Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

کو دولت خرچ کرنے کا بہانہ درکار ہوتا۔

جب مال و دولت کی اس چکا چوند اور فراوانینے مسلمانوں   کو عملی طور پر دین سے  دور کرنا شروع کر دیا،   یونانی فلسفہ کی وجہ سے  بعض ناسمجھ لوگ دین کو عقل کے پیمانے پر تولنے لگے اور باطل فرقے قدریہ،   جبریہ،   مرجیہ و معتزلہ وغیرہ خیالات کے حامیوں   کی تعداد روز بروز بڑھنے لگی تو حضرت سیِّدُنا امام جعفر صادق  (متوفی ۱۴۸ھ)  ،   حضرت سیِّدُنا امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت  (متوفی ۱۵۰ھ)  ،   حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری  (متوفی ۱۶۱ھ)  ،   حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم  (متوفی ۱۶۱ یا ۱۶۲ھ)  ،   حضرت سیِّدُنا عبدالواحد بن زید  (متوفی ۱۷۱ھ)  ،   حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس  (متوفی ۱۷۹ھ) ،   حضرت سیِّدُنا فضیل بن عیاض  (متوفی ۱۸۷ھ) ،   حضرت سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعی  (متوفی ۲۰۴ھ)   اور حضرت سیِّدُنا معروف کرخی  (متوفی ۲۱۵ھ)  وغیرہ بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْننے خوب ڈٹ کر نہ صرف ان عقل کے ماروں   کا مقابلہ کیا بلکہ توحید ورسالت کے عشق و مستی سے  بھرپور جام بھر بھر کر لوگوں   کو پلائے اور دنیاوی عیش و عشرت کو ترک کر کے لاکھوں   انسانوں   کو راہِ ہدایت پر ثابت قدم رہنے کا درس دیا۔

تیسرا دور: 

یہ دور 233ھ تا 334ھ پر مشتمل ہے۔ عباسی خلافت کے اس دور کی ابتدا تو بڑی اچھی رہی مگر انتہا افتراق وانتشار کی کیفیت میں   ہوئی۔ البتہ! پچھلے دور میں   جن علمی سرگرمیوں   کا آغاز ہوا تھا وہ اپنی آب و تاب سے  جاری و ساری رہیں   اور فن تعمیر،   خوش نویسی وخطاطی وغیرہ کو خوب عروج ملا،   علم طبنے بھی خوب ترقی کی اور سلطنت عباسیہ کے طول و عرض میں   بڑے بڑے ہسپتال بنائے گئے،   پچھلے دور میں   علم فقہ مدون ہوا تو اس دور میں   علم حدیث کے امام پیدا ہوئے جنہوں  نے صحاحِ ستہ  ([1]) کی صورت میں   ایک عظیم اور بیش بہا علمی سرمایہ رہتی دنیا تک کے تمام مسلمانوں   کو عطا کیا۔ مگر سیاسی طور پر مسلمان جس وحدت کے علمبردار تھے اسے  قائم نہ رکھ سکے اور بے شمار محلاتی سازشوں   کا شکار ہونے لگے،   اسی دور میں   طوائف الملوکی کا ظہور ہوا مگر خلافت عباسیہ کا سکہ کسی نہ کسی طرح چلتا ہی رہا۔ اس دور میں   بہت سے  باطل فرقوں  نے سر اٹھایا جن کی ریشہ دوانیوں   سے  مسلمانوں   کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا جس کی ایک مثال یہی کافی ہے کہ اسماعیلی فرقہ سے  تعلق رکھنے والے قرامطی باغیوں   میں   اس قدر جرأت پیدا ہو گئی کہ انہوں  نے 315ھ میں   مکہ معظمہ پر چڑھائی کر کے چاہِ زمزم کو پاٹ دیا اور خانہ کعبہ کی دیواروں   سے  حجر اسود کو نکال کر عمان لے گئے جہاں   انہوں  نے اسے  اپنے بنائے ہوئے کعبے کی دیوار میں   نصب کر دیا۔ اور بالآخر 24سال کے بعد 339ھ میں   خلیفہ المطیع اللہنے ان باغیوں   کی سرکوبی کی اور حجر اسود کو اپنی اصلی جگہ یعنی بیت اللہ شریف کی دیوار میں   نصب کرایا۔ یہی وہ دور ہے جس میں   صاحبِ قوت حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی مکہ مکرمہ زَادَہَااللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا کی پرنور فضاؤں   میں   اکتسابِ فیض میں   مصروفِ عمل تھے۔

مسلمان چونکہ اس دور میں   اعلیٰ اخلاقی اقدار کو فراموش کر کے دنیاوی جاہ و حشمت کے دلدادہ ہو چکے تھے لہٰذا ان کی سنتوں   بھری تربیت کرنے اور انہیں   راہِ خدا میں   اپنا تن من دھن قربان کرنے کی مدنی سوچ دینے کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس دور میں   حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل  (متوفی ۲۴۱ھ)  ،   حضرت سیِّدُنا شیخ حارث محاسبی  (متوفی ۲۴۳ھ) ،   حضرت سیِّدُنا ذو النون مصری  (متوفی ۲۴۵ھ) ،   حضرت سیِّدُنا سری سقطی  (متوفی ۲۵۳ھ) ،   حضرت سیِّدُنا بایزید بسطامی  (متوفی ۲۶۱ھ) ،   حضرت سیِّدُنا بشر حافی  (متوفی ۲۷۷ھ)  ،   حضرت سیِّدُنا سہل بن عبد اللہ تستری  (متوفی ۲۸۳ھ)  ،   حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی  (متوفی ۲۹۷ھ)  اور حضرت سیِّدُنا امام محمد بن جریر طبری  (متوفی ۳۱۰ھ)  وغیرہ ایسے  بزرگانِ  دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن پیدا فرمائے جنہوں  نے اپنی شبانہ روز جدوجہد اور کدّ و کاوِش  (چھان بین،   کوشش)  سے  پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری امت کو ظاہری شان و شوکت اور پاکیزگی کے بجائے باطنی زیب و زینت اور پاکی و طہارت اپنانے کی ترغیب دی۔

