Book Name:Jannat ka Raasta

وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مَلال و اکتاہَٹ کے خَدشے کے پیشِ نظر ہماری حِفاظَت کرتے تھے۔ (بخاری ،  کتاب العلم،  باب من جعل لاھل العلم ایاما معلومۃ،  ۱ / ۴۲،  حدیث۷۰)

ہفتہ وار سنّتوں  بھرے اجتِماعات

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ تَبلیغِ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت دنیا کے کئی ممالک میں ہفتہ وار سنّتوں  بھرے اجتِماعات ہوتے ہیں۔اسلامی بھائیوں کیلئےہر جُمِعْرات  (Thursday)  کو بعد نمازِ مَغْرِب اور اسلامی بہنوں کیلئے ہر اِتوار  (Sunday)  کو بعد نمازِ ظُہر ہزاروں مَقامات پر سنّتوں  بھرے اجتِماعات ہوتے ہیں جن میں لاکھوں لاکھ اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں شِرکت کی سَعادت پاتے ہیں۔

آپ بھی اپنے اِرْد گِرد کے ماحَول کو سنّتوں  کے سانچے میں ڈھالنے،  فکرِ آخِرَت اور حِفاظَتِ ایمان کا جَذبہ پانے کیلئے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے ہَفتہ وار سنّتوں  بھرے اجتِماع  میں نہ صرف خود اوّل تا آخر شِرکت کریں بلکہ دوسرے اسلامی بھائیوں تک بھی نیکی کی دعوت پَہُنْچا کر،  ذِہن بنا کر اجتِماع  میں لانے کی کوشش فرمائیے۔ اگرآپ کی اِنفرادی کوشش سے کوئی اجتِماع  میں آگیا اور یہاں ہونے والے سنّتوں  بھرے بیانات،  ذکر ودعا اور دیگر رَحْمتوں بھرے مَعْمُولات کی بدولت اس کا دِل  چوٹ کھاگیا اور وہ قرآن وسنّت کی راہ پر آگیا تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ آپ کا بھی بیڑا پار ہوگا۔

ہدایت کا سبب بننے کا انعام

رسولِ صابر وشاکر،  محبوبِ ربِّ قادِر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:  اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   تمہارے ذریعے کسی ایک شخص کو ہدایت عطا فرمائے تو یہ تمہارے لئے اس سے اچھا ہے کہ تمہارے پاس سر خ اونٹ ہوں۔  (مسلم،  کتاب فضائل الصحابۃ،  باب من فضائل علی بن ابی طالب،  ص ۱۳۱۱،  حدیث:  ۲۴۰۶)  حضرت علامہ یحیی بن شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  اس حدیثِ نَبَوِی کی شَرْح میں لکھتے ہیں:  سُرْخ اُونٹ اہلِ عرب کا بیش قیمت مال سمجھا جاتا تھا،  اس لئے ضَرْبُ الْمِثْل یعنی کہاوَت کے طور پر سرخ اونٹوں کا ذکرکیا گیا،  اُخْروی اُمور کو دُنْیَوی چیزوں سے تشبیہ یعنی مِثال دینا صرف سمجھانے کے لئے ہے،  ورنہ حقیقت یہی ہے کہ ہمیشہ باقی رہنے والی آخِرَت کا ایک ذَرّہ بھی دنیا اور اس جیسی جتنی دُنیائیں تَصَوُّر کی جاسکیں ان سب سے بِہْتَر ہے۔  (شرح مسلم للنووی،  ۱۵ / ۱۷۸)

  نیکی کی دعوت کا انعام

 سرکارِ نامدار،  شَہَنشاہِ اَبرار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:  اِنَّ الدَّالَّ عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہ یعنی بے شک نیکی کی راہ دِکھانے والا نیکی کرنے والے کی طرح ہے۔  (تِرمِذی،  کتاب العلم،  باب ما جاء الدال علی الخیر کفاعلہ،   ۴ / ۳۰۵،  حدیث: ۲۶۷۹)  مُفَسّرِشہیر،  حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مُفْتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: یعنی نیکی کرنے والا،  کرانے والا،  بتانے والا (اور)  مشورہ دینے والا سب ثواب کے مستحق (یعنی حقدار)  ہیں۔      (مِراٰۃالمَناجِیح،  ۱ / ۱۹۴)

