Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب الصداق

مہر کا بیان ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  صداق صاد کے فتح سے بھی ہے اور کسرہ سے بھی صدق سے بنا ب معنی سچائی معلوم کرنے کا ذریعہ،مہر کو صدق اس لیے کہتے ہیں کہ اس سے مرد کی سچائی محبت معلوم ہوتی ہے۔ہمارے ہاں مہر کم از کم ایک دینار یعنی دس۱۰ درہم(پونے تین روپے ہے)امام مالک کے ہاں چہارم دینار یعنی ڈھائی درہم، امام شافعی کے نزدیک جو چیز بیع میں قیمت ہوسکتی ہے وہ نکاح میں مہر بھی بن سکتی ہے،یعنی ایک پیسہ بھی مہر ہوسکتا ہے۔

3202 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ فَقَامَتْ طَوِيلًا فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ فِيهَا حَاجَةٌ فَقَالَ: «هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا؟» قَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا. قَالَ: «فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ» فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ» قَالَ: نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا فَقَالَ: «زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: «انْطَلِقْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا فَعَلِّمْهَا مِنَ الْقُرْآنِ»

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد ۱؎ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک عورت آئی ۲؎ بولی یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میں نے اپنی جان آپ کو ہبہ کی ۳؎ پھر بہت دیر کھڑی رہی ۴؎ تو ایک آدمی اٹھ کر بولا یا رسول اﷲ اس کا نکاح مجھ سے کر دیجئے اگر حضور کو اس کی ضرورت نہ ہو ۵؎ تو حضور نے فرمایا کیا تیرے پاس کچھ ہے جو تو اسے مہر دے ۶؎ بولا میرے پاس اس تہبند کے سوا کچھ نہیں فرمایا تلاش تو کر اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہو۷؎ اس نے ڈھونڈا مگر کچھ نہ پایا ۸؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا تیرے ساتھ کچھ قرآن بھی ہے ۹؎ بولا ہاں فلاں فلاں سورۃ چنانچہ حضور نے فرمایا کہ میں نے اس کا نکاح تجھ سے کردیا اس قرآن کی وجہ سے جو تجھے یاد ہے ۱۰؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا جاؤ میں نے تمہارا نکاح اس سے کردیا لہذا اسے قرآن سکھاؤ ۱۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ آپ کا نام پہلے حزن تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے سہل رکھا،آپ کی کنیت ابوالعباس ہے، انصاری ہیں، ساعدی ہیں، حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت آپ کی عمر پندرہ سال تھی     ۹۱ھ؁  میں آپ کی وفات ہے مدینہ منورہ میں آخری صحابی آپ ہی رہ گئے تھے۔(کمال)

۲؎ یہ بی بی صاحبہ یا تو میمونہ بنت حارث تھیں یا زینب بنت خزیمہ یا ام شریک بنت جابر یا خولہ بنت حکیم تھیں واﷲ اعلم۔(مرقات)

۳؎ یعنی آپ مجھے بغیر مہر اپنی زوجیت میں قبول فرمالیں،یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خصوصیات سے ہے۔رب تعالٰی فرماتا ہے:" وَ امْرَاَۃً مُّؤْمِنَۃً اِنۡ وَّہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ "اور فرماتاہے:"خَالِصَۃً لَّکَ مِنۡ دُوۡنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ"۔اس سے معلوم ہوا لفظ ہبہ



Total Pages: 807

Go To