Book Name:Kaamil Mureed

اللہ تعالیٰ :            خضر (عَلَیْہِ السَّلَام ) تم سے زیادہ علم والے ہیں ۔

موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام : میں انہیں کہاں تلاش کروں ؟

اللہ تعالیٰ : ساحل سمندر پر چٹان کے پاس ۔

موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام : میں وہاں کیسے اور کس طرح پہنچوں ؟

اللہ تعالیٰ :            تم ایک ٹوکری میں ایک مچھلی لے کر سفر کرو ۔ جہاں وہ مچھلی گم  ہوجائے بس وہیں خضر (عَلَیْہِ السَّلَام ) سے تمہاری ملاقات ہو گی ۔

اس کے بعد حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام  نے اپنے خادم اور شاگرد حضرت یوشع بن نون بن افرائیم بن یوسف عَلَیْہِمُ السَّلَام کو اپنا رفیق سفر بنا کر مَجْمَعُ الْبَحْرَیْن کا سفر فرمایا ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام  چلتے چلتے جب بہت دور چلے گئے تو ایک جگہ سو گئے ۔ اُسی جگہ مچھلی ٹوکری میں سے تڑپ کر سمندر میں کود گئی اور جس جگہ پانی میں ڈوبی وہاں پانی میں ایک سوراخ بن گیا ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام  نیند سے بیدار ہو کر چلنے لگے ۔ جب دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا تو آپ نے اپنے شاگرد حضرت یوشع بن نون عَلَیْہِ السَّلَام  سے مچھلی طلب فرمائی تو انہوں نے عرض کیا کہ چٹان کے پاس جہاں آپ سو گئے تھے ، مچھلی کود کر سمندر میں چلی گئی اور میں آپ کو بتانا بھول گیا ۔ آپ نے فرمایا کہ ہمیں تو اس جگہ کی تلاش تھی ۔ بہرحال پھر آپ اپنے قدموں کے نشانات کو تلاش کرتے ہوئے اُس جگہ پہنچ گئے جہاں حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلَام  سے ملاقات کی جگہ بتائی گئی تھی ۔

وہاں پہنچ کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام  نے دیکھا کہ ایک بزرگ کپڑوں میں لپٹے ہوئے بیٹھے ہیں ۔ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام  نے اُن کو سلام کیا تو انہوں نے تعجب سے فرمایا کہ اس زمین میں سلام کرنے والے کہاں سے آگئے ؟ پھر انہوں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں موسیٰ ہوں ۔ تو انہوں نے دریافت کیا کہ کون موسیٰ؟ کیا آپ بنی اسرائیل کے موسیٰ ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ جی ہاں تو حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلَام  نے کہا کہ اے موسیٰ! مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا علم دیا ہے جس کو آپ نہیں جانتے ۔ اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایسا علم دیا جس کو میں نہیں جانتا ۔ مطلب یہ تھا کہ میں علم اسرار جانتا ہوں جس کا آپ کو علم نہیں اور آپ علم الشرائع جانتے ہیں جس کو میں نہیں جانتا ۔

پھر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام  نے فرمایا کہ اے خضر! کیا آپ مجھے اس کی اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ کے پیچھے پیچھے چلوں تاکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو علوم دیئے ہیں آپ کچھ مجھے بھی تعلیم دیں ۔ تو حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلَام  نے کہا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کرسکیں گے ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام  نے فرمایا کہ میں اِنْ شَآءَ اللہ تعالیٰ صبر کروں گا اور کبھی بھی کوئی نافرمانی نہیں کروں گا ۔ حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلَام  نے کہا کہ شرط یہ ہے کہ آپ مجھ سے کسی بات کے متعلق کوئی سوال نہ کریں یہاں تک کہ میں خود آپ کو بتا دوں ۔ غرض اس عہد و معاہدہ کے بعد حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلَام  نے حضرت موسیٰ اور حضرت یوشع بن نون عَلَیْہِمَا السَّلَام کو اپنے ساتھ لے کر سمندر کے کنارے کنارے چلنا شروع کردیا ۔ یہاں تک کہ ایک کشتی پر نظر پڑی اور کشتی والوں نے ان تینوں صاحبان کو کشتی پر سوار کرلیا اور کشتی کا کرایہ بھی نہیں مانگا ۔ جب یہ لوگ کشتی میں بیٹھ گئے تو حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلَام  نے اپنے جھولے (تھیلے ) میں سے کلہاڑی نکالی اور کشتی کو پھاڑ کر اُس کا ایک تختہ نکال کر سمندر میں پھینک دیا ۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام  برداشت نہ کرسکے اور حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلَام  سے یہ سوال کربیٹھے کہ  

اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَاۚ-لَقَدْ جِئْتَ شَیْــٴًـا اِمْرًا(۷۱) (پ ۱۵، الکھف : ۷۱)

ترجمۂ کنز الایمان : کیا تم نے اسے اس لئے چیرا کہ اس کے سواروں کو ڈُبا دو بیشک یہ تم نے بُری بات کی ۔

حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلَام  نے کہا کہ کیا میں نے آپ سے کہہ نہیں دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کرسکیں گے ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام  نے معذرت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے بھول کر سوال کردیا ۔ لہٰذا آپ میری بھول پر گرفت نہ کیجئے اور میرے کام میں مشکل نہ ڈالئے ۔

پھر یہ حضرات کچھ دور آگے کو چلے تو حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلَام  نے ایک نابالغ بچے کو دیکھا جو اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا ۔ حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلَام  نے گلا دبا کر اور زمین پر پٹک کر اُس بچے کو قتل کرڈالا، یہ ہوش رُبا خونی منظر دیکھ کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام  میں صبر کی تاب نہ رہی اور آپ نے ذرا سخت لہجے میں حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلَام  سے کہہ دیا :

اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍؕ-لَقَدْ جِئْتَ شَیْــٴًـا نُّكْرًا(۷۴) (پ ۱۵، الکھف : ۷۴)

ترجمۂ کنز الایمان : کیا تم نے ایک ستھری جان بے کسی جان کے بدلے قتل کردی بیشک تم نے بہت بری بات کی ۔

حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلَام  نے پھر یہی جواب دیا کہ کیا میں نے آپ سے یہ نہیں کہہ دیا تھا کہ آپ ہرگز میرے ساتھ صبر نہ کرسکیں گے ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام  نے فرمایا کہ اچھا اب اگر اس کے بعد میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ میرے ساتھ نہ رہیے گا ۔ اس میں شک نہیں کہ میری طرف سے آپ کا عذر پورا ہوچکا ہے ۔

پھر اس کے بعد ان حضرات نے ساتھ ساتھ چلنا شروع کردیا ۔ یہاں تک کہ یہ لوگ ایک گاؤں میں پہنچے اور گاؤں والوں سے کھانا طلب کیا ۔ مگر گاؤں والوں میں سے کسی نے بھی ان صالحین کی دعوت نہیں کی ۔ پھر ان دونوں نے گاؤں میں ایک گرتی ہوئی دیوار پائی تو حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلَام  نے اسم اعظم پڑھ کر دیوار سیدھی کردی ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام  گاؤں والوں کی بداخلاقی سے  بیزار تھے ہی، آپ کو غصہ آگیا، برداشت نہ کرسکے اور یہ فرمایا :

لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا(۷۷) (پ ۱۶، الکھف : ۷۷)

ترجمۂ کنز الایمان : تم چاہتے تو اس پر کچھ مزدوری لے لیتے ۔

یہ سن کر حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلَام  نے کہہ دیا کہ اب میرے اور آپکے درمیان جدائی ہے اور جن چیزوں کو دیکھ کر آپ صبر نہ کرسکے اُن کا راز میں آپ کو بتا دوں گا ۔ سنئے جو کشتی میں نے پھاڑ ڈالی وہ چند مسکینوں کی تھی جس کی آمدنی سے وہ لوگ گزر بسر کرتے تھے اور آگے ایک ظالم بادشاہ رہتا تھا جو سالم اور اچھی کشتیوں کو چھین لیا کرتا تھا اور عیب دار کشتیوں کو چھوڑ دیا کرتا تھا تو میں نے قصداً ایک تختہ نکال کر اُس کشتی کو عیب دار کردیا تاکہ ظالم بادشاہ کے غضب سے محفوظ رہے ۔ اور جس لڑکے کو میں نے قتل کردیا اس کے والدین بہت نیک اور صالح تھے ۔ یہ



Total Pages: 11

Go To