Book Name:Jannat ka Raasta

فرما ۔ ‘‘  عرض کیا: یا رسول اللہ  صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم! آپ کے خُلَفا کون ہیں؟ فرمایا:  ’’ جو میرے بعد آئیں گے اور میری احادیث اور سنَّتیں بیان کریں گے اور لوگوں کو سکھائیں گے۔  ‘‘  (المعجم الاوسط،  ۴ / ۲۳۹،  حدیث: ۵۸۴۶)  

سوشہیدوں کا ثواب

حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  سے مروی ہے کہ دو جہاں کے تاجْوَر،  سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:  ’’ جو شخص میری امّت میں فساد پھیل جانے کے وقت میری سنَّت پر عمل کریگا اس کو 100 شہیدوں کاثواب ملےگا۔ ‘‘  (مشکاۃ المصابیح،  کتاب الایمان،  باب الاعتصام...الخ،  ۱ / ۵۵،  حدیث: ۱۷۶)

(4)    سِلْسِلَۂ ذِکْر

    ہفتہ وار سنّتوں  بھرے اجتِماع  کا ایک خصوصی سلسلہ ’’  ذکر  ‘‘  بھی ہے اور کون ایسا شخص ہوگا جوذکرکی فضیلت سے آشنا نہ ہو۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی رحمت ڈھانپ لیتی ہے

دوجہاں کے سلطان،  سرورِ ذیشان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جو قوم بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کا ذکر کرنے کے لیے بیٹھتی ہے تو فِرِشتے ان کو چاروں طرف سے گھیر لیتے ہیں اور خدا کی رحمت اُن کو ڈھانپ لیتی ہے اور اُن لوگوں پر سکینہ  (دِل  کا اطمینان)  نازل ہوتا ہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اپنے مُقَرَّبِیْن میں ان کا تذکرہ فرماتا ہے۔ ‘‘   (مسلم،  کتاب الذکر والدعاء،  باب فضل الاجتِماع ۔۔۔الخ،  ص۱۴۴۸،  حدیث: ۲۷۰۰)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج ساری دنیا میں ایک عالمگیر بے چینی پائی جارہی ہے کوئی ملک ،  شہر اور گاؤں بلکہ کوئی گھر ایسانہیں جہاں بدامنی اور بے چینی نہ ہو،  آج ہرشخص بے چینی کا شکار نظرآتا ہے۔آہ! نادان انسان شَراب ورُباب کی مَحفلوں،  سینما گھروں کی گیلریوں،  ڈرامہ گاہوں اور فَحاشی وعُریانی سے مُرَصَّع نائٹ کلبوں اور جِنسی ورُومانی ناولوں کے مُطالَعہ میں سُکون کی تلاش میں سرگرداں ہے،  آخِر سکون کہاں ملے گا؟ آئیے! دیکھئے قرآنِ پاک نے اس بارے میں ہماری کیا رہنمائی فرمائی ہے،  ارشاد باری تعالیٰ ہے:  

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَىٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِؕ-اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ (۲۸)   (پ۱۳،  الرعد: ۲۸)

 ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو ایمان لائے اور انکے دِل  اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں سن لو اللہ کی یاد ہی میں دِلوں کا چین ہے۔

اس آیت مبارکہ کے تحت صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی تحریر کرتے ہیں:  ’’ اس کے رحمت و فضل اور اس کے احسان و کرم کو یاد کرکے بے قرار دِلوں کو قرار و اطمینان حاصل ہوتا ہے۔    ‘‘   (خزائن العرفان،  پ۱۳،  الرعد،  تحت الآیۃ ۲۸،  حاشیہ نمبر ۷۷)

(5)     دُعا کی بَرَکتیں

ہفتہ وار سنّتوں  بھرے اجتِماع  میں رِقّت انگیز دُعا بھی ہوتی ہے جس کی بَرَکت سے نہ جانے کتنے ہی خالی دامن اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی رحمت سے گوہرِ مُراد سے بھر جاتے ہیں اور نہ جانے کتنے ہی بدکردار باکردار بن جاتے ہیں ،  سنّتوں  بھرے اجتِماعات میں رَحمتیں کیوں نازِل نہ ہوں گی کہ ان عاشقانِ رسول میں نہ جانے کتنے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام  ہوتے ہوں گے۔ عُلَما فرماتے ہیں:  جہاں چالیس مُسلمان صالِح (یعنی نیک مسلمان )  جَمع ہوتے ہیں اُن میں سے ایک ولیُّ اللہ ضَرور ہوتاہے۔

اعلیٰ حضرت،  اِمامِ اَہلسنَّت،  مُجَدِّدِ دِین و مِلَّت،  پروانۂ شَمْعِ رِسَالَت،  مولانا شاہ احمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:  جماعت میں بَرَکت ہے اور دُعائے مَجمعِ مُسلِمین اَقْرب بَقَبُول۔  (یعنی مسلمانوں کے مجمع میں دعا مانگنا قبولیت کے قریب تر ہے)   (فتاویٰ رضویہ جدید،  ۲۴ / ۱۸۴،  تَیسیر شَرحِ جامِعِ صغیر،  ۱ / ۳۱۲،  تَحتَ الحدیث: ۷۱۴)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بعض اسلامی بھائی اجتِماع  کی حاضری میں سستی کا مظاہر ہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم مَدَنی  چینل پر ہی اجتِماع  دیکھ لیں گے ایسے اسلامی بھائیوں کی خدمت میں عرض ہے کہ اگرچہ آپ مَدَنی  چینل پر اجتِماع  دیکھ لیں گے مگر جو بَرَکت و فضیلت مسلمانوں کے اجتِماع  اور قُرب کی ہے وہ کیسے حاصل کریں گے ؟؟؟ تو برائے کرم سستی اڑائیے اور اجتِماع  میں حاضری کی بَرَکتیں حاصل کیجئے۔نیز اجتِماع  میں ہونے والی رِقّت انگیز دُعا کی ایک خاصیت یہ بھی کہ اس کی بَرَکت سے بے شُمار پتھر دِل  انسان بھی پگھل اور خوفِ خدا کی دولت پا کر راہِ ہدایت پر آجاتے ہیں۔

پتھردِل  بھی رو پڑا۔۔۔!

بابُ المدینہ کراچی کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خُلاصہ ہے ،  اُٹھتی جَوانی اوراچھّی صِحّت نے مجھے مَغْرور بنا دیاتھا ،  نِت نئے فینسی ملبوسات سِلوانا ،  کالج آتے جاتے بس کا ٹکٹ بھُلانا،  کنڈیکٹر مانگے تو بدمعاشی پر اُتر آنا ،  رات گئے تک آوارہ گردی میں وقت گنوانا ،  جُوئے میں پیسے لُٹانا وغیرہ ہر طرح کی مَعصِیَّت مجھ میں سرایت کئے ہوئے تھی ۔والِدَین سمجھا سمجھا کر تھک چکے تھے ،  میری اصلاح کیلئے دُعا کرتے کرتے امّی جان کی پلکیں بھیگ جاتیں  مگر میں تھا کہ اپنے ہی حال میں مست تھااور



Total Pages: 14

Go To