Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب المباشرۃ

صحبت کرنے کا بیان  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ مباشرہ بُشرۃ سے بنا بمعنی ظاہری کھال اسی لیے انسان کو بشر کہتے ہیں یعنی ظاہری اورکھلی کھال والا کہ نہ اس پر بال ہیں نہ پر جو کھال ڈھانپ لیں۔مباشرت کے معنی ہیں کھال سے کھال ملانا اس سے مراد ہے صحبت کرنا، اس باب میں عورت سے صحبت کے احکام بیان ہوں گے۔خیال رہے کہ اپنی بیوی سے عمر میں ایک بار صحبت کرنا فرض ہے کہ اس کے بغیر وہ دعویٰ کرسکتی ہے اور چارہ ماہ میں ایک بار ضرری ہے اس کے سواء بقدر طاقت،روزے میں اور بحالت حیض و نفاس صحبت حرام، جمعہ کے دن قبل نماز صحبت مستحب،جن حالات میں صحبت مضرو نقصان دہ ہو ان میں صحبت مکروہ،اس کی تفصیل شامی وغیرہ کتب فقہ میں ملاحظہ کیجئے۔

3183 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَتِ الْيَهُودُ تَقُولُ: إِذَا أَتَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ مِنْ دُبُرِهَا فِي قُبُلِهَا كَانَ الْوَلَد أَحول فَنزلت: (نساوكم حرث لكم فَأتوا حَرْثكُمْ أَنى شِئْتُم)

 روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں یہود کہتے تھے کہ جب مرد اپنی بیوی کے پیچھے کی طرف سے اس کی فرج میں صحبت کرے تو بچہ بھینگا ہوتا ہے ۱؎ تب یہ آیت نازل ہوئی کہ تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں تو اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو جاؤ ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ عورت کی دبر میں وطی کرنا تمام دینوں میں حرام ہے اسلام میں حرام قطعی ہے کہ اس کا منکر کافر ہے اس کا مرتکب فاسق و فاجر۔ یہاں یہ مطلب ہے کہ مرد عوت کے پیچھے کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر فرج میں صحبت کرے تو بچہ کی آنکھ میں خرابی ہوتی ہے کہ وہ بھینگا ہوتا ہے۔

۲؎ اس آیت میں نساؤکم سے مراد مطلقًا عورتیں ہیں خواہ اپنی بیویاں ہوں یا اپنی لونڈیاں اور یہاں بمعنی این نہیں بلکہ بمعنی کیف ہے یعنی تعمیم مکان کے لیے نہیں بلکہ تعمیم کیفیت کے لیے ہے اسی لیے حرثکم ارشاد ہوا یعنی اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو جاؤ کھڑے،بیٹھے،لیٹے،آگے سے یا پیچھے سے بشرطیکہ فرج میں صحبت ہو کہ فرج ہی کھیتی ہے نہ کہ اور جگہ اس آیت کی تحقیق ہماری تفسیر نعیمی پارہ دوم میں ملاحظہ کیجئے۔مقصد یہ ہے کہ جیسے کھیت میں تخم کسی طرح ڈال دو بفضلہ تعالٰی پیداوار ہوتی ہے یوں ہی اپنی بیوی یا لونڈی کے پاس کسی طرح جاؤ مقدر میں جیسا بچہ ہے ویسا ہوگا آگے پیچھے ہونے سے بچہ پر اثر نہیں پڑتا۔

3184 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعنهُ كُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَزَادَ مُسْلِمٌ: فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلم ينهنا

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ ہم عزل کرتے تھے اور قرآن اتررہا تھا۔(مسلم،بخاری) مسلم نے یہ زیادہ کیا کہ یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچی تو ہم کو منع نہ فرمایا ۱؎

 



Total Pages: 807

Go To