Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب

باب  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ یعنی یہ باب صحبت وغیرہ کے متعلق متفرق احادیث کا ہے اسی لیے اس کا ترجمہ باب مقرر نہ فرمایا صرف باب فرمادیا گیا گویا یہ باب المتفرقات ہے۔

3198 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا فِي بَرِيرَةَ: «خُذِيهَا فَأَعْتِقِيهَا» . وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَارَتْ نَفسهَا وَلَو كَانَ حرا لم يخيرها

 روایت ہے حضرت عروہ سے ۱؎ وہ جناب عائشہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حضرت بریرہ کے متعلق فرمایا کہ انہیں خرید لو۲؎ پھر آزاد کردو اور ان کا خاوند غلام تھا ۳؎ اسی لیے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دیا انہوں نے اپنے کو اختیار کر لیا اور اگر وہ آزاد ہوتے تو بریرہ کو اختیار نہ دیتے ۴؎(مسلم،بخاری)

۱؎ عروہ ابن زبیرہ حضرت عائشہ صدیقہ کے بھانجے یعنی حضرت اسماء بنت ابی بکر الصدیق کے صاحبزادے ہیں تابعین میں سے ہیں،مدینہ کے سات بڑے فقہا میں سے ہیں،    ۲۲ھ؁ میں پیدائش ہے۔

۲؎ حضرت بریرہ کے حالات کتاب البیوع میں گزر چکے کہ آپ پہلے ایک یہودی کی لونڈی تھیں اس سے حضرت عائشہ صدیقہ نے خرید کر لیا ان سے بہت سے احکام شرعیہ وابستہ ہیں۔

 ۲؎ ان کا نام مغیث تھا یہ اولًا غلام تھے پھر آزاد کردیئے گئے تھے،بریرہ کی آزادی کے وقت یہ آزاد تھے جیسا کہ ابوداؤد وغیرہ کی روایات سے ثابت ہے ان کی حریت کی روایات میں بریرہ کے عتق کے وقت تک کا حال مذکور ہے،عبدیت کی روایات میں پچھلا حال مذکور ہے لہذا نہ تو احادیث میں تعارض ہے نہ حدیث امام اعظم کے خلاف، یہ اسلام میں غلام تو آزاد ہوسکتا ہے مگر آزاد مسلمان غلام نہیں بن سکتا۔ خیال رہے کہ اگر لونڈی آزاد ہو تو اسے بہرحال خیار عتق ملتا ہے ا سکا خاوند آزاد ہو یا غلام،شوافع کے ہاں اگر غلام ہو تو لونڈی کو خیار عتق ملے گا ورنہ نہیں اگر دونوں ایک ساتھ آزاد ہو ں تو خیار نہیں اور اگر خاوند آزاد ہو تو بھی اسے خیار عتق نہیں۔

۴؎ یہ حضرت عروہ کا قول ہے نہ کہ عائشہ صدیقہ کا اور قول بھی ان کے اپنے اجتہاد سے ہے لہذا امام ابوحنیفہ کو مضر نہیں۔

3199 -[2]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عبدا أسود يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خلفهَا فِي سِكَك الْمَدِينَة يبكي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَىَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: «يَا عَبَّاسُ أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ؟ وَمِنْ بُغْضٍ بَرِيرَة مغيثاً؟» فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ راجعته» فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: «إِنَّمَا أَشْفَعُ» قَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

 روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ بریرہ کا خاوند حبشی غلام تھا جسے مغیث کہا جاتا تھا گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں کہ بریرہ کے پیچھے مدینہ کی گلیوں میں روتا پھرتا ہے ۱؎  اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے ہیں ۲؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب عباس سے فرمایا اے عباس کیا تم تعجب نہیں کرتے مغیث کی محبت سے جو بریرہ سے ہے اور بریرہ کی نفرت سے مغیث سے ۳؎ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہتر تھا تم اس کی طرف سے رجوع کرجاتیں۴؎ وہ بولیں یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ مجھے یہ حکم دیتے ہیں فرمایا میں سفارش کرتا ہوں بولیں مجھے اس کی حاجت نہیں ۵؎(بخاری)

 



Total Pages: 807

Go To