Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۲؎ یعنی یا تو اپنی بیوی کے خفیہ عیوب لوگوں کو بتائے یا اس کا حسن اس کی خوبیاں لوگوں کو بتائے یا صحبت کے وقت کی گفتگو اس وقت کے حالات لوگوں سے کہتا پھرے جیسا کہ عام آزاد نوجوانوں کا دستور ہے کہ شب اول کی باتیں اپنے دوستوں کو بے تکلف بتاتے ہیں۔ یہاں مرقات نے ایک حکایت بیان فرمائی کہ کسی کی اپنی بیوی سے جنگ رہتی تھی اس کے ایک دوست نے پوچھا کہ تیری بیوی میں خرابی کیا ہے ؟ وہ بولا کہ تم میرے اندرونی معاملات پوچھنے والے کون ہو ؟ آخر اسے طلاق دے دی، اس سائل نے کہا کہ اب تو وہ تمہاری بیوی نہ رہی اب بتاؤ اس میں کیا خرابی تھی یہ بولا وہ عور ت غیر ہوچکی مجھے کسی غیر کے عیوب بتانے کا کیا حق ہے یہ ہے پردہ پوشی۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3191 -[9]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (نساوكم حرث لكم فَأتوا حَرْثكُمْ)الْآيَةَ: «أَقْبِلْ وَأَدْبِرْ وَاتَّقِ الدُّبُرَ وَالْحَيْضَةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف آیت نساؤکم حرث لکم وحی کی گئی ۱؎ لہذا تم اپنی کھیتیوں میں آؤ آگے سے آؤ اور پیچھے سے مگر دبر اور حیض سے بچو ۲؎(ترمذی)

۱؎ یعنی یہود کی تردید میں یہ آیت کریمہ اتری وہ کہتے ہیں کہ اگر خاوند اپنی بیوی کے پاس پیچھے سے فرج میں صحبت کرے تو بچہ بھینگا ہوتا ہے اس آیت میں ان کا رد کیا گیا۔

۲؎ یہ اس آیت کی تفسیر ہے یعنی خاوند کو اختیار ہے کہ اپنی بیوی سے آگے سے صحبت کرے یا پیچھے سے مگر شرط یہ ہی ہے کہ ہو فرج میں اسی لیے رب تعالٰی نے فرمایا کہ اپنی کھیتی کے پاس آؤ اور ظاہر ہے کہ کھیتی فرج ہے نہ کہ دبر، نیز فرج میں بھی بحالت حیض صحبت حرام ہے کیونکہ اس حالت میں فرج بھی دبر کی طرح نجاست کی جگہ ہوتی ہے اور صحبت مضر۔حق یہ ہے کہ جو شخص حیض میں صحبت حلال جانے وہ کافر ہے کہ نص قرآنی کا منکر ہے۔

3192 -[10]

وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يستحيي مِنَ الْحَقِّ لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه. والدارمي

روایت ہے حضرت خزیمہ ابن ثابت سے ۱؎ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اﷲ تعالٰی حق سے شرم نہیں فرماتا ۲؎ عورتوں کے پاس ان کی دبروں میں نہ جاؤ ۳؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)

 ۱؎ آپ کی کنیت ابو عمارہ ہے، انصاری اوسی ہیں، لقب ذوالشہادتین ہے، بدر وغیرہ غزوات میں شریک ہوئے فتح مکہ کے دن انصار اوس کا جھنڈا آپ کے ہاتھ میں تھا، جنگ صفین میں امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، جب عمار بن یاسر شہید ہوئے تو تلوار سونت لی جنگ کی یہاں تک کہ شہید ہوگئے رضی اللہ عنہ۔(اکمال مرقات،اشعہ)

 



Total Pages: 807

Go To