Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

سے نکاح درست ہے کہ یہ کلمہ ان بی بی صاحبہ کی طرف سے نکاح کا ایجاب تھا نکاح کا تکملہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے قبول پر موقوف تھا۔

۴؎ مگر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کوئی جواب نہ دیا کیونکہ اس سے نکاح کرنا منظور نہ تھا اور انکار فرمایا نہیں تاکہ ان بی بی کو شرمندگی نہ ہو۔

۵؎ یا اس طرح مجھ سے نکاح فرمادیں کہ اسے اس نکاح پر راضی کردیں یا حضور سلطان المسلمین ہیں اور جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی سلطان ہوتا ہے لہذا حدیث پہ یہ اعتراض نہیں کہ ان بی بی صاحبہ نے حضور کو دوسرے سے نکاح کردینے کا وکیل نہ بنایا تھا۔

۶؎ یہاں مہر سے مراد مہر معجل ہے جو نکاح کے وقت دیا جاتا ہے جسے آج کل چڑھاوا کہا جاتا ہے ورنہ فی الحال مطالبہ نہ ہوتا کیونکہ مہر کا مطالبہ خاص نکاح کے وقت نہیں ہوتا۔

۷؎ لوہے کی انگوٹھی سے مراد معمولی حقیر چیز ہے نہ کہ خاص لوہے کی انگوٹھی کیونکہ لوہے کی انگوٹھی مرد و عورت دونوں کے لیے حرام ہے لہذا اس حدیث سے یہ ثابث نہیں ہوتا کہ صحابہ کرام لوہے کے چھلے،انگوٹھیاں پہنتے تھے۔

۸؎ اﷲ اکبر! یہ ہے حضرات صحابہ کرام کی مالی حالت کہ سارے گھر میں صرف اﷲ رسول کا نام ہے۔سامان کچھ بھی نہیں برتن بھانڈا بھی نہیں اس حالت میں انہوں نے دنیا میں اسلام پھیلایا۔

 ۹؎ یعنی کیا تجھے قرآن مجید کی کچھ سورتیں یاد ہیں یہ سوال اگلے مضمون کی تمہید کے لیے ہے ورنہ ہر مسلمان کو قرآن مجید کی کچھ آیات و سورتیں ضرور یاد ہوتی ہیں کہ نماز میں تلاوت قرآن فرض ہے اور مسلمان ہر موقعہ پر بسم اﷲ،اعوذ،انا ﷲ،سبحان اﷲ، لاحول وغیرہ پڑھا ہی کرتے ہیں۔

۱۰؎ جمہور علماء کے نزدیک بما معك میں ب سببیہ ہے نہ کہ عوض یا مقابلہ کی چونکہ تجھے قرآن مجید کی سورتیں یاد ہیں اس لیے میں نے تیرا نکاح اس سے کردیا کیونکہ عالم غیر عالم سے افضل ہے۔بعض لوگوں نے کہا کہ تعلیم قرآن یا دیگر خدمات کو مہر نکاح بناسکتے ہیں اور یہ ب عوض کی ہے وہ اس جملہ کے معنی یہ کرتے ہیں کہ ان آیات قرآنیہ کی تعلیم کے عوض میں نے تیرا نکاح اس سے کردیااور حضرت شعیب علیہ السلام کے واقعہ سے دلیل پکڑتے ہیں کہ آپ نے اپنی بیٹی صفورا کا نکاح موسیٰ علیہ السلام سے آٹھ دس سال خدمت کے عوض کیا کہ فرمایا:" اِنِّیۡۤ اُرِیۡدُ اَنْ اُنۡکِحَکَ اِحْدَی ابْنَتَیَّ ہٰتَیۡنِ عَلٰۤی اَنۡ تَاۡجُرَنِیۡ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ"مگر یہ قول درست نہیں کیونکہ قرآن کریم فرماتاہے:"اَنۡ تَبْتَغُوۡا بِاَمْوٰلِکُمۡ"۔معلوم ہوا کہ نکاح مال کے عوض ہونا چاہیے اور قرآن کریم کی تعلیم مال نہیں۔شریعت شعیب علیہ السلام کے احکام دوسرے تھے بلکہ حق یہ ہے حضرت شعیب علیہ السلام نے دس سال کی خدمت کو شرط نکاح قرار دیا تھا نہ کہ مہر نکاح اسی لیے علی فرمایا ب نہ فرمایا نیز فرمایا"عَلٰۤی اَنۡ تَاۡجُرَنِیۡ" میری خدمت کرو اور مہر عورت کی ملک ہوتا ہے نہ کہ سسر کی اور موسی علیہ السلام کو اتنے دن اپنی خدمت میں رکھنا کلیم الہٰی کے لائق بنانا تھا کیونکہ آپ فرعون کے پاس اب تک رہے کسی شیخ کی صحبت کی ضرورت تھی۔

اگر کوئی شعیب آئے میسر                        شبانی سے کلیمی دو قدم ہے

 



Total Pages: 807

Go To