Book Name:Jannat ka Raasta

ہوگی توعَقْل کا بے لگام گھوڑا ٹھوکر کھاکر جَہَالَت کے اندھیروں میں بھٹکتا رہ جائے گا ۔آج اگر ہم اپنے اِرْدگِرد پائی جانے والی برائیوں کی وجوہات کا جائزہ لیں تو ہمیں اس کی ایک بَہُت بڑی وجہ جَہَالَت بھی نظر آئے گی کہ لوگ لا علمی کی وجہ سے ان برائیوں اور گناہوں میں مبتلا ہیں اور یہ تو ظاہر ہے کہ جو جَہالَت کے نشہ میں بدمست ہووہ کیا جانے کہ برائی کیا ہے اور اچھائی کیا؟تاکہ برائی چھوڑ کر اچھائی اختیار کرے۔ چنانچہ،  

حضرتِ سیِّدُنا مُعاذ بن جَبَل رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  سے مروی ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے رسول،  رسولِ مقبول،  سیِّدہ آمِنہ کے گلشن کے مَہکتے پھول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ مقبول ہے:  بے شک تم لوگ اپنے ربّ کی طرف سے دلیل  (یعنی ہِدایت)  پر ہوجب تک تم میں دو نشے ظاہرنہ ہوں،  ایک جَہالت کانَشہ اور  دوسرا دُنیوی زِنْدَگی سےمَحبَّت کانَشہ۔ پس تم لوگ  (ابھی تو) :  نیکی کا حکم دیتے ہواور بُرائیوں سے مَنع کرتے ہو اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی راہ میں جِہاد کرتے ہو  (لیکن)  جب تم میں دُنیا کی مَحبَّت  پیدا ہوجائے گی تو تم نہ تو نیکی کا حکم دو گے اور نہ بُرائیوں سے مَنع کرو گے اور نہ راہ ِ خدا میں جِہاد کرو گے۔ پس اُس وقت قرآن و سنّت کی بات کہنے والا مُہاجِرین اور انصار میں سب سے پہلے ایمان لانے والوں کی طرح ہوگا۔  (مجمعُ الزوائد،   کتاب الفتن،  باب النھی عن المنکر عند فساد الناس،  ۷  / ۵۳۳،  حدیث:  ۱۲۱۵۹)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!افسوس! فی زمانہ یہ دونوں  ’’ مذموم نشے ‘‘  عام دیکھے جا رہے ہیں۔ جَہالت کے نَشے میں آج ہماری غالِب اکثریَّت بد مست ہے۔ اگر کوئی کہے کہ تعلیم تو خوب عام ہوگئی ہے اور جگہ بہ جگہ اسکول اور کالج کُھل چکے ہیں اب جَہالت کہاں رہی ہے ؟تومُعاف کیجئے دُنیوی تعلیم جَہالت کا علاج نہیں۔ صحیح یہی ہے کہ اسلامی اَحکام پر مبنی فرض عُلُوم حاصِل کرنے ہی سے دِینی جَہالت دُور ہو سکتی ہے۔ فی زمانہ مسلمانوں کی بھاری اکثریَّت میں ضَروری دینی معلومات کا بے حد فُقدان (یعنی کمی)  ہے۔ آج دنیا جن لوگوں کو تعلیم یافتہ کہتی ہے اُن کی اکثریَّت دُرُست مَخارِج سے قرآنِ کریم نہیں پڑھ سکتی! یہ جَہالت نہیں توکیا ہے ؟ پڑھے لکھوں  سے وُضو اور غُسل کا صحیح طریقہ یا نَماز کے اَرکان پوچھ لیجئے شاید ہی کوئی بتا پائے،  ان سے جنازے کی دُعا سنانے کی فرمائش کر دیکھئے شاید بَغْلیں جھانکنے لگیں! افسوس صد کروڑ افسوس!آج کل اکثر مسلمانوں کی توجُّہ صِرف اور صِرف دُنیوی تعلیم کی طرف ہے،  اِسی کی ہر طرف پَذِیرائی (یعنی مقبولیت)  ہے،  ساری دولت وقوت اِسی پر صَرف کی جارہی ہے جبکہ دینی تعلیم کے اِدارے مُفْت پڑھانے،  مُفْت کِھلانے اور قِیام کی مُفْت سَہولتیں بَہَم پَہُنْچانے کے باوُجُود ویران پڑے ہیں۔ یقیناً یہ سب دنیاوی زِنْدَگی کے نشے کے کرشمے ہیں۔

