Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

3199 -[2]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عبدا أسود يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خلفهَا فِي سِكَك الْمَدِينَة يبكي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَىَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: «يَا عَبَّاسُ أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ؟ وَمِنْ بُغْضٍ بَرِيرَة مغيثاً؟» فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ راجعته» فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: «إِنَّمَا أَشْفَعُ» قَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

 روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ بریرہ کا خاوند حبشی غلام تھا جسے مغیث کہا جاتا تھا گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں کہ بریرہ کے پیچھے مدینہ کی گلیوں میں روتا پھرتا ہے ۱؎  اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے ہیں ۲؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب عباس سے فرمایا اے عباس کیا تم تعجب نہیں کرتے مغیث کی محبت سے جو بریرہ سے ہے اور بریرہ کی نفرت سے مغیث سے ۳؎ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہتر تھا تم اس کی طرف سے رجوع کرجاتیں۴؎ وہ بولیں یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ مجھے یہ حکم دیتے ہیں فرمایا میں سفارش کرتا ہوں بولیں مجھے اس کی حاجت نہیں ۵؎(بخاری)

۱؎ یعنی بریرہ کی خوشامد کرتا تھا ان کے پیچھے پیچھے زاری کرتا پھرتا تھا کہتا تھا کہ تو نکاح فسخ نہ کر مجھے نہ چھوڑ۔

۲؎ یعنی وہ نقشہ اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے مجھے بھولتا نہیں مغیث کا بریرہ کے پیچھے پیچھے روتے ہوئے پھرنا اور آنسوؤں سے اس کی داڑھی تر ہونا۔

 ۳؎ معلوم ہوتا ہے کہ بریرہ کا یہ واقعہ     ۹ھ؁ یا دس میں ہوا کیونکہ حضرت ابن عباس اپنے والد عباس کے ساتھ مکہ معظمہ سے آکر مدینہ منورہ میں بسے اور جناب عباس غزوہ طائف کے بعد مدینہ منورہ میں بسے ہیں اور حضرت ابن عباس یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔خیال رہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ کو تہمت کا واقعہ اس سے کہیں پہلے ہے اور اس موقعہ پر حضور نے بریرہ سے دریافت حال کیا ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ بریرہ حضرت عائشہ کی خدمت پہلے بھی کیا کرتی تھیں اور آپ کے پاس رہتی تھیں خریداری بعد میں ہوئی ہے۔(مرقات)

 ۴؎ یعنی تمہارے لیے ثواب اور دین و دنیا کی بہتری اس میں ہے کہ تم نکاح فسخ نہ کرو اور اپنا حق فسخ استعمال نہ کرو۔

۵؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے امتی کی شفاعت امتی سے کرسکتے ہیں،دوسرے یہ کہ حضور کے حکم اور سفارش میں فرق ہے،تیسرے یہ کہ حکم رسول ماننا لازم ہے سفارش رسول ماننا واجب نہیں بلکہ امتی کو اختیار ہے جیسے نبی کی رائے کہ اس کا بھی یہ ہی حکم ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3200 -[3]

عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ مَمْلُوكَيْنِ لَهَا زَوْجٌ فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَبْدَأَ بِالرَّجُلِ قَبْلَ الْمَرْأَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ انہوں نے اپنے دو زوجین مملوکوں کو آزاد کرنا چاہا ۱؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا حضور نے انہیں حکم دیا کہ عورت سے پہلے مرد سے ابتداء کریں ۲؎ (ابوداؤد،نسائی)

۱؎  زوج مجرور ہے اس کا تعلق مملوکین سے ہے یعنی عائشہ صدیقہ کے پاس ایسے دو کنیز و غلام تھے جن میں زوجیت کا تعلق تھا کہ عورت بیوی تھی مرد اس کا خاوند،بعض نسخوں میں زوجین ہے مملوکین کی صفت،بعض نسخوں میں عبارت یوں ہے مملوکۃ لھازوج مطلب ایک ہی ہے۔

۲؎ یعنی اے عائشہ نہ تو دونوں خاوند و بیوی کو ایک ساتھ آزاد کرو نہ عورت کو پہلے مرد کو پیچھے،بلکہ پہلے مرد کو آزاد کرو پھر عورت کو،کیونکہ مرد عورت سے افضل ہے لہذا مرد کا آزاد کرنا بھی عورت کے آزاد کرنے سے افضل ہوا اور افضل کام کرنا بہتر ہے لہذا یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں نہ امام شافعی کی دلیل ہے کیونکہ ان کے ہاں اگر زوجین ایک ساتھ ہی آزاد ہو تو لونڈی کو حق فسخ نہیں ملتا پھر مرد کو پہلے آزاد کرنے کا کیا مطلب۔

 



Total Pages: 807

Go To