Book Name:Jaame Sharait Peer

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

جامع شرائط پیر[1]

درود پاک کی فضیلت

رحمتِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ”جس نے مجھ پر سو مرتبہ دُرُودِپاک پڑھا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اُس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھ دیتا ہے کہ یہ نِفاق اور جہنَّم کی آگ سے آزاد ہے اور اُسے بروزِ قِیامت شُہَدا کے ساتھ رکھے گا ۔ “ ([2])

اِبتدا اپنے آپ سے کرو :

ایک شخص حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی : ’’اے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچا حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنہ کے شہزادے ! میرا دل چاہتا ہے کہ میں بھی لوگوں کو نیکی کی دعوت دیا کروں اور برائی سے منع کیا کروں ۔ ‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُس سے دریافت فرمایا : ’’کیا تم (اپنی اِصلاح کرنے میں ) حدِ کمال کو پہنچ چکے ہو؟‘‘ بولا : ’’مجھے اُمید تو یہی ہے ۔ ‘‘

اس کی یہ بات سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا : ’’اگر تمہیں قرآنِ پاک کے تین حروف کی وجہ سے رُسوا ہونے کا خوف نہ ہو تو یہ کام کر سکتے ہو ۔ ‘‘ اس نے (بڑی حیرانی سے ) عرض کی : ’’وہ حروف کون سے ہیں ؟‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ آیت ِ مبارکہ تلاوت فرمائی :

اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ (پ۱، البقرۃ : ۴۴)

ترجمۂ کنز الایمان : کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھولتے ہو ۔

پھر اُس سے پوچھا : ’’کیا تمہیں اس آیتِ مبارکہ کا حکم معلوم ہے ؟‘‘ اس نے جواب دیا : نہیں ۔ پھر مزید عرض کی : ’’اچھا وہ دوسرا حرف کون سا ہے ؟‘‘

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ آیت ِ مبارکہ تلاوت کی :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(۲) كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(۳) (پ۲۸، الصف : ۲، ۳)

ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتے ۔ کیسی سخت ناپسند ہے اللہ کو وہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو ۔

پھر دریافت فرمایا : ’’کیا اس آیتِ مبارکہ کا حکم جانتے ہو؟‘‘ اس نے جواب دیا : نہیں ۔ بہرحال اس نے پھر عرض کی : ’’وہ تیسرا حرف کون سا ہے ؟‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : ’’وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے نبی حضرتِ سیِّدُنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام کا قول ہے (جو قرآنِ پاک میں مذکور ہے ) ۔ ‘‘ چنانچہ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے :

وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُؕ- (پ۱۲، ھود : ۸۸)

ترجمۂ کنز الایمان : اور میں نہیں چاہتا ہوں کہ جس بات سے تمہیں منع کرتا ہوں آپ اس کے خلاف کرنے لگوں ۔

اسے تلاوت کرنے کے بعدارشادفرمایا : ’’کیااس آیتِ مبارکہ کے حکم سے آگاہ ہو؟‘‘ اس بار بھی جب اس نے نفی میں جواب دیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نصیحت آمیز لہجے میں ارشاد فرمایا : ’’(دوسروں کی اصلاح کرنے سے پہلے بہتر یہ ہے کہ اس اصلاح کی) اِبتدا اپنے آپ سے کرو ۔ ‘‘ ([3])

خام اور تام میں فرق :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ خام (ناپختہ، نامکمل، کچا) اور تام (پختہ، مکمل) میں بہت فرق ہے کیونکہ رہبری و رہنمائی ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔ بلکہ رہبر و رہنما بننے کے لیے پہلے خود آزمائش کی بھٹی سے کندن بن کر نکلنا ضروری ہے کیونکہ دوسروں کی رہنمائی کرنا گویا کہ ایک راہِ پُر خَطَر پر چلنا ہے ، اس میں ذرّہ برابر کوتاہی و غلطی گہری کھائی میں گرنے کا سبب بن سکتی ہے ۔ چنانچہ،

وہ بے علم حضرات جو ولایت کی مسند کو اپنے باپ کی وراثت سمجھتے ہیں ان کی ہدایت وعبرت کے لیے اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت، مجددِ دین و ملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَحْمٰن فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں : حضرت خواجہ مودُود چشتی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سلسلۂ چشتیہ کے جلیل القدر بزرگوں اور سرداروں کی اولاد میں سے تھے ۔ ان بزرگوں کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے آباؤ اجداد کے منصب پر بیٹھے ۔ ہزاروں لوگ مرید ہوئے مگر صاحبزادہ صاحب ابھی نہ تو عالم ہوئے تھے اور نہ ہی راہِ طریقت میں کسی کامل مُرشِد کی تعلیم سے چلے تھے ۔ تعالیٰ کی عنایت ان کے شامل حال ہوئی کہ ان کی تعلیم و تربیت کے لئے حضرت شیخ الاسلام سیدی احمد نامقی جامی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو ہرات بھیجا گیا ۔ جب یہ بزرگ ہرات پہنچے تو لوگ ان کی عظیم الشان کرامات دیکھ کر ان کے مرید و معتقد ہوگئے اور ان کا شہرہ ہر طرف پھیل گیا ۔

 



1    مبلغ دعوتِ اسلامی و نگرانِ مرکزی مجلسِ شوریٰ حضرت مولانا ابو حامد حاجی محمد عمران عطاری مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی  نے یہ بیان 25 رمضان المبارک ۱۴۲۸ھ بمطابق اکتوبر 2007ء کو تبلیغ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں ٹیلی فون اور انٹر نیٹ پر یو کے (UK) کے اسلامی بھائیوں سے فرمایا ۔ ۲۴ صفر المظفر ۱۴۳۴ھ بمطابق 07جنوری 2013ء کو ضروری ترمیم و اضافے کے بعد تحریری صورت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ (شُعْبَہ رَسَائِلِ دَعْوَتِ اِسْلَامی مَجْلِس اَ لْمَدِیْنَةُ الْعِلْمِیة)

2   مجمع الزوائد ، کتاب الادعیۃ ، باب فی الصلوۃ علی النبی الخ ، الحدیث : ۱۷۲۹۸ ، ج ۱۰ ، ص ۲۵۳

2   شعب الایمان للبیھقی، باب فی الامر بالمعروف والنھی عن المنکر، الحدیث : ۷۵۶۹، ج۶، ص۸۸



Total Pages: 20

Go To