Book Name:Jannat ka Raasta

حدیث: ۲۲۷۶۰)  اور ایک روایت میں ہے کہ اس ذات کی قسم جس کے قَبضۂ قدرت میں میری جان ہے! کتابُ اللہ کی ایک آیت سننا پہاڑ  (جَبَلِ صَبِیْر)  کی مثل صدقہ کرنے کے اجر سے زیادہ عظیم ہے۔  (جمع الجوامع،  حرف الواو،  ۸ /  ۸۲،  حدیث: ۲۴۶۱۵) اور ایک روایت میں ہے کہ کان لگاکر قرآن سننے والے سے دنیا کی تکلیف دور کر دی جاتی ہے اور پڑھنے والے سے آخِرَت کی مُصِیْبَت۔ قرآن کی ایک آیت سننے والے کےلئے یہ سننا سونے کے پہاڑ سے بہتر ہے اور قرآن کی ایک آیت تِلاوت کرنے والے کے لئے یہ پڑھنا آسمان کے نیچے موجود تمام اشیاء سے بہتر ہے۔  (کنز العمال،  کتاب الاذکار،  ۱  /  ۲۶۵،  حدیث: ۲۳۵۹)

) 2 (     نعت شریف پڑھی جاتی ہے

خدا کا ذکر کرے،  ذکرِ مصطفےٰ نہ کرے

ہمارے منہ میں ہو ایسی زباں خدا نہ کرے

تِلاوَتِ قرآنِ مجید کے بعد نعت شریف پڑھی جاتی ہے۔ نعت شریف پڑھنے و سننے کے بھی کیا کہنے!چُنانْچہ،  

ام المومنین حضرت  سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ  سرکارِ نامدار،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی نعت  شریف پڑھنے کے لیےجناب حَسَّان بِن ثَابِت رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  کے لیے مَسْجِد شریف میں مِنْبَر  رکھواتے  تھے۔  (مشکاۃ المصابیح،  کتاب الآداب،  باب البیان و الشعر،  الفصل الثالث،  ۲ /  ۱۸۸،  حدیث:  ۴۸۰۵)

انسانیت کو فخر ہے تیری ذات سے

بے نور تھا خرد کا ستارہ تیرے بغیر

(3)    بیان ہوتا ہے

اجتِماع  میں سنّتوں  بھرا بیان ہوتا ہے جس میں علم دین کے موتی لٹائے جاتے ہیں۔ حصو ل اور اشاعت علم دین کی فضیلت کے تو کیاہی کہنے !

طالب علم کے گناہ معاف

امىر المومنىن مولىٰ مشكل كشا شىر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے مروی ہے کہ حضورنبی ٔرحمت،  شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرماىا:   ’’ جو بندہ عِلْم كى جستجو مىں جُوتے،  مَوزے ىا كپڑے پہنتا ہے تو اپنے گھر كى چَوكھٹ سے نكلتے ہی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس كے گناہ مُعاف فرما دیتا ہے۔ ‘‘  (المعجم الاوسط،  ۴ / ۲۰۴،  حدیث: ۵۷۲۲)

افضل عمل

دو جہاں کے تاجْوَر،  سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مسجد میں دومجالس کے پاس سے گزر ہوا تو ارشاد فرمایا:   ’’ یہ دونوں بھلائی پر ہیں مگر ایک مجلس دوسری سے بہتر ہے،  یہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  سے دعا کررہے ہیں اوراس کی طرف راغب ہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اگر چاہے انہیں دے،   چاہے نہ دے،  جبکہ یہ لوگ دینی مسائل اورعلم سیکھ رہے ہیں اورنہ جاننے والوں کو سکھا رہے ہیں،  یہ افضل ہیں۔ میں معلِّم ہی بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ‘‘ پھر آپ ان میں تشریف فرما ہوئے ۔  (سنن الدارمی،  المقدمۃ،  باب فی فضل العلم والعالم،  ۱ / ۱۱۱،  حدیث: ۳۴۹)

جنَّت کے باغات

حضرت ِ ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما  سے مروی ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار باذنِ پروردگار،  مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:  ’’ جب تم لوگ جنت کے باغات میں سے گزرو تو میوہ چن لیا کرو۔ ‘‘  اس پر کسی نے عرض کی:  جنت کے باغات کیا ہیں؟ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:  ’’ علم کی مجلسیں۔ ‘‘   (المعجم الکبیر،  ۱۱ / ۷۸،  حدیث: ۱۱۱۵۸)

گزشتہ گناہوں کا کفّارہ

سرکارِ مدینہ،  راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ مغفرت نشان ہے:   ’’ جو شخص علم طلب کرتا ہے تو وہ اس کے گزشتہ گناہوں کا کفّارہ ہو جا تا ہے۔ ‘‘   (تِرمِذی،  کتاب العلم،  باب فضل طلب العلم،  ۴ / ۲۹۵،  حدیث: ۲۶۵۷)

علم کی روشنی

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ان روایات سے عِلْمِ دِین کے حُصول  کیلئے سنّتوں  بھرے  اجتِماعات میں حاضری کی اہمیت و فضیلت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔مگر افسوس! آج مسلمان عِلْمِ دِین سے دُور جا پڑا ہے اور شاید یہ ہی وجہ ہے کہ یہ راہِ ہدایت سے بھٹک کر گناہوں کی دَلْدَلْ میں پھنس چکا ہے۔ جس طرح اندھیرے میں سفر کرنے کے لئے چَراغ کی روشنی ضروری ہے اسی طرح زِنْدَگی کے اس سفر میں کامیابی کے لئے عَقْل کو عِلْم کے چَراغ کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر عِلْم کی روشنی نہیں



Total Pages: 14

Go To