Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۲؎ صورت مسئلہ یہ ہے کہ کسی ایک عورت سے بغیر مہر نکاح کیا یا تو مہر کا ذکر ہی نہیں کیا یا مہر کی نفی کردی کہ مہر کچھ نہ دوں گا یا ایسی چیز مہر مقرر کی جو مہر بننے کے قابل نہیں مثلًا ہوا یا پانی کے گلاس پر نکاح کیا پھر خلوت صحیحہ سے پہلے مر گیا تو اس کی عورت کو مہر ملے گا یا نہیں اگر ملے گا تو کیا ؟

۳؎ خلاصہ جواب یہ ہوا کہ اس عورت کو پورا مہر مثل ملے گا عدت وفات واجب ہوگی یعنی چار ماہ دس دن اور چوتھائی متروکہ مال میراث میں ملے گا۔حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے یہ فتویٰ تو دیا مگر دل میں خیال کرتا تھا کہ نہ معلوم صحیح ہے یا غلط کیونکہ آپ نے اس کے متعلق حدیث نہیں سنی تھی،قرآن کریم سے یہ حکم مستنبط کیا تھا کہ کیا یہ خبر استنباط صحیح ہے یا نہیں۔ (مرقات مع زیادت)

۴؎  آپ صحابی ہیں فتح مکہ کے دن غزوہ میں شریک تھے قوم اشجع کا جھنڈا آپ کے ہاتھ میں تھا یزید ابن معاویہ کے زمانہ میں جنگ حرہ کے دن اپنے بیٹے کے ساتھ شہیدہوئے(اشعہ)

۵؎ یعنی یہ ہی صورت مسئلہ بارگاہ رسالت میں پیش ہوئی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بالکل یہ ہی حکم دیا تھا،آپ کا اجتہاد حدیث کے موافق ہے۔خیال رہے کہ یہ حکم وفات کی صورت میں ہے، اگر ایسی عورت کو خلوت سے پہلے طلاق ہوجائے تو نہ اس پر عدت ہے نہ مہر بلکہ کپڑوں کا ایک جوڑا ملے گا طلاق کی عدت خلوت سے واجب ہوتی ہے اور مہر مثل کبھی بھی آدھا ہو کر نہیں ملتا یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے ان کا مذہب بعینہ وہی ہے بعض اماموں کے ہاں اس صورت میں عورت کو مہر نہیں ملتا۔

۶؎ روایت میں ہے کہ حضرت ابن مسعود یہ سن کر ایسے خوش ہوئے کہ اسلام کے بعد ایسی خوشی آپ کو کبھی نہ ہوئی تھی۔

۷؎ بیہقی نے فرمایا کہ حدیث بہت سی اسنادوں سے مروی ہے جو سب صحیح ہیں۔واﷲ اعلم!

الفصل الثالث

تیسری فصل

3208 -[7]

عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ: أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ فَمَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ فَزَوَّجَهَا النَّجَاشِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمْهَرَهَا عَنهُ أَرْبَعَة آلَاف. وَفِي رِوَايَة: أَرْبَعَة دِرْهَمٍ وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ شُرَحْبِيل بن حَسَنَة. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت ام حبیبہ سے ۱؎ کہ وہ عبداﷲ ابن جحش کے نکاح میں تھیں۲؎ تو وہ زمین حبشہ میں ہی وفات پاگئے ۳؎ ان بی بی کا نکاح نجاشی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے کر دیا ۴؎ اور حضور کی طرف سے انہیں چار ہزار مہر دیا گیا اور ایک روایت میں ہے چار ہزار درہم مہر دیا انہیں شرحبیل ابن حسنہ کے ساتھ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں بھیج دیا ۵؎(ابوداؤد،نسائی)

۱؎ ام حبیبہ کا نام شریف رملہ ہے ابوسفیان کی صاحبزادی امیر معاویہ کی بہن مسلمانوں کی والدہ یعنی زوجہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ہیں، آپ کی ماں کا نام صفیہ بنت عاص یعنی حضرت عثمان کی پھوپھی آپ کا انتقال مدینہ منورہ  ۴۴ھ؁ میں ہوا، فقیر نے قبر انور کی زیارت کی ہے،رضی اللہ عنہا۔

 



Total Pages: 807

Go To