سَیِّدُ الْمُرْسَلین،  خاتَمُ النَّبِیِّین،  جنابِ رَحمۃٌ لِّلْعٰلمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ دِل نشین ہے: جو ہِدایَت کی طرف بُلائے اُس کو تمام عامِلین  (یعنی عمل کرنے والوں) کی طرح ثواب ملے گا اور اس سے اُن  (عمل کرنے والوں)  کے اپنے ثواب سے کچھ کم نہ ہوگااور جو گمراہی کی طرف بُلائے تو اُس پر تمام پیروی کرنے والے گمراہوں کے برابر گناہ ہو گا اور یہ ان کے گناہوں سے کچھ کم نہ کرے گا۔    (مُسلِم،  کتاب العلم،  باب من سن سنۃ حسنۃ۔۔الخ،  ص۱۴۳۸،  حدیث:  ۲۶۷۴)

مُفَسِّرِ شَہِیر،  حکیم الاُمَّت مُفْتی اَحْمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:  یہ حکم  (عام ہے یعنی) نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے صَدقے سے تمام صَحابہ،  اَئِمّۂ مُجْتَھِدِین ،  عُلَمائے مُتَقَدِّمین و مُتَأَ خّرین سب کو شامل ہے مَثَلاً اگر کسی کی تبلیغ سے ایک لاکھ نَمازی بنیں تو اُس مبلغ کو ہر وَقْت ایک لاکھ نَمازوں کا ثَواب ہو گا اور ان نَمازیوں کو اپنی اپنی نَمازوں کا ثَواب،  اس سے معلوم ہوا کہ حُضُور  (صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)  کا ثَواب مخلوق کے اندازے سے وَراء ہے۔ ربّ (عَزَّ وَجَلَّ)   فرماتا ہے:  وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ (۳)   (پ۲۹،  القلم: ۳)   (ترجَمۂ  کنز الایمان: اورضَرور تمہارے لئے بے انتہا ثواب ہے)  ایسے ہی وہ مُصَنِّفِین جن کی کتابوں سے لوگ ہِدایت پارہے ہیں قِیامت تک لاکھوں کا ثواب انہیں پہنچتا  رہے گا ۔   (مراٰۃ المناجیح،  ۱ / ۱۶۰)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ذرا سوچئے! اگر ہم تھوڑی سی کوشش کریں اور لوگوں تک نیکی کی دعوت پَہُنْچا کر اِنہیں اجتِماع  میں لے آئیں اور ان میں سے کوئی ایک بھی اگر اجتِماع  کی بَرَکت سے گناہوں بھری زِنْدَگی چھوڑ کر نیک بن گیا تو کتنے عَظِیمُ الشَّان ثواب کا خَزانہ ہمارے نامۂ اعمال میں آجائے گااور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ یہ دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اجتِماعات کا طُرَّۂ اِمتِیاز ہے کہ یہاں بڑے بڑے بدکار،  شرابی،  بے نمازی،  چور،  ڈاکو آتے ہیں اور جب یہاں سے اٹھ کر جاتے ہیں تو اپنے گناہوں سے تائب ہوچکے ہوتے ہیں۔جو کل تک شرابی تھے وہ آج سنّتوں بھرے اجتِماع  میں شِرکت کے سَبَب تائب ہو کر نہ صِرف نمازی بلکہ دوسروں کو نماز پڑھانے والے بن گئے،  جو کل تک گناہوں کے گندے ڈھیر پر پڑے ہوئے تھے اس اجتِماع  نے اُنہیں طَہارت ونَفاست کا وہ سبق دیا کہ آج لوگوں کے سروں کاتاج بن گئے ہیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کےاس سر سبزو شاداب لَہْلَہَاتے ہوئے باغ میں بَہُت بڑا کِرْدار ہَفْتہ وار سنّتوں بھرے اجتِماع  کابھی ہے۔


 



Total Pages: 14

Go To