Book Name:Sadqay ka Inaam

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

صدقے کا انعام[1]

درود شریف کی فضیلت

سرکارِ مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالی شان ہے : بے شک تمہارے نام مع شناخت مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں لہٰذا مجھ پر اَحسن ) یعنی خوبصورت الفاظ میں(دُرود پاک پڑھو۔([2])

صدقے کا انعام

منقول ہے کہ ایک مرتبہ اَمِیْرُ المومنین مولا مشکل کشا حضرت سَیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے کاشانۂ اقدس میں پانچ افراد تھے ، مولا مشکل کشا رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ، خاتونِ جنّت، شہزادیِ کونین، سیدۃُ النساء حضرت سَیِّدَتُنا فاطمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا، حسنین ِ کریمین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما اور آپ کا ایک غلام حارِث، صَبر و رَضا کے پیکراِن نُفُوسِ قدسیہ کے فقر کاعالَم یہ تھا کہ تین دن سے کسی نے کچھ نہ کھایا تھا۔چنانچہ خاتونِ جنّت رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا نے مولا مشکل کشا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو اپنا ایک لباس دیا تاکہ وہ اسے فروخت کرکے کھانے پینے کے لیے کچھ لے آئیں۔آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ لباس لے کر بازار کی طرف چل دیئے اور چھ دِرہم میں اسے فروخت کردِیا، واپسی پرکسی نے اللہ کے نام پر مدد کا سوال کیا تو مولا مشکل کشا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اپنے رب کے بھروسے پر تمام درہم راہِ خُدا میں دیدئیے اور خودصبر و رضا کا دامَن ہاتھ میں لیے واپسی کی راہ لی۔

بھوکے رہ کے خود اوروں کو کھلا دیتے تھے

کیسے صابِر تھے محمّد کے گھرانے والے

راستے میں ایک شخص کو اونٹنی لیے کھڑے دیکھا، جس نے آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے عرض کی : یَااَبَاالْحَسَن!(یہ مولا مشکل کشا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی کنیت ہے ) اونٹنی خریدیں گے ؟ ارشاد فرمایا : کیوں نہیں! کتنے کی ہے ؟اس نے عرض کی : 100 درہم کی۔ فرمایا : میرے پاس رقم نہیں ہے ۔ بیچنے والا کہنے لگا : اُدھار خرید لیجئے جب رقم آئے تو ادا کردیجئے گا۔ فرمایا : بَہُت خوب!چنانچہ

 آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے 100درہم ادھار میں وہ اونٹنی خریدلی اور آگے بڑھے تو کچھ فاصلے پر ایک اورشخص ملا جس نے عرض کی : یَااَبَاالْحَسَن!اونٹنی بیچیں گے ؟ فرمایا : کیوں نہیں! پوچھا : کتنے کی خریدی؟ فرمایا : 100 درہم کی۔ کہنے لگا : 60 نفع لے کر بیچ دیجئے ۔فرمایا : بَہُت خوب!چنانچہ آپ نے وہ اونٹنی 160 درہم میں فروخت کردی۔ آگے بڑھے تو بیچنے والا ملا جس نے آپ کو خالی ہاتھ دیکھ کر پوچھا : وہ اونٹنی کہاں گئی؟ کیا بیچ دی؟فرمایا : ہاں!بیچ دی۔ پوچھا کتنے میں؟ بتایا : 160 درہم میں۔ عرض کی : میرے 100مجھے لوٹا دیجئے ۔آپ نے اس کے 100 دِرہم اسے لوٹا دیئے اور بقیہ 60 دِرْہَم جاکر خاتونِ جنّت رضی اللّٰہ تعالٰی عنہاکو عطا فرما دئیے ، آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا اتنے درہم دیکھ کر حیران ہو گئیں، کیونکہ جو لباس آپ نے دیا تھا وہ اتنا قیمتی نہ تھا کہ 60 درہم میں بکتا لہٰذا آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا نے پوچھا : یہ 60 درہم کہاں سے آئے ؟ تو مولا مشکل کشا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے فرمایا : میں نے چھ درہموں کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ تجارت کی کہ اس کی راہ میں چھ درہم صَدقہ کیے اوراس نے مجھے 6 کے 60 لوٹا دیئے ۔ اگلے روز مولا مشکل کشا علی المرتضی، شیر خُدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سرکار ِ ذی وَقار، باذنِ پروردگار دو عالَم کے مالک و مختار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمتِ مُبارَکہ میں حاضِر ہوئے اور اپنا سارا واقعہ عرض کیاتو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہ تعالٰی

علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : اے علی!کیا تم جانتے ہو کہ کل کا مُعامَلہ کیا تھا؟ عرض کی : وَاللهُ وَرَسُولُهُ اَعْلَم۔(یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم خوب جانتے ہیں) تو آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے غیب کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے علی! کل جس نے اونٹنی بیچی وہ میکائیل(عَلَیْہِ السَّلَام ) اور جس نے اونٹی خریدی وہ جبرئیل (عَلَیْہِ السَّلَام ) تھے اور جوا ونٹنی آپ نے خریدی اور بیچی وہ میری بیٹی خاتونِ جنّت کی روزِ قیامت سواری ہوگی۔([3])

اَسلاف کا معمول

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حِکایَت سے جہاں اِمامُ الاسخیاء، مَولا مشکل کُشا عَلِیُّ المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی سَخاوَت اور خاندانِ نبوّت کی فضیلت کا پتا چلتا ہے ، وہیں رِضائے اِلٰہی کے حُصُول کے لئے صَدقہ وخیرات دینے کی اَہَمِیَّت بھی اُجاگَر ہوتی ہے ۔کیونکہ راہِ خُدا میں صَدقہ وخیرات کرنا ہمارے آقا مکّی مَدَنی مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عظیم سنّت ہے ، آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دَرِ جُود سے کوئی سوالی خالی نہ جاتا، یہی وجہ ہے کہ تمام اَسلاف یعنی بارگاہِ نبوّت سے تربیّت پانے والے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، تابعین وتبع تابعین، اَولِیائے کامِلین وعُلَمائے دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین بھی صَدقہ وخیرات کے ذریعے

 فقراء ومَساکین کی مدد کر کے اس کی بَرکات سے فیض یاب ہوتے رہے ۔ الغرض یہ سلسلہ صدیوں پر محیط ہے اور تاقِیامِ قِیامَت جاری رہے گا۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ

 



[1]   مبلغِ دَعوتِ اِسلامی و نگران مرکزی مجلسِ شُوریٰ حضرت مولانا ابو حامِد حاجی محمد عمران عطاری مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی نے یہ بیان 2006ء کو تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ (کراچی) میں سنّتوں بھرے اجتماع میں فرمایا۔ ۲۶ صفر المظفر  ۱۴۳۴ ھـ بمطابق 09 جنوری  2013ء کو ضَروری ترمیم و اِضافے کے بعد تحریری صُورت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ (شُعْبَہ رَسَائِلِ دَعْوَتِ اِسْلَامی مَجْلِس اَ لْمَدِیْنَةُ الْعِلْمِیة)

[2] مصنّف عبد الرزاق، ۲ / ۱۴۰، حديث : ۳۱۱۶

[3]  قلیوبی، ص۳۳



Total Pages: 11

Go To