Book Name:Kaamil Mureed

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

کامل مرید[1]

درود شریف کی فضیلت

حضرت سیدنا ابوامامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ میٹھے میٹھے آقا مدینے والے مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ تقرب نشان ہے :   ”  جمعہ کے دن مجھ پر درودِ پاک کی کثرت کیا کرو کیونکہ میری امت کا درود ہر جمعہ کے دن مجھ پر پیش کیا جاتا ہے ، (قیامت کے دن) لوگو ں میں سے میرے زیادہ قریب وہی شخص ہوگا جس نے (دنیا میں ) مجھ پر کثرت سے درود پڑھا ہوگا ۔ “ ([2])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                     صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مرید ہو تو اعلی حضرت جیسا

حضرت مولانا سید ابو القاسم اسماعیل حسن شاہ جی میاں صاحب مارِہروی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کا بیان ہے کہ ایک بار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَحْمٰن اور تاج الفحول حضرت مولانا عبد القادر صاحب بدایونی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی کے درمیان کسی مسئلہ پر علمی بحث ہوئی ۔ اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نے ان کا موقف ماننے سے انکار کر دیا تو انهوں نے فرمایا کہ آپ ميرے ساتھ سیتا پور (اتر پردیش ہند) چلیے اور وہاں حضور جدِ امجد سیدنا شاہ آلِ احمد اچھے میاں صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی کتاب آئینہ احمدی کی جلد عقائد میرے کتب خانے میں موجود ہے اور دیگر کتب صوفیا بھی موجود ہیں ان میں فرق دیکھ لیجئے کہ میں جو کہہ رہا ہوں وہ درست ہے یا جو آپ فرماتے ہیں وہ درست ہے ۔ چنانچه دونوں حضرات (سيتا پور)  تشریف لائے اور اوّلاً مولانا عبدالقادر صاحب نے آئینۂ احمدی کی جلد عقائد سے ہمارے پیران کے سلسلے سے تعلق رکھنے والے حضرت سیدنا احمد صاحب کانپوری قُدِّسَ  سِرُّہ کی کتاب زبدۃ العقائد نکال کر دکھائی ۔ اسے دیکھ کر میرے آقا اعلیٰ حضرت امام اہلسنت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نے ارشاد فرمایا کہ میں بغیر دلیل یہ بات تسلیم کیے لیتا ہوں اگرچہ دلیل سے یہ فرق میرے ذہن میں نہیں آیا لیکن چونکہ میرے مرشدانِ عظام یہ فرماتے ہیں اس لیے اپنے مرشدانِ عظام کے ارشاد پر سرِ تسلیم خم کیے دیتا ہوں ۔ ([3]) یہ ابتدائی دور کی بات ہے ورنہ بعد میں اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کی سمجھ میں یہ بات آ گئی تھی اور پھر آپ نے اسی موقف کو اَلْمُعْتَمَدُ الْمُسْتَنَد میں مفصل و مدلل انداز میں بیان بھی فرمایا ۔ ([4])

مرشد كا فرمان سر آنكھوں پر!

سُبْحَانَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ! میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حکایت میں امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَحْمٰن کی حیاتِ طیبہ سے یہ انتہائی اہم مدنی پھول حاصل ہوا کہ مرید ہو تو اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت جیسا، جو مرشد کے فرمان پر اپنے قول کو ترک کر دے ۔ یعنی جب کوئی مرید کسی بات کو اپنی عقل کے پیمانے پر تولے مگر اس کے پیر خانے کا فرمان اس کے برعکس ہو تو اسے چاہیے کہ اپنے پیر خانے کے فرمان کو سنتے ہی بغیر دلیل کے فوراً مان لے اور اپنی عقل کو پیر خانے کے فرمان پر قربان کر دے ۔

پیارے اسلامی بھائیو! اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کی حیاتِ طیبہ سے حاصل ہونے والا یہ ایک ایسا اہم مدنی پھول ہے جس میں عموماً بہت سے راہِ طریقت کے راہی یعنی مرید مات کھا جاتے ہیں ۔ کیونکہ مرید جب اپنے جامع شرائط پیر کی کسی بات یا کسی معاملے کو دیکھ کر اسے اپنی عقل کے ترازو میں تولتا ہے تو عین ممکن ہے کہ وہ بات اس کی ناقص عقل میں نہ آئے اور پیر پر اعتراض کر بیٹھے ۔ چنانچہ،

پیر پر اعتراض سے بچو

یاد رکھئے ! اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت فتاوي رضویہ شریف میں نقل فرماتے ہیں :  ” پیروں پر اعتراض سے بچے کہ یہ مریدوں کے لئے زہر قاتل ہے ۔ کم کوئی مرید ہوگا جو اپنے دل میں شیخ پر کوئی اعتراض کرے پھر فلاح ([5]) پائے ۔

مزید نقل فرماتے ہیں کہ شیخ کے تصرفات سے جو کچھ اسے صحیح نہ معلوم ہوتے ہوں ان میں (حضرت) خضر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے واقعات یاد کر لے کیونکہ ان سے وہ باتیں صادر ہوتی تھیں بظاہر جن پر سخت اعتراض تھا (جیسے مسکینوں کی کشتی میں سوراخ کردینا، بے گناہ بچے کو قتل کردینا) پھر جب وہ اس کی وجہ بتاتے تھے ظاہر ہو جاتا تھاکہ حق یہی تھا جو انھوں نے کہا، یوں ہی مریدکو یقین رکھنا چاہئے کہ شیخ کا جو فعل مجھے صحیح معلوم نہیں ہوتا ۔ شیخ کے پاس اس کی صحت پر دلیل قطعی ہے ۔ ([6])

عقل کو تنقید سے فرصت نہیں  

 



1  مبلغ دعوتِ اسلامی و نگرانِ مرکزی مجلسِ شوریٰ حضرت مولانا حاجی محمد عمران عطاری مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی  نے یہ بیان شیخِ طریقت، امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی شبِ ولادت ۲۶رمضان المبارک ۱۴۲۷ھ بمطابق اکتوبر 2006ء کو تبلیغ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ کراچی میں سنتوں بھرے اجتماع میں فرمایا ۔ ۱۷شوال المکرم ۱۴۳۳ھ بمطابق 5ستمبر 2012 ء کو ضروری ترمیم و اضافے کے بعد تحریری صورت میں پیش کیا جارہا ہے ۔  (شعبہ رسائلِ دعوتِ اسلامی مجلس المدینۃ العلمیہ)

2   السنن الکبری، کتاب الجمعۃ، باب مایومر بہ فی لیلۃ الجمعۃ، الحدیث : ۵۹۹۵، ج۳، ص ۳۵۳

3   حیاتِ اعلٰی حضرت، ج۱،  ص ۱۰۳ تا ۱۰۵  متلقطاً

4   حیات اعلی حضرت، ج۱، ص۴۳۸

5   فلاح عربی زبان کا لفظ ہے ، جس سے مراد دنیا و آخرت کی کامل کامیابی ہے ۔

6   فتاوی رضویہ، ج۲۱، ص۵۱۰



Total Pages: 11

Go To