Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

یا ارشاد فرمایا کہ یہ دو رکعتیں   ان تمام کاموں   کی جامع ہیں  ۔  ([1])

وقت سحر مسجد جانے کی فضیلت: 

            متقدمین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کا طریقہ یہ تھا کہ وہ صبح صادق کے طلوع ہونے سے  پہلے مسجد تشریف لاتے اور نمازِ فجر تک وہیں   بیٹھے رہتے اور ایسا کرنا افضل سمجھتے۔ چنانچہ ایک تابعی کا قول ہے کہ میں   صبح صادق کے طلوع ہونے سے  پہلے مسجد گیا تو میں  نے حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو پایا کہ وہ مجھ سے  بھی پہلے تشریف لا چکے ہیں  ،   انہوں  نے مجھ سے  پوچھا: ’’اے میرے بھتیجے! اس وقت تجھے کس شےنے گھر سے  نکلنے پر مجبور کیا؟ ‘‘  میں  نے عرض کی:  ’’صبح کی نمازنے۔ ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:  ’’ میں   تجھے بشارت دیتا ہوں   کہ ہم اس وقت گھروں   سے  نکل کر مسجد میں   آ کر بیٹھنے اور پھر نمازِ فجر کا انتظار کرنے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں   جہاد کرنا سمجھتے یاارشاد فرمایا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے مَحبوب،   دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ مل کر جہاد کرنا شمار کرتے تھے۔ ‘‘  ([2])

قبولیتِ دعا کے اوقات: 

            دُعا کی قبولیت کے افضل اوقات چار ہیں  :  (۱)  سحر کے وقت  (۲)  طلوعِ آفتاب کے وقت  (۳)  غروبِ آفتاب کے وقت اور  (۴)  اذان و اقامت کے درمیان۔ رات دن میں سب سے  بہتر اور افضل اوقات فرض نمازوں   کی ادائیگی کے اوقات ہیں  ۔

اسمائے حسنیٰ سے  دعا کرنا: 

            جب کوئی اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  دعا کرے تو اس کے اسمائے حسنیٰ کے معانی کے وسیلہ سے  کرے کہ یہ اس کی صفات ہیں   اور وہ اس طرح دعا کرنے کو پسند فرماتا ہے اور اسنے ان اسمائے حسنیٰ کو ظاہر بھی اسی لئے فرمایا تا کہ دعا مانگنے والا ان کے وسیلہ سے  دعا مانگا کرے۔ مثلاً اس طرح دعا مانگی جائے:  ( یا جَبَّارُ! اُجْبُرْ قَلْبِیْ،   یا غَفَّارُ! اِغْفِرْ ذَنْبِیْ،   یارَحْمٰنُ! اَصْلِحْنِیْ،   یارَحِیْمُ! اِرْحَمْنِیْ،   یا تَوَّابُ! تُبْ عَلَیَّ،   یا سَلَامُ! سَلِّمْنِیْ)  

تر جمعہ : اے جبار! میرے دل کی کمی پوری کر دے،   اے غفار! میرے گناہ بخش دے،   اے رحمٰن! میری اصلاح فرما دے،   اے رحیم! مجھ پر رحم فرما،   اے توبہ قبول فرمانے والے! میری توبہ قبول فرما،   اے سلام! مجھے سلامتی عطا فرما۔

            مستحب یہ ہے کہ بندہ روزانہ ایک بار اللہ عَزَّ وَجَلَّکے 99 اسمائے حسنیٰ کے وسیلہ سے  دعا کیا کرے کیونکہ شہنشاہِ نُبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  مروی ہے کہ جو انہیں   شمار کرے گا جنت میں   داخل ہو گا۔  ([3])

اسمائے حسنیٰ یاد کرنے کا طریقہ: 

