Book Name:Jannat ka Raasta

عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے کہ اس سے مراد پورا کلمہ شریف لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے۔ (عمدۃ القاری،  کتاب الجنائز،  ۶ / ۳)

(3)                      اَسْتَغْفِرُ اللہ  (100 بار)

ایک روایت کے مطابق تاجدارِ رِسالت،  شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ روزانہ 70بار اوردوسری روایت کے مطابق 100بارروزانہ استغفار فرمایا کرتے۔   (ترمذی،  کتاب التفسیر،  باب و من سورۃ محمد،   ۵ / ۱۷۴،  حدیث۳۲۷۰)  

حضورتاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ مَغْفِرَت نِشان ہے: جو کوئی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  سے استغفار کرے گا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اس کی مغفرت فرمادے گا۔

 (ترمذی،  کتاب الدعوات،  رقم الباب ۶۲،  ۵  / ۲۸۸،  حدیث۳۴۸۱)

 (ان تىنوں اوراد مىں اَوّل وآخر اىك اىك بار دُرُود شرىف پڑھنا ہے)

(4)      صَلَّى اللہُ عَلٰى مُحَمَّد  (313مرتبہ )

آخرمیں  وَعَلٰى اٰلِہٖ وَسَلَّم  (ایک بار)

جویہ دُرُودِ پاک پڑھتا ہے تو اس پر رحمت کے 70 دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔   (القول البدیع،  ص۲۷۷)

70) (  اِخْتِتَامِ اِجْتِمَاع

ہفتہ وار سنّتوں  بھرے اجتِماع  کا اختتام اِشْراق و چاشت کی نماز کے بعد صلوٰۃ وسلام پر ہوتا ہے۔ یوں شرکائے اجتِماع کو اجتِماع  کی بدولت اشراق وچاشت کی نفلی نمازیں بھی پڑھنے کی سعادت حاصل ہوتی ہے۔ جن کی فضیلت کے بارے میں مروی ہے۔

نمازِ اشراق

حضرت سَیِّدنا اَنَس  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  سے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالَم ،  نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ مُعَظَّم ہے:  ’’ جو فجر کی نماز جماعت سے پڑھ کر بیٹھا ذکرِ خدا کرتا رہا یہاں تک کہ آفتاب بلند ہوگیا پھر اس نے دو رَکعتیں پڑھیں تو اُسے پورے حج اور عُمرہ کا ثواب ملے گا۔ ‘‘  

 (ترمذی،  کتاب السفر،  باب ماذکر مما یستحب من الجلوس فی المسجد۔۔۔الخ،  ۲ / ۱۰۰،  حدیث:  ۵۸۶)

نمازِ چاشت

حضرت سَیِّدنا ابو ذَر غِفاری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار،  ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ مشکبار ہے:  آدمی پر اسکے ہر جوڑ کے بدلے صَدَقہ ہے  (اور کل تین سو ساٹھ جوڑ ہیں)  ہر تسبیح       صَدَقہ ہے اور ہر حمد صَدَقہ ہے اور لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہنا  صَدَقہ ہے اور اَللہُ اَکْبَر کہنا صَدَقہ ہے اور اچھی بات کا حکم کرنا صَدَقہ ہے اور بری بات سے منع کرنا صَدَقہ ہے اور ان سب کی طرف سے دو رکعتیں چاشت کی کفایَت کرتی ہیں۔

 (مسلم،  کتاب صلاۃ المسا فرین،  باب استحباب صلاۃ الضحٰی۔۔۔الخ،  ص۳۶۳،  حدیث: ۷۲۰)

نیکیوں کا مَدَنی  گلدستہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے کہ ہَفْتہ وَار سنّتوں  بھرے اجتِماع  میں شِرکت کرنا صرف ایک نیکی نہیں بلکہ کثیر نیکیوں کا ایک انتہائی حسین مَدَنی  گلدستہ ہے اور پھر یہ نیکیاں بھی کسی عام دن نہیں بلکہ جُمُعَہ کے دن۔ جی ہاں! اسلامی اعتبار سے مَغْرِب کے بعد سے نیا دن شروع ہوجاتا ہےاور تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کا سنتوں بھرا اجتِماع  بھی جمعرات کو بعد نَمازِ مَغْرِب شروع ہوتا ہے یعنی شبِ جُمُعَہ میں ہوتا ہے اور جُمُعَہ کی ایک نیکی سَتّر نیکیوں کے برابر ہوتی ہے۔ چنانچہ مُفَسِّرِ شَہِیر،  حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  ارشاد فرماتے ہیں کہ جُمُعَہ کی ایک نیکی ستّر گناہے۔  (مراۃ المناجیح،  ۲ / ۳۲۳،  ۳۲۵،  ملخصاً)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ ہفتہ وار سنّتوں  بھرے اجتِماع  کی فضیلت کی ایک ہلکی سی جھلک آپ کے سامنے پیش کی گئی ہے۔ اگر غور فرمائیں تو اس کے علاوہ بھی بے شمار فضائل وبَرکات اس اجتِماع  کے ذریعے ہمیں حاصل ہوتی ہیں لہٰذا آج ہی اپنی صِحّت اور زِنْدَگی کو غنیمت جانتے ہوئے،  آخرت کی تیاری کرنے کیلئے ہر ہفتہ سنّتوں  بھرے اجتِماع  میں اپنی شِرکت کو یقینی بنائیے۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   ہمیں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں  بھرے اجتِماع  میں پابندی وَقْت کے ساتھ شِرکت اور اجتِماع  گاہ میں ہی ساری رات گزارنے کی سَعادَت عطا فرمائے ۔   اٰمین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْم الاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ


 



Total Pages: 14

Go To