Book Name:Jannat ka Raasta

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

جَنَّت کا راستہ[1]

درودِ پاک کی فضیلت

سرکارِمدینہ راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ باقرینہ ہے:  ’’ تم اپنی مجلسوں کو مجھ پر درود پڑھ کرآراستہ کرو کہ تمہارا درود پڑھنا قیامت کے روز تمہارے لیے نور ہوگا۔ ‘‘  (الجامع الصغیر للسیوطی،  ص۲۸۰،  حديث : ۴۵۸۰)

اجتماع  کی برکت

حضرتِ سَیِّدُنا صالح مُرّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نے ایک اجتِماع  میں دورانِ بیان سامنے بیٹھے ہوئے ایک نوجوان سے ارشاد فرمایا:   ’’ کوئی آیت پڑھو۔ ‘‘  تو اس نے سورۂ مومن کی آیت نمبر18 تلاوت کی:

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ۬ؕ- مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ (۱۸)   (پ۲۴،  المؤمن: ۱۸)

ترجَمۂ کنزالایمان: اورانہیں ڈراؤ اس نزدیک آنے والی آفت کے دن سے جب دِل گلوں کے پاس آجائیں گے غم میں بھرے  اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ کوئی سفارشی جس کا کہا مانا جائے ۔

یہ آیتِ مبارَکہ سن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا:  کوئی ظالم کا دوست یا مددگارکس طرح ہوسکتا ہے؟ کیونکہ وہ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی گِرِفْت  (یعنی پکڑ)  میں ہوگا۔بے شک تم سَرکشی کرنے والے گنہگاروں کودیکھو گے کہ انہیں زنجیروں میں جکڑ کر جہنّم  کی طرف لے جایا جارہا ہوگا اور وہ بَرَہنہ  (بَ۔رَہ۔نَہ،  یعنی ننگے)  ہوں گے ،  ان کے جِسْم بوجھل،  چہرے سیاہ (یعنی کالے)  اورآنکھیں خوف سے نِیلی ہوں گی ۔وہ چلّائیں گے: ہم ہَلاک ہو گئے ! ہم برباد ہوگئے! ہمیں زنجیروں میں کیوں جکڑا گیاہے؟ہمیں کہاں لے جایا جارہا ہے؟ اور ہمارے ساتھ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟فِرِشتے انہیں آگ کے کوڑوں سے مارتے ہوئے ہانکیں گے ،  کبھی وہ منہ کے بَل گریں گے اور کبھی انہیں گھسیٹ کر لے جایا جائے گا ۔ جب رو رو کر ان کے آنسو ختم ہوجائیں گے توخون کے آنسو بہنے لگیں گے ،  ان کے دِل   دَہل  (دَ۔ہَل) جائیں گے اور حیران وپریشان ہوں گے اگر کوئی انہیں دیکھ لے تو ان پر نگاہ نہ جما سکے ،  نہ ہی اپنا دِل  سنبھال سکے،  یہ ہَولناک منظر دیکھنے والے کے بدن پر لرزہ طاری ہوجائے ۔ یہ فرمانے کے بعد حضرت سَیِّدُنا صالح مُرّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی بَہُت روئے اور ایک آہِ سرد دِل  پُر درد سے کھینچ کر فرمایا:  ’’ افسوس! کیسا دِل  ہِلا دینے والا مَنْظر ہوگا۔ ‘‘  یہ کہہ کر پھر رونے لگے،  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو روتا دیکھ کر شُرَکائے اجتِماع  بھی رونے لگے۔ اِتنے میں ایک نوجوان کھڑا ہوا اور کہنے لگا:  ’’ یاسیِّدی!کیا یہ سارا مَنْظر بروزِ قِیامت ہوگا؟ ‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جواب دیا:  ’’ ہاں! یہ مَنْظر زیادہ طویل نہیں ہوگا کیونکہ جب انہیں جہنّم  میں ڈال دیا جائے گا تو ان کی آوازیں آنا بند ہوجائیں گی۔ ‘‘  یہ سنکر نوجوان نے ایک چیخ ماری اور کہا:  ’’ افسوس! میں نے اپنی زِنْدَگی غفلت میں گزار دی،  افسوس! میں کوتاہیوں کا شکار رہا،  افسوس ! میں خدائے باری عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت وفرمانبرداری میں سُستی کرتا رہا،  آہ! میں نے اپنی زِنْدَگی بے کار ضائِع کر دی۔ ‘‘  یہ کہہ کر وہ رونے لگا۔کچھ دیر بعد اُس نے ربِّ کائنات عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ ِ بے کَسْ پناہ میں یوں مُناجات کی:  ’’ اے میرے پَرْوَرْدِگار عَزَّ  وَجَلَّ!میں گنہگار توبہ کے لئے حاضرِ دَرْبار ہوں،  مجھے تیرے سوا کسی سے کوئی سَروکار نہیں،  گناہوں سے مُعافی دیکر مجھے قَبول فرما لے،  مجھ سَمیت تمام حاضِرین پر اپنا فَضل و کرم فرما اور ہمیں جُودو نَوال (یعنی عطا و بخشش)  سے مالا مال کردے ،  یااَرحَمَ الرّاحِمِین!  (یعنی اے سب سے بڑھ کر رَحم فرمانے والے)  میں نے گناہوں کی گٹھڑی تیرے سامنے رکھ دی ہے اورسچّے دِل  سے تیری بارگاہ میں حاضِر ہوں،  اگر تو مجھے قَبول نہیں فرمائے گا تویقیناً میں ہَلاک ہوجاؤں گا۔ ‘‘  اِتنا کہہ کر وہ نوجوان غَش کھا کرگِرپڑا اور چند روز بِسترِ عَلالت پر گزار کر  (یعنی بیمار رَہ کر)  موت سے ہمکنار ہو گیا۔ اُسکے جنازے میں بے شُمار لوگ شریک ہوئے،  رو رو کر اسکے لئے دعائیں کی گئیں ۔ حضرت سَیِّدُنا صالح مُرّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی اکثر اُس کا ذِکر اپنے بیان میں فرمایا کرتے۔ ایک دن کسی نے اُس نوجوان کو خواب میں دیکھا تو پوچھا:  مَا فَعَلَ اللہُ بِکَ یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا؟تو اُس نے جواب دیا:   ’’ مجھے حضرتِ سَیِّدُنا صالح مُرّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کے اجتِماع  سے بَرَکتیں ملیں اور مجھے جنّت میں داخل کر دیا گیا۔ ‘‘   (کتاب التوابین،   ص ۲۵۰ ۔ ۲۵۲)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! کس طرح اس نوجوان کو اجتِماع  میں شِرکَت کی بدولت سچّی توبہ کی دَولَت اور جنّت جیسی عظیم نِعْمت حاصل ہوگئی،  یقیناً سچّی توبہ کی توفیق ملنا اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ کی خاص عِنایت ہے اور جس پر یہ عِنایت ہوتی ہے اس کےتو وارے نیارے ہوجاتےہیں۔


 



[1]     مبلغ دعوتِ اسلامی و نگرانِ مرکزی مجلسِ شوریٰ حضرت مولانا حاجی محمد عمران عطاری سَلَّمَہُ الْبَارِی نے یہ بیان ۲۶ جمادی الاولٰی ۱۴۳۳ ھـ بمطابق 20 اپریل 2012ء کو تبلیغ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ (کراچی) میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں فرمایا۔ ۱۸ شوال المکرم ۱۴۳۳ ھـ بمطابق 6 ستمبر 2012ء کو ضروری ترمیم و اضافے کے بعد تحریری صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔(شعبہ رسائل دعوتِ اسلامی مجلس المدینۃ العلمیہ)



Total Pages: 14

Go To