            اسمائے حسنیٰ قرآنِ کریم میں   متفرق مقامات پر مذکور ہیں  ۔ پس جو یقین رکھتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  ان کے وسیلہ سے  دعا کرے وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے پورا قرآنِ کریم ختم کیا۔ چونکہ اسمائے حسنیٰ قرآنِ کریم میں   بغیر ترتیب کے مذکور ہیں   لہٰذا اگر  (کسی کے لئے)  انہیں   زبانی یاد کرنا مشکل ہو تو حروفِ تہجی کے اعتبار سے  انہیں   شمار کر لے اور ہر حرف سے  شروع ہونے والے اسمائے حسنیٰ یاد کر لے مثلاً پہلے ”الف“ سے  شروع کرے اور دیکھے کہ اس حرف سے  کون سے  اسمائے حسنیٰ آتے ہیں   مثلاً اَللّٰہُ،   اَوَّلُ،   اٰخِرُ وغیرہ۔ اسی طرح ”ب“ اور پھر ”ت“ سے  جیسا کہ بَارِیُٔ،   بَاطِنُ اور تَوَّاب۔ البتہ! بعض حروف سے  اسمائے حسنیٰ کا پایا جانا مشکل ہو گا لہٰذا جن حروف سے  ممکن ہو ان سے  اسمائے ظاہرہ نکال کر انہیں   شمار کر لے اور جب وہ 99 ہو جائیں   تو یہی کافی ہے کیونکہ ایک حرف سے  کم و بیش دس اسمائے حسنیٰ مل جائیں   تو بھی حرج نہیں  ۔ اگر کسی حرف سے  کوئی اسم نہ ملے تو بھی کوئی حرج نہیں   بشرطیکہ تعداد پوری ہو گئی ہو تو حدیثِ پاک میں   مروی فضیلت حاصل ہو جائے گی۔

صلاۃُ التَّسْبِیْح: 

 (22) بندے کو چاہئے کہ ہفتہ میں   دو بار صَلَاۃُ التَّسْبِیح پڑھا کرے ایک مرتبہ دن میں   اور ایک مرتبہ رات میں۔ اس سے  مراد یہ ہے کہ چار رکعت نماز میں   300مرتبہ تسبیح پڑھی جائے۔ سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن یہ نماز پڑھا کرتے اور اس کی برکتیں   خوب جانتے تھے اور اس کی فضیلت کا بھی تذکرہ فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ،   

            حضرت سیِّدُنا ابن مبارک رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے  صَلَاۃُ التَّسْبِیح کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے جواب دیا کہ٭…  (سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ)  15مرتبہ پڑھیں ٭… پھر  (اَعُوذُ بِاللّٰہ،   بِسْمِ اللّٰہ) ،   سورۂ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی دوسری سورت پڑھنے کے بعد٭…10مرتبہ مذکورہ تسبیح٭…اس کےبعد رکوع اور  (رکوع کی تسبیحات کے بعد)  پھر٭…10  بار مذکورہ تسبیح پڑھیں ٭…پھر رکوع سے  سر اٹھانے کے بعد سجدہ میں   جانے سے  پہلے 10 مرتبہ٭…پھر سجدہ میں    (تسبیحاتِ سجدہ کے بعد)  10 مرتبہ پڑھیں  ٭…سجدہ سے  سر اٹھائیں   تو 10 مرتبہ٭…اور پھر دوسرے سجدہ میں   بھی  (تسبیحات کے بعد)  10 مرتبہ پڑھیں   اور مزید ارشادفرمایا کہ اس طرح تسبیحات کی کل تعداد 75ہو جائے گی،   چار رکعت اسی ترتیب سے  پڑھیں  ،   اگر رات کے وقت پڑھیں   تو دو رکعت پر سلام پھیر دیں   اور اگر دن کے وقت پڑھیں   تو ایک ہی سلام سے  چاروں   رکعت پڑھیں   لیکن اگر چاہیں   تو دن



[1]     صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرین، باب استحباب صلاة الضحی، الحدیث: ۱۶۷۱، ص۷۹۱ سنن ابی داود، کتاب الادب، باب اماطة الاذی عن الطریق، الحدیث: ۵۲۴۲، ص۱۶۰۶ شعب الایمان، باب فی الزکاة، التحریض علی الصدقة، الحدیث:۳۳۲۸، ج۳، ص۲۰۴ صحیح ابن حبان، کتاب البر و الاحسان، ذکر کتبة اللہ جل وعلا     الخ، الحدیث:۲۹۹، ج۱، ص۵۳۴

[2]     احیاء علوم الدین،کتاب ترتیب الاوراد و تفصیل احیاء اللیل، ج۱، ص ۴۳۹

[3]     صحیح البخاری، کتاب الشروط، باب ما یجوزمن الاشتراط، الحدیث: ۲۸۳۶، ص۲۱۹



Total Pages: 332

Go To