Book Name:Jannat ka Raasta

میں کیا ہوتا ہے؟

اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ  وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کےتحت ہونے والے ہفتہ وار سنّتوںبھرے اجتِماعات تِلاوتِ قرآن،  نعتِ رَحْمَتِ عَالَمِیَّان صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم،  سنّتوں بھرے بیان،  رِقَّت اَنگیز دُعاؤں،  ذِکر ودُرُود،  صلوٰۃ وسَلام کے مَدَنی  پھولوں اور عِلْمِ دِین کے گُلْدَسْتوں سے سجے ہوئے ہوتے ہیں اور یقیناً اس طرح کے اجتِماعات میں شِرکَت کثیر اَجْر وثَواب اور بَرکات کے حُصول کا ذریعہ ہے۔ چنانچہ،  

پاکیزہ باتیں چننے والے

رحمتِ عالم،  نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ مُعظَّم ہے:  قِیامت کے دِن کچھ ایسے لوگ ہو ں گے جونہ انبیا ہوں گے نہ شُہَدا،  (مگر)  ان کے چہروں کا نُور دیکھنے والوں کی نِگاہوں کو خیرہ  (یعنی چکا چَوند) کرتا ہوگا۔انبیا وشُہَدا ان کے مقام اورقُربِ الٰہی کو دیکھ کر اظہارِ مَسَرَّت فرمائیں گے۔ صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  میں سے کسی صَحابی نے عرض کی : یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم! یہ کون (خوش نصیب)  ہوں گے؟ ارشاد فرمایا: یہ مختلف قبائل اور بستیوں کے لوگ ہوں گے جو (دنیا میں)   اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی یاد کرنے کے لئے اکٹھے ہوتے تھے اور پاکیزہ باتیں اس طرح چُنتے تھے جس طرح کھجور کھانے والا بہترین کھجوریں چُنتا ہے۔  (الترغیب والترہیب،  کتاب الذکر والدعاء،  الترغیب فی حضور مجالس الذکر۔۔ الخ،  ۲ / ۲۵۲،  حدیث: ۲۳۳۴)

ہمنشین بھی محروم نہیں رہتا

حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما  فرماتے ہیں کہ دو جہاں کے تاجْوَر،  سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضرتِ سیدنا عبد ﷲ بن رواحہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  کے پاس سے گزرے تووہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے درمیان  ’’ بیان ‘‘ کررہے تھے ۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:  ’’ تم ہی وہ لوگ ہو جن کے ساتھ میرے رب عَزَّ  وَجَلَّ نے مجھے صبر کرنے کا حکم دیا ہے۔ ‘‘  پھر یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:  

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْۚ-تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا (۲۸)   (پ۱۵،  الکہف: ۲۸)

 ترجمۂ کنز الایمان : اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح وشام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضاچاہتے ہیں اور تمہاری آنکھیں انہیں چھوڑ کر اَور پرنہ پڑیں کیا تم دنیا کی زندگانی کاسنگار چاہو گے اوراس کا کہا نہ مانو جس کا دِل  ہم نے اپنی یا د سے غا فل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلااور اس کا کام حد سے گزرگیا۔

پھر ارشادفرمایا:  جب تمہارا کوئی گروہ بیٹھتاہے تو اس کے ساتھ اتنی ہی تعداد میں ملائکہ بھی بیٹھ جاتے ہیں اگر تمہارا گروہ سُبْحَانَ ﷲ کہتا ہے تو فرشتے بھی سُبْحَانَ ﷲ کہتے ہیں اگر تم اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہتے ہو تو فرشتے بھی اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہتے ہیں اور اگر تم اَللہُ اَکْبَر کہتے ہو تو فرشتے بھی اَللہُ اَکْبَر کہتے ہیں،  پھر وہ فرشتے اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں اور عرض کرتے ہیں  (حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ زیادہ جاننے والا ہے) :  اے ہمارے رب!تیرے بندے تیری پاکی بیان کرتے تھے تو ہم نے بھی تیری پاکی بیان کی،  انہوں نے تیری بڑائی بیان کی تو ہم نے بھی تیری بڑائی بیان کی،  انہوں نے تیری حمد بیان کی تو ہم نے بھی تیری حمد بیان کی۔ تو ہمارا رب عَزَّ  وَجَلَّ فرماتاہے: اے فرشتو !گواہ ہو جاؤ کہ میں نے انہیں بخش دیاہے ۔وہ عرض کرتے ہیں: ان میں فلاں بندہ بڑا بد کار ہے۔تو  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  فرماتاہے: وہ ایسی قوم ہے جس کا ہمنشین بھی بدبخت نہیں رہتا۔ (مجمع البحر ین ،  کتاب الاذکار ،  باب مجالس ذکر اللہ ،  ۴ / ۱۹۲،  حدیث:  ۰ ۴۵۲)

) 1 (     آغاز تلاوت سے ہوتا ہے

ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتِماع  کا آغاز بعدنمازِ مَغْرِب سورۂ مُلک کی تِلاوت سے ہوتا ہے،  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اجتِماع  میں شِرکت کی بَرَکت سے ہمیںاس سُورت کی سَماعت کا ثَواب بھی حاصل ہوگا۔چنانچہ،  

سورۂ ملک کی تلاوت کی فضیلت

حضرتِ سیِّدُنااَنس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  سے مروی ہے کہ رحمتِ عالَم،  نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: قرآنِ کریم میں ایک سورت ہے جو اپنے قاری کے بارے میں جھگڑا کرے گی یہاں تک کہ اسے جنّت میں داخل کرا دے گی اور وہ یہی سورۂ مُلک ہے۔  (المعجم الاوسط،  ۲  /  ۴۰۱،  حدیث: ۳۶۵۴)

تلاوت سننے کی فضیلت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جہاں قرآنِ کریم کی تِلاوَت کرنے کے فضائل مروی ہیں وہیں قرآنِ کریم کی تِلاوَت سننے کے فضائل کے متعلق بھی کئی روایات مروی ہیں۔ چنانچہ مروی ہے کہ جس نے قرآنِ کریم کی تلاوت سنی تو اس کے لیے ہر ہر حرف کے بدلے ایک نیکی لکھی جائے گی۔   (جمع الجوامع،  حرف المیم،  ۷ / ۲۴۵،  



Total Pages: 14

Go To