Book Name:Kaamil Mureed

لڑکا پیدائشی کافر تھا اور والدین اس لڑکے سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور اُس کی ہر خواہش پوری کرتے تھے تو ہمیں یہ خوف و خطرہ نظر آیا کہ وہ لڑکا کہیں اپنے والدین کو کفر میں نہ مبتلا کردے ۔ اس لئے میں نے اُس لڑکے کو قتل کر کے اُس کے والدین کو کفر سے بچا لیا ۔ اب اُس کے والدین صبر کریں گے تو اللہ تعالیٰ اُس لڑکے کے بدلے میں اس کے والدین کو ایک بیٹی عطا فرمائے گا، جو ایک نبی سے بیاہی جائے گی اور اس کے شکم سے ایک نبی پیدا ہو گا جو ایک امت کو ہدایت کرے گا ۔ اور گرتی ہوئی دیوار کو سیدھی کرنے کا راز یہ تھا کہ یہ دیوار دو یتیم بچوں کی تھی جس کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا اور آٹھویں پشت میں ان دونوں کا باپ ایک صالح اور نیک آدمی تھا ۔ اگر ابھی یہ دیوار گرجاتی تو ان یتیموں کا خزانہ گاؤں والے لے لیتے ۔ اس لئے آپ کے پروردگار نے یہ چاہا کہ یہ دونوں یتیم بچے جوان ہو کر اپنا خزانہ نکال لیں ، اس لئے ابھی میں نے دیوار کو گرنے نہیں دیا ۔ یہ خداوند تعالیٰ کی ان بچوں پر مہربانی ہے اور اے موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام !آپ یقین و اطمینان رکھیں کہ میں نے جو کچھ بھی کیا ہے اپنی طرف سے نہیں کیا ہے بلکہ میں نے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا ہے ۔ اسکے بعد حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام  اپنے وطن واپس چلے آئے ۔ ([1])

حضرت خضر  عَلَیْہِ السَّلَام   کا تعارف

حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلَام  کی کنیت ابو العباس اور نام بلیا اور ان کے والد کا نام ملکان ہے ۔ بلیا سریانی زبان کا لفظ ہے ۔ عربی زبان میں اس کا ترجمہ احمد ہے ۔ خضر ان کا لقب ہے اور اس لفظ کو تین طرح سے پڑھ سکتے ہیں ۔ خَضِر، خَضْر، خِضْر ۔ خضر کے معنی سبز چیز کے ہیں ۔ یہ جہاں بیٹھتے تھے وہاں آپ کی برکت سے ہری ہری گھاس اُگ جاتی تھی اس لئے لوگ ان کو خضر کہنے لگے ۔ یہ بہت ہی عالی خاندان سے ہیں ۔ اور ان کے آباؤ اجداد بادشاہ تھے ۔ بعض عارفین نے فرمایا ہے کہ جو مسلمان ان کا اور ان کے والد کا نام اور ان کی کنیت یاد رکھے گا، اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اُس کا خاتمہ ایمان پر ہو گا ۔ ([2])

حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلَام  نبی ہیں

ملفوظات شریف میں ہے کہ اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَحْمٰن سے جب یہ عرض کی گئی کہ حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلَام  نبی ہیں یا نہیں ؟ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا : جمہور کا مذہب یہی ہے اور صحیح بھی یہی ہے کہ وہ نبی ہیں ۔ ([3]) اور جمہور علما کا یہی قول ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام  اب بھی زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہیں گے کیونکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام  نے آبِ حیات پی لیا ہے ۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام  کے گرد بکثرت اَولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام جمع رہتے ہیں اور فیض پاتے ہیں ۔ چنانچہ عارف باللّٰہ حضرت سید بکری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے اپنے قصیدہ درد السحر میں آپ کے بارے میں یہ تحریر فرمایا ہے کہ ؎

حَییٌ وَحَقِّکَ لَمْ یَقُل بَوَفَاتِہٖ                                                                           اِلَّا الَّذِیْ لَمْ یَلْقَ نُورَ جَمَالِہٖ

فَعَلَیْہِ مِنِّیْ کُلَّمَا ھَبَّ الصَّبَا                                                                         اَزکٰی سَلَامٍ طَابَ فِیْ اِرْسَالِہ

ترجمہ : تیرے حق کی قسم! حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلَام  زندہ ہیں اور اُن کی وفات کا قائل وہی ہو گا جو اُن کے نور جمال سے ملاقات نہیں کرسکا ہے تو میری طرف سے اُن پر جب جب بادِ صبا چلے ستھرا سلام ہو کہ پاکیزگی کے ساتھ بادِ صبا اس کو پہنچائے ۔

حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلَام  حضور خاتم النبیین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت سے مشرف ہوئے ہیں ۔ اس لئے یہ صحابی بھی ہیں ۔ ([4])

نسبت کے مدنی پھول

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیدنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت سیدنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا یہ عجیب و غریب واقعہ اپنے اندر کئی مدنی پھول رکھتا ہے ۔ مثلاً حضرت سیدنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام نے یتیم بچوں کی دیوار کو اس لیے درست کر دیا تھا کہ ان کی آٹھویں پشت میں نیک و صالح شخص تھا ۔ معلوم ہوا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اپنے نیک بندوں کی وجہ سے ان سے وابستہ لوگوں پر بھی بے انتہا کرم فرماتا ہے ۔

نیک بندوں کی برکتیں

نیک پڑوسی کی برکت

حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا ارشادِ روح پرور ہے : اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نيک مسلمان کی وجہ سے اُس کے پڑوس کے 100 گھروں سے مصیبت دُور فرما ديتا ہے ۔ ([5])

سُبْحَانَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ! جب ایک نیک بندے کی برکت سے اس کے پڑوس کے سو گھروں سے مصیبتیں اور بلائیں دور ہو سکتی ہیں تو اس بندے پر رحمتوں اور برکتوں کے نزول کا عالم کیا ہو گا جس کا ہاتھ کسی پیرِ کامل کے ہاتھ میں ہو ۔

 



8    تفسیر خازن، پ ۱۵، ۱۶، الکھف، ج۳، ص ۲۱۷ تا ۲۲۲

9    صاوی، پ۱۵، الکھف : ۶۵، ج۴، ص۱۲۰۷

10    ملفوظاتِ اعلی حضرت، ص ۴۸۳

11    صاوی، پ ۱۵، الکھف : ۶۵، ج۴، ص۱۲۰۸

12    المعجم الاوسط، الحدیث : ۴۰۸۰، ج۳، ص ۱۲۹



Total Pages: 11

Go To