Book Name:Kaamil Mureed

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ بھی حضرت ایاز کی طرح اپنے ماضی کو یاد رکھئے اور ذرا غور تو کیجئے کہ جب امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تھے کیا حال تھا؟ ٭…  سر ننگا، چہرہ داڑھی سے خالی، لباس، بول چال اور انداز غیر مسلموں والے ، معاشرے کے دھتکارے و ستائے ہوئے تھے ۔ ٭…  کوئی بلاتا : ابے ادھر آ ۔ کوئی کہتا : اوئے ادھرآ، سنتا نہیں ہے ۔ ٭…  گالیاں دے کر پکارا جاتا مگر جب امیر اہلسنت کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو ٭…  اِنہوں نے سروں پر عزت کا تاج یعنی سبز سبز عمامہ رکھ دیا ۔ ٭…  چہرے کو آقا کی سنت کے مطابق داڑھی سے رونق بخش دی ۔ ٭…  غیر مسلموں کے لباس سے چھٹکارا دلا کر سنتوں بھرے لباس والا بنا دیا ۔ ٭…  جو قرآنِ مقدس کی ایک آیت درست پڑھنا نہ جانتے تھے اب اس بارگاہ کی برکت سے مسجد کی امامت کے فرائض سر انجام دینے لگے ۔ ٭…  جن کی زبان سے گالیاں نکلتی تھیں ان پر میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نعتیں سج گئیں ۔ ٭…  وہ دل جو لندن اور پیرس کے لیے ترستے تھے اب ہر دم مدینے کی یادوں میں تڑپتے نظر آنے لگے ۔ ٭…  جس کو مسجد میں آنے کی توفیق نہ ملتی تھی اب نہ صرف پانچوں وقت صفِ اول کا نمازی بلکہ ماہِ رمضان المبارک میں تیس دن کا معتکف بن گیا ۔ ٭…  اسی بارگاہ کی برکت سے تو بے شمار مبلغین نے بیان کرنا سیکھا، نعت خوانوں نے نعتیں پڑھنا سیکھیں ، خشوع و خضوع سے بارگاہِ خداوندی میں حاضر ہو کر گڑ گڑا کر مانگنے کا سلیقہ بھی تو یہیں سے آیا، سنت کے مطابق چلنا پھرنا، کھانا پینا، سونا جاگنا اور بولنا بھی یہیں سے سیکھا ۔

پیارے اسلامی بھائیو! جب یہ باتیں اور اپنا ماضی یاد آتا ہے تو قلب میں پیر کامل کی محبت اور بڑھ جاتی ہے اور یہ محبت تقاضا کرتی ہے کہ جیسا تیرا پیر کامل ہے تو بھی مرید کامل بن جا، تاکہ تیرا پیر تجھ سے راضی اور خوش ہو جائے ۔ اور ہمارے شیخ طریقت اپنے کس مرید سے خوش ہوتے ہیں آئیے انہی کی زبانی جانتے ہیں ۔ چنانچہ،

آپ فرماتے ہیں : میرا دل اپنے اس مرید سے خوش ہوتا ہے جو میرا یہ سنتوں کا کاروبار ([1]) لے کر آگے بڑھتا چلا جاتا ہے ۔ جو جتنا میرا سنتوں کا کاروبار لے کر آگے بڑھتا ہے میں اس سے خوش ہوتا جاتا ہوں ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جو مرید کامل دنیا سے اس حال میں گئے کہ ان کا پیر ان سے راضی و خوش تھا ان کی قسمت کے کیا کہنے ! کسی کو مفتیٔ دعوتِ اسلامی حضرت مولانا مفتی محمد فاروق عطاری مدنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی خواب میں آکر نماز کے لیے جگا جاتے ہیں ، قافلوں کے لیے نیکی کی دعوت دے جاتے ہیں ، تو کوئی ان کو احرام کی حالت میں طوافِ کعبہ کرتا ہوا دیکھتا ہے ، کوئی مرحوم نگرانِ شوریٰ حاجی محمد مشتاق عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی کو میٹھے مصطفے ٰ کی بارگاہ میں نعت سناتا ہوا دیکھتا ہے ۔ جب شہدائے دعوتِ اسلامی (حاجی محمد احد رضا عطاری اور محمد سجاد عطاری عَلَیْہِما رَحمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی ) کی قبروں کو کھولا جاتا ہے تو ایسے لگتا ہے کہ آج ہی ان کو قبر میں اتارا گیا ہے ۔ پس جو مرشد کی رضا و محبت لے کر اور کامل مرید بن کر قبر میں گئے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اپنی رحمت سے ان کی قبروں کو جنت کا باغ بنا دے گا ۔  