مجھے دَر پہ پھر بُلانا مَدَنی  مدینے والے

مَئے عِشْق بھی پِلانا مَدَنی  مدینے والے

 (وسائلِ بخشش،  ص۲۸۳)

عُروج وتَرقّی کا قصر رفیع

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ دعوتِ اسلامی یہ سمجھتی ہے کہ مسلمانوں کے عروج و ترقی کا قصر رفیع عِلْم و عَمَل کی بنیادوں پر ہی قائم ہوسکتا ہے۔ چنانچہ آپ دعوتِ اسلامی کا جو شعبہ اٹھا کر دیکھ لیں،  آپ کو عِلْم و عَمَل کی بہاریں نظر آئیں گی،  سینکڑوں مدارس المدینہ،  مَدَنی منوں اور مَدَنی منیوں کو قرآنِ مجید تجویدکے ساتھ پڑھانے اور حفظ کروانے کےلئے قائم ہیں،  تفہیم قرآن وحدیث اور احکام شرع کی اشاعت و ترویج کیلئےکئی مقامات پر جامعۃ المدینہ قائم ہیں،  یوں ہی دار المدینہ کے ذریعے عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ فرض عُلوم کو عام کیاجا رہا ہے،  فرض عُلوم کورس،  مَدَنی  تربیتی کورس،  مَدَنی قافلے اور گھر گھر عِلْمِ دِین کی بہاریں لُٹانے والا مَدَنی  چینل۔ یہ سب دعوتِ اسلامی کی اسی سوچ کے عکّاس ہیں کہ ہم دنیا و آخرت میں کامیابی باتوں کے ذریعے نہیں بلکہ قرآن وسنّت کی تعلیمات پر عمل کرکے ہی حاصل کر سکتے ہیں۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج کے دور میں ہر طرف پھیلے ہوئے جَہالت کے اندھیروں کو دور کرنے کے لئے بَہُت ضروری ہے کہ ہم اپنی مَصروفیات میں سے کچھ وَقْت نکالیں اور عِلْم کی شَمْع لے کر چار سُو پھیل جائیں۔چنانچہ اجتِماع  کے اختِتام پر سفر کرنے والے سنّتوں  کی تربیَّت کے مَدَنی  قافِلوں میں ضرور بالضرور سفر فرمائیں۔

شیخِ طریقت،  اَمِیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ ناز تصنیف  ’’ نیکی کی دعوت  ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں: عاشِقانِ رسول کا30 دن کا ایک مَدَنی  قافِلہ راہِ خدا میں سفر پر تھا۔ اِس دَوران ایک مقام پر سُنَّتیں سیکھنے سکھانے کے مَدَنی  حلقے میں جب غُسل کے فرائض سکھائے گئے توایک بُزرگ روتے ہوئے کہنے لگے کہ  ’’ میری عُمر 70سال ہو چکی ہے مگر مجھے غُسل کے فرائض کی معلومات نہ تھی،  آج مَدَنی  قافِلے کی بَرَکت سے مجھے غُسل کے فرائض سیکھنے کو ملے،  افسوس!مجھے تو یہ تک پتا نہ تھا کہ غُسل میں فرائض بھی ہوتے ہیں! ‘‘

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غُسل کے فرائض تک سے لاعلمی کا اعتِراف کرنے والے 70سالہ اسلامی بھائی کے واقِعے سے مَدَنی قافِلوں کی ضَرورت و اَہَمِیَّت کا



Total Pages: 14

Go To