج بن یوسفنے بصرہ و کوفہ کے قاریوں   کو جمع کر کے قرآنِ کریم پر نقطوں   اور رموزِ اوقاف لگانے کا حکم دیا تھا،   ان قاریوں   میں   حضرت سیِّدُنا عاصم جحدری،   حضرت سیِّدُنا مطر ورّاق اور حضرت سیِّدُنا شہاب بن شریفہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی    شامل تھے۔

            حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن ابی کثیر عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْکَبِیْر  سے  منقول ہے کہ قرآنِ کریم مصاحف میں    (نقطوں   اور رموزِ اوقاف وغیرہ سے )  خالی تھا،   پس سب سے  پہلے ”ب“ اور ”ت“ پر



[1]     جامع الترمذی، ابواب الوتر، باب ما جاء فی صلاة التسبیح، الحدیث: ۴۸۱، ص۱۶۹۱

[2]     المرجع السابق

[3]     جامع الترمذی، ابواب القراء ات، باب فی کم اقرا القران؟، الحدیث: ۲۹۴۹، ص۱۹۴۸

[4]     صحیح البخاری، کتاب فضائل القران، باب فی کم یقرا القران، الحدیث : ۵۰۵۴، ص۴۳۷

[5]     فضائل الصحابة للامام احمد بن حنبل،من فضائل عثمان،الحدیث:۸۵۰،ج۱،ص۵۱۷     المستطرف، الباب الثالث، ج۱، ص۳۳

[6]     المصنف لابن ابی شیبة، کتاب صلاة التطوع، باب فی القران کم یختم، الحدیث:۱۳، ج۲، ص۳۸۵ مفهومًا



Total Pages: 332

Go To