Book Name:Kaamil Mureed

مرشِد کی گفتگو کے عِلاوہ دیگر تمام لوگوں کی گفتگو سننے سے اپنے کان بند کر لے ۔ (یعنی مرشِد کے خلاف باتیں کرنے والے کی گفتگو سُننا تو دُور کی بات اس کے سائے سے بھی دور بھاگے ) اور مرید کسی بھی مَلامَت کرنے والے کی مَلامَت کو نہ سنے ، یہاں تک کہ اگر تمام شہر والے لوگ کسی ایک میدان میں جمع ہوکر اسے اپنے مرشِد سے نفرت دلائیں (اور ہٹانا چاہیں ) تو وہ لوگ اس بات پر (یعنی مرید کو مرشد سے دور کرنے پر) قدرت نہ پا سکیں ۔ ([1])

سُبْحَانَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ! مرید ہو تو ایسا، کیونکہ جو شخص ان چیزوں سے ناآشنا ہو بقولِ امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ جس نے مرشد کی محبت کا جام ہی نہیں پیا وہ اس کی لذت کو کیا جان سکتا ہے ۔ اس کا تو کام ہی کیف و مستی میں ڈوبے مریدکامل کو دیکھ کر مذاق اڑانا ہے ۔ حالانکہ وہ یہ نہیں جانتا کہ

نہ کسی کے رقص پہ طنز کر نہ کسی کے غم کا مذاق اڑا

جسے چاہے جیسے نواز دے یہ مزاجِ عشقِ رسول ہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  حضرت سَیِّدنا امام شعرانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی کے قول سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مرید کو چاہیے کہ صرف اپنے پیر پر نظر رکھے اور اگر کہیں سے فیض ملے تو اسے بھی اپنے پیر ہی کا فیض تصور کرے ۔ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اگر وہ اپنے پیر و مرشد سے وابستہ رہا تو اس کا پیر اسے ایسی منزلیں طے کروا دے گا جن کا وہ گمان بھی نہیں کرسکتا ۔ پس اپنے پیر پر اعتراض نہ کرے اور اس کی کسی بات یا کسی فعل کو عقل کے ترازو پر نہ تولے کیونکہ عقل کی ایک نمایاں خامی یہ بھی ہے کہ جو بات قبول نہیں کرتی اس کا انکار کر دیتی ہے ۔ لہٰذا مرید کو چاہیے کہ اپنی عقل، ارادے اور خواہش کو اپنے پیر پر قربان کر دے ۔ چنانچہ،

پیر کی کدال

ایک مرتبہ ایک شخص ایک پیر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض كي : عالیجاه! مجھے اپنی صحبت میں قبول فرما لیں ۔ پیر صاحب نے قبول فرماتے ہوئے اسے ایک کدال دی جس کے سرے پر ایک بے کار اور فالتو لوہا لگا ہوا تھا ۔ دراصل پیر صاحب نے مرید کی آزمائش کا یہ معیار بنایا کہ اگر یہ مرید کامل ہے تو کبھی بھی یہ نہیں کہے گا کہ یہ لوها زائد ہے اس کاکیا فائدہ؟ خوامخواہ کا وزن میرے گلے کیوں ڈال دیا؟ لہٰذا سات سال تک وہ کامل مرید اپنے پیر کی خدمت کرتا رہا مگر کبھی  بھي اس كے دل ميں  یہ خیال نہ آیا کہ میرے پیر نے یہ کیا فالتو چیز کدال کے ساتھ لگا کر دے دی ہے ۔ ([2])

