Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

3196 -[14]

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ سِرًّا فَإِنَّ الْغَيْلَ يُدْرِكُ الْفَارِسَ فيدعثره عَن فرسه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے ۱؎ فرماتی ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ اپنی اولاد کو خفیہ طور پر نہ قتل کرو کیونکہ غیل سوار کو پہنچتا ہے تو اسے گھو ڑے سے گرا دیتا ہے ۲؎ (ابوداؤد)

 ۱؎ اسماء بنت ابوبکر صدیق اور ہیں اسماء بنت عمیس اور اسماء بنت یزید اور یہ تینوں اسماء صحابیہ ہیں، اسماء بنت یزید انصاریہ ہیں بڑی ہی عاقلہ اور بہادر بی بی تھیں آپ نے ہی جنگ یرموک میں خیمہ کے نیچے سے نو کافر قتل کیے۔

۲؎ غیل کے معنی پہلے عرض کیے گئے کہ شیر پلانے والی عورت سے صحبت کرنا جس سے وہ حاملہ ہوجائے عورت کا دودھ بھاری اور گرم ہوجاتا ہے جو بچے کو نقصان دیتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ حاملہ عورت کے دودھ کا نقصان جوانوں میں اثر کرتا ہے کہ سوار کو سواری سے گرا کر ہلاک کردیتا ہے پچھلی احادیث میں اس سے انکار تھا بعض علماء نے فرمایا کہ پچھلی حدیث جذامہ بیان جواز کے لیے تھی یہ حدیث اسماء بیان کراہت کے لیے ہے یعنی بحالت شیر صحبت کرنا جائز ہے بہتر نہیں یوں ہی حاملہ عورت کا دودھ بچہ کو پلانا جائز ہے بہتر نہیں بعض نے فرمایا کہ گزشتہ حدیث تاثیر حقیقی کے انکار کے لیے تھی۔یہ حدیث تاثیر مجازی کے ثبوت کے لیے ہے بعض علماء نے فرمایا یہ حدیث منسوخ ہے پچھلی ناسخ تھی بہرحال یہ عمل جائز ہے ممنوع نہیں۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3197 -[15]

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن يعْزل عَن الْحرَّة إِلَّا بِإِذْنِهَا. رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا کہ آزاد عورت سے اس کی بغیر اجازت عزل کیا جائے ۱؎(ابن ماجہ)

 ۱؎ یعنی لونڈی سے بغیراس کی اجازت بھی عزل کرنا جائز ہے اور حرہ بیوی سے اس کی اجازت سے عزل کرسکتے ہیں کیونکہ صحبت حرہ بیوی کا حق ہے اور انزال صحبت کا تتمہ ہے جس سے عورت کی تسلی ہوتی ہے۔


 



Total Pages: 807

Go To