’’یا غوثِ اَعظم نگاہِ کرم‘‘ کے سولہ حُروف کی نسبت سے مُرشد کے 16حقوق

شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : میرے آقا اعلٰی حضرت، اِمامِ اَھلسنّت ، وَلیِ نِعمت، عَظِیمُ البَرَکت، عظیمُ المَرْتَبَت، پروانۂ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین و مِلَّت، حامیِ سُنَّت، ماحِیِ بِدعت، عالِمِ شَرِیعت پیرِ طریقت، باعثِ خَیرو بَرَکت، حضرتِ علامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : مرشد کے حقوق مرید پر شُمار سے (بھی) اَفزوں (یعنی بڑھ کر) ہیں ۔ خُلاصہ یہ ہے کہ (مرید)

(۱) … اِن (یعنی مرشد) کے ہاتھ میں ’’مردہ بدستِ زندہ‘‘ (یعنی زندہ کے ہاتھوں میں مردہ کی طرح) ہو کر رہے ۔

(۲) … اِنکی رِضا کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی ر ِضا، اِنکی ناخوشی کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی ناخوشی جانے ۔

(۳) … انہیں اپنے حق میں تمام اولیائے زمانہ سے بہتر سمجھے ۔

(۴) … اگر کوئی نعمت بظاہر دوسرے سے ملے تو بھی اسے (اپنے ) مرشدہی کی عطا اور انہیں کی نَظَرِ توجّہ کا صدقہ جانے ۔

(۵) …مال، اولاد، جان، سب ان پر تصدُّق کرنے (یعنی لُٹانے ) کو تیّار رہے ۔

(۶) … ان کی جو بات اپنی نظر میں خِلافِ شَرع بلکہ  کبیرہ (گناہ) معلوم ہو اس پر بھی نہ اعتراض کرے ، نہ دل میں بدگمانی کو جگہ دے بلکہ یقین جانے کہ میر ی سمجھ کی غلطی ہے ۔

(۷) … دوسرے کو اگر آسمان پر اُڑتا دیکھے جب بھی (اپنے ) مرشد کے سوا دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دینے کو سخت آگ جانے ، ایک باپ سے دوسرا باپ نہ بنائے ۔

(۸) … ان کے حضور بات نہ کرے ۔

(۹) … ہنسنا تو بڑی چیز ہے ان کے سامنے آنکھ، کان، دل، ہمہ تن ( یعنی مکمّل طور پر) انہیں کی طرف مصروف رکھے ۔

(۱۰) … جو وہ پوچھیں نہایت ہی نرم آواز سے بکمالِ ادب بتا کر جلد خاموش ہوجائے ۔

(۱۱) …ان کے کپڑوں ، ان کے بیٹھنے کی جگہ، اِن کی اولاد، ان کے مکان، ان کے مَحَلّے ، اِن کے شہر کی تعظیم کرے ۔

(۱۲) … جو وہ حکم دیں ’’ کیوں !‘‘ نہ کہے (اور بجالانے میں ) دیر نہ کرے (بلکہ) سب کاموں پر اسے تَقدِیم (یعنی اَوَّلیَّت) دے ۔

(۱۳) …اِن کی غَیبت (’’غَے ۔ بَتْ‘‘ یعنی غیر موجودَگی) میں بھی اِن کے بیٹھنے کی جگہ نہ بیٹھے ۔

(۱۴) … اِن کی موت کے بعد بھی ان کی زَوجہ سے نِکاح نہ کرے ۔

(۱۵) … روزانہ اگر وہ زِندہ ہیں ، اِن کی سلامتی و عافیت کی دُعا بکثرت کرتا رہے اور اگر اِنتِقال ہوگیا تو روزانہ اِن کے نام پر فاتِحہ و دُرُود کا ثواب پہنچائے ۔

(۱۶) … ان کے دوست کا دوست، اِن کے دشمن کا دشمن رہے ۔ اللہ ورسول   عَزَّ وَجَلَّ  وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد اِن کے عِلاقے (یعنی تعلُّق) کو تمام جہان کے عِلاقے (یعنی تعلُّق) پر



30    سنتوں کے کاروبار سے مراد تبلیغ قراٰن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کا مدنی کام کرنا ہے ۔



Total Pages: 11

Go To