چوتھا دور: 

یہ دور 334ھ تا 436ھ پر مشتمل ہے۔ اس دور کا آغاز اس حال میں   ہوا کہ مملکت اسلامیہ مختلف شیرازوں    (ٹکڑوں  )  میں   بٹ چکی تھی،   عباسی خلافت کے متوازی دو مزید خلافتیں   دولتِ سامانیہ  ([2])  اور خلافتِ فاطمیہ  ([3] )  نمودار ہو چکی تھیں  ۔ نیز مختلف علاقوں   کے فرمانرواؤں  نے خود مختار بادشاہیاں   اور سلطنتیں   قائم کر لیں   تا ہم یہ امرا و سلاطین خلیفہ بغداد کو اپنا پیشوا مانتے اور دربارِ خلافت سے  سند خوشنودی حاصل کرنے کو اپنے اقتدار کے استحکام کے لیے ضروری سمجھتے۔ بلاشبہ اس دور کو بدامنی اور انارکی  (لاقانونیت  Anarchy)  کا دور کہا جا سکتا ہے۔ اسی دور میں   بت شکن سلطان محمود غزنوی ایسا اولو العزم بطل جلیل پیدا ہوا جس نے کفرستان کے ایوانوں   میں   زلزلہ برپا کر دیا۔ بدامنی و انارکی کے اس دور میں   جب ہر ایک قلبی و ذہنی انتشار کا شکار ہوتا جا رہا تھا اور دولت کی ریل پیلنے اسے  خدائے وحدہ لا شریک کا بندہ بننے کے بجائے درہم و دینار کا غلام بنا دیا تھا،   اعلیٰ اخلاقی اقدار نایاب ہوتی جارہی تھیں  ،   باطل فرقے سیاسی طور پر مضبوط ہوتے جا رہے تھے یہاں   تک کہ ۳۴۱ھ میں   بغداد میں   ایک باطل فرقےنے تناسخ  ([4]) کے عقیدے کا اظہار کیا اور ایک شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ امیر المومنین



[1]    احادیثِ مبارکہ کی وہ چھ معتبر کتابیں  جن کی صحت پر تمام علمائے کرام کا اتفاق ہے۔ یعنی بخاری، مسلم، ترمذی، ابو داود، ابن ماجہ اور سنن نسائی۔

[2]    دولت سامانیہ کی حکومت خلافت عباسیہ کے خاتمے کے بعد874ء بمطابق ۲۶۱ھ میں  ماوراء النھر میں  قائم ہوئی۔ اپنے مورثِ اعلیٰ اسد بن سامان کے نام پر یہ خاندان سامانی کہلاتا ہے۔ نصر بن احمد بن اسد سامانیوں  کی آزاد حکومت کا پہلا حکمران تھا۔ ماوراء النھر کے علاوہ موجودہ افغانستان اور خراسان بھی اس حکومت میں  شامل تھا۔ اس کا دارالحکومت بخارا تھا۔ سامانیوں نے 1005ء تک یعنی کل 134 سال حکومت کی۔ اس عرصے میں  ان کے دس حکمران ہوئے۔جن کے نام یہ ہیں : نصر اول 261ھ تا 279ھ ، اسماعیل 279ھ تا 295ھ ، احمد295ھ تا 301ھ ، نصر دوم 301ھ تا 331ھ ، نوح اول 331ھ تا 343ھ ، عبدالملک 343ھ تا 350ھ ، منصور اول 350ھ تا 366ھ ، نوح دوم 366ھ تا 387ھ ، منصور دوم 387ھ تا 389ھ ، عبدالملک 389ھ تا 395ھ ۔

[3]    خلافت فاطمیہ شمالی افریقہ میں  خلافت عباسیہ کے خاتمے کے بعد ۲۹۷ھ میں  قیروان شہر میں  قائم ہوئی۔ اس سلطنت کا بانی عبید اللہ المہدی چونکہ خاتونِ جنت حضرت سیدتنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی اولاد ہونے کا دعویدار تھا، اس لئے اس کی قائم کردہ سلطنت کو فاطمی خلافت کہا جاتا ہے ۔ عبید اللہ تاریخ میں  مہدی کے لقب سے مشہور ہے۔ اس خلافت کے ۵۶۷ھ تک ۲۷۰سالہ دور میں  ۱۴خلفانے حکومت کی۔ جن کے نام یہ ہیں : مہدی، قائم، منصور، معز، عزیز، حاکم، ظاہر، مستنصر، مستعلی، آمر، حافظ، ظافر، فائز، عاضد۔

[4]    تناسخ سے مراد یہ عقیدہ رکھنا ہے کہ ایک شخص کی روح اس کے مرنے کے بعد کسی دوسرے انسان کے جسم میں  چلی جاتی ہے۔ نیز کسی کا ایک صورت سے دوسری صورت اختیار کرنا بھی تناسخ کہلاتا ہے اور اصل میں  یہ ہندوؤں  کا عقیدہ ہے، جسے آواگون کہتے ہیں ۔ (فیروز اللغات، مفہوماً )



Total Pages: 332

Go To