Book Name:Kaamil Mureed

کی محبت کو دل و جان سے سینے میں بسا لے ۔ چنانچہ حضرت سيدناشیخ عبدالعزیز دباغ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے هيں : مرید پیر کی مَحبّت سے کامل نہیں ہوتا کیونکہ مرشِد تو سب مریدوں پریکساں شفقت فرماتے ہیں ۔ بلکہ یہ مرید کی مرشِد سے مَحبّت ہوتی ہے جو اسے کامل کے درَجے پر پہنچاتی ہے ۔ ([1])

با با فرید گنج شکر کی محبت مرشد

ایک مرتبہ سلطان الہند خواجہ غریب نواز حضرت سید حسن سنجری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اپنے مَحبوب خلیفہ حضرت خواجہ بختیار کاکی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے یہاں تشریف لائے ۔ تو خواجہ بختیار کاکی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے مُرید بابا فرید گنج شکر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو جو آپ کے عشق میں گھائل تھے ، بُلا کر ارشاد فرمایا : اپنے دادا پیر (یعنی خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) کے قدموں کو بوسہ دو ۔ بابا فرید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حکْمِ مرشِد بجا لانے کیلئے دادا پیر کے قدم چُومنے جھکے مگر قریب ہی تشریف فرما اپنے ہی پیرو مرشِد (بختیار کاکی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ) کے قدم چُوم لئے ۔ خواجہ بختیار کاکی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دوبارہ ارشاد فرمایا : فرید سُنا نہیں ! دادا پیر کے قدم چُومو! بابا فرید جو مُرشِد کی حقیقی مَحبّت میں گم تھے ، فوراً حکْم بجا لائے اور دوبارہ دادا پیر کے قدم چومنے جھکے مگر پھر اپنے پیر کے قدم چوم لئے ۔ تو خواجہ بختیار کاکی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں دادا پیر کے قدم چُومنے کا کہتا ہوں مگر تم میرے قدموں کو کیوں چوم لیتے ہو؟ بابا فرید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے سر جھکا کر بڑے ہی مؤدبانہ اور عشق و مستی کے عالم میں حقیقتِ حال کچھ یوں عرض کی : حضور میں آپ کے حکْم پر دادا پیر خواجہ غریبِ نواز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے قدم چومنے ہی جھکتا ہوں مگر وہاں مجھے آپ کے قدموں کے سوا اور کوئی قدم نظر ہی نہیں آتے ، لہٰذا میں انہی قدموں میں جا پڑتا ہوں ۔ یہ سن کر حضرت خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشا دفرمایا : بختیار! فرید ٹھیک کہتا ہے ، یہ منزل کے اس دروازے تک پہنچ گیا ہے جہاں دوسرا کوئی نظر نہیں آتا ۔ ([2])

عشق کی انوکھی دنیا

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ حضرت بابا فرید مسعود گنج شکر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اپنے پیر کامل سے کس قدر محبت تھی، محبت اور عشق چونکہ اس کشش اور میلان کو کہتے ہیں جو دل میں کسی باکمال ہستی کی طرف پیدا ہوتا ہے خواہ وہ کمال جمالِ ظاہری ہو یا باطنی، حسن سیرت ہو یا حسن صورت ۔ پھر یہ جذبہ بندے کو اپنے محبوب سے قریب تر ہونے کے لیے بیتاب رکھتا ہے ـ ۔ اور حضرت بابا فرید گنج شکر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ چونکہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ پیر کی محبت ہی عرفانِ الٰہی کا دروازہ ہے اس لیے انہیں اپنے پیر کامل کے علاوہ کچھ دکھائی ہی نہ دیتا تھا ۔ لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ ہم دنیا و دنیاوالوں کی محبتوں کو اپنے پیر کی محبت پر قربان کر دیں اور عشق کی دنیا میں کھو جائیں کیونکہ مرید کی اپنے پیر سے محبت جس قدر بڑھتی چلی جاتی ہے راہِ طریقت کی منزلیں بھی اس کے لیے اسی قدر آسان ہوتی جاتی ہیں ۔

مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا

اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا

عشق کا امتحان

ہر شے کو عقل کے ترازو میں تولنے والے عشق و محبت کی لذتوں سے آشنا نہیں ہوتے ، اس لیے کہ عشق کی دنیا ہی نرالی ہے ۔ یہاں تو قدم قدم پر امتحان ہوتا ہے ، پرکھا جاتا ہے کہ عشق کامل ہے یا ناقص ۔ عاشقِ کامل ہمیشہ اپنے محبوب کے اقوال، افعال اور اعمال پر آنکھیں بند کئے بغیر وجہ و دلیل دریافت کیے عمل پیرا نظر آتا ہے کیونکہ محبت کی علامت محبوب کی پیروی ہے ۔

اتباع و پیروی کسے کہتے ہیں ؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! لغت میں کسی کی پیروی یا اتباع سے مراد ہے : کسی شخص کے قدموں پر قدم رکھتے ہوئے اس کے پیچھے پیچھے چلنا ۔ ([3])

امام ابوالحسن آمدی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی (متوفی ۶۳۱ھ) اَلْاِحْکَام فِی اُصُولِ الْاَحْکَام میں سرورِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیروی و اتباع کرنے کے متعلق فرماتے ہیں : سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیروی کبھی قول میں ہوتی ہے اور کبھی فعل و ترکِ فعل میں ۔ قول میں اتباع کا مطلب یہ ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قول کی اس طرح پیروی کرنا جس طرح آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قول کا تقاضا ہے ۔ اور فعل میں اتباع سے مراد یہ ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فعل کو اسی طرح کرنا جس طرح آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کیا ہے اور اس وجہ سے کرنا کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کیا ہے ۔ ([4])

پیارے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا جب ہم کسی کے تابع ہو جائیں تو بن سوچے و بغیر کوئی دلیل طلب کیے اس کے اقوال و افعال پر عمل کو حرزِ جان (بہت زیادہ محبوب) بنا لیں ۔ جیسا کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیروی کو حرزِ جان بنا رکھا تھا ۔ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کیسا عشق تھا اس كي ايك جھلك ملاحظہ كيجئے ۔ چنانچہ،

حضرت عبد اللہ  بن عمر کا عشق رسول

مروی ہے کہ حضرت سیدنا عبداللہ ابن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں کی پیروی فرمایا کرتے اور کوشش کرتے کہ جس مقام پر سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ



14    الابریز، الباب الخامس فی ذکر التشایخ و الارادۃ، الجزء الثانی، ص ۷۷

15   آدابِ مرشدِ کامل، ص ۵۰ ۔ ۔ ۔ ۔ مقاماتِ اولیاء، ص۱۸۰

16    لسان العرب ، ج۱، ص ۴۱۶

17   الاحکام فی اصول الاحکام، ج ۱، ص۲۲۷



Total Pages: 11

Go To