فیض سے محرومی

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کامل مرید کی توجہ اور حسنِ ظن ہی اسے پیر کے فیض سے فیضیاب کرتے ہیں کیونکہ مرید جب حسنِ ظن کی دنیا سے نکلتا ہے تو اپنے پیر کی محبت اور اس کے فیض سے بھی محروم ہو جاتا ہے ۔ یاد رکھئے ! اس محرومی کی ابتدا بدگمانی سے ہوتی ہے ، جو سب سے پہلے پیر بھائیوں کے متعلق پیدا ہوتی ہے ، پھر یہ بدگمانی تہمت اور غیبت کی شکل اختیار کرتی ہے جس سے دل و دماغ پراگندہ ہونے لگتے ہیں ، جب یہ پراگندگی دل و دماغ پر اپنا قبضہ خوب جما لیتی ہے تو پھر مرید آہستہ آہستہ پیر سے بھی بدگمان ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ اس طرح ایک وفا شعار مرید اپنے پیر کے فیض سے محروم ہونے لگتا ہے اور اسے احساس تک نہیں ہوتا ۔ لہٰذا ہر مرید کو چاہئے کہ شیطان کے حملوں کو سمجھنے کی کوشش کرے کیونکہ شیطان کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ کوئی بھی شخص مرید کامل نہ بننے پائے ۔ بسا اوقات کوئی شخص شیطان کے حملوں سے بچتے بچاتے مرید کامل کے مرتبے پر فائز ہو جائے تب بھی شیطان اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا بلکہ ایسے مرید کامل پر خود پسندی و تکبر جیسے مہلک ہتھیاروں سے حملہ آور ہوتا ہے ، اب جو بچ گیا سو وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کے فضل سے بچ گیا اور جو بدنصیب شیطان کے ان پھندوں میں پھنس گیا وہ ہلاک و برباد ہو گیا ۔ کیونکہ جو شخص اپنے پیر کی نظرِ کرم سے کسی مقام و مرتبہ پر فائز ہو اور یہ سمجھنے لگے کہ اسے یہ مرتبہ اس کی اپنی کوشش سے حاصل ہوا ہے تو وہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے ۔ چنانچہ،

حضرت داتا گنج بخش سید علی ہجویری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی کا ایک مرید کچھ بد اعتقاد ہو گیا اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گیا کہ وہ کسی درجہ پر فائز ہو چکا ہے ۔ لہٰذا وہ خاموشی سے حضرت سیدنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی کی بارگاہ سے منہ موڑ کر چلا گیا ۔ پھر ایک دن یہ دیکھنے و آزمانے آیا کہ حضرت سیدنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی اس کے دل کے خیالات سے آگاہ ہیں یا نہیں ؟ ادھر حضرت سیدنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی نے بھی اپنے نورِ فراست سے اس کی حالت ملاحظہ فرما لی ۔ چنانچہ جب وہ مرید آیا اور آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ایک سوال پوچھا تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا : کیسا جواب چاہتا ہے ، لفظوں میں یا معنوں میں ؟ بولا : دونوں طرح ۔ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : اگر لفظوں میں جواب چاہتا ہے تو سن! اگر مجھے آزمانے سے پہلے خود کو آزما اور پرکھ لیتا تو تجھے مجھے آزمانے کی ضرورت پیش نہ آتی اور نہ ہی تو یہاں مجھے آزمانے و پرکھنے آتا ۔ اور معنوی جواب یہ ہے کہ میں نے تجھے منصبِ ولایت سے معزول کیا ۔ یہ فرمانا تھا کہ اس مرید کا چہرہ سیاہ ہو گیا تو آہ و زاری کرنے لگااور عرض گزار ہوا : حضور یقین کی راحت میرے دل سے جاتی رہی ہے ۔ پھر توبہ کی اور فضول باتوں پر بھی ندامت کا اظہار کیا تو حضرت جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی نے ارشاد فرمایا : تو نہیں جانتا کہ اللہ کے ولی والیانِ اسرارِ الٰہی ہوتے ہیں ، تجھ میں ان کی ضرب کی برداشت نہیں ۔ پھر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس پر دم فرمایا تو وہ دوبارہ اپنے پہلے درجہ پر فائز ہو گیا ۔ اس کے بعد اس نے ہمیشہ کے لیے مشائخ عظام کے متعلق بدگمانی کرنے سے توبہ کر لی ۔  ([3])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! ایک مرید کو پیر کے متعلق بدگمان ہونے نے کہیں کا نہ چھوڑا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ولایت سے بھی محروم ہونا پڑا ۔ لہٰذا ہمیشہ پیر کے متعلق بدگمانی



23     الانوارالقدسیہ،  الباب الثانی فی بیان نبذۃ من آداب المرید مع شیخہ، الجزء الثانی، ص ۳

24     الابریز ، الباب الخامس فی ذکر التشایخ و الارادۃ، الجزء الثانی، ص ۸۲

25     کشف المحجوب، ص ۱۳۷



Total Pages: 11

Go To