Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

الْکُفَّارِ لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمْ وَ لَا ہُمْ یَحِلُّوۡنَ لَہُنَّ"لا ترجعوھن  سے معلوم ہوتا ہے کہ مؤمنہ داراسلام میں پہنچی اور اس کا کافر خاوند والا نکاح فسخ ہوا، لہذا ان احادیث کے ایسے معانی کرنے چاہئیں جو آیت قرآنیہ کے خلاف نہ ہوں وہ ہم نے ابھی عرض کردیئے۔

۱۰ ؎ ابن شہاب امام زہری کی کنیت ہے،مؤرخین فرماتے ہیں کہ جب عکرمہ کو اپنے امان کی خبر ملی تو خوشی سے اچھل پڑے اور بہت جلد حاضر بارگاہ ہو کر مسلمان ہوئے حضور ان کی آمد پر خوشی سے کھڑے ہوگئے، خیال رہے کہ حضور حضرت عکرمہ ابن ابوجہل، عدی ابن حاتم، زید ابن ثابت، جعفر ابن ابی طالب کی آمد پر خوشی میں کھڑے ہوئے ہیں(مرقات)حضرت فاطمہ کی آمد پر ہمیشہ کھڑے ہوجاتے ہیں۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3181 -[22]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حُرِّمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ وَمِنَ الصِّهْرِ سَبْعٌ ثُمَّ قَرَأَ: (حُرِّمَتْ عَلَيْكُم أُمَّهَاتكُم)الْآيَة. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نسب سے سات عورتیں حرام ہیں ۱؎ اور سسرالی رشتہ سے سات پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی حرام کی گئیں تم پر تمہاری مائیں ۲؎  الایہ(بخاری)

۱؎ وہ سات عورتیں یہ ہیں ،ماں،بیٹی،بہن،پھوپھی،خالہ،بھتیجی،بھانجی۔

 ۲؎ خیال رہے کہ نکاح کی وجہ سے چند عورتیں دائمی حرام ہوجاتی ہیں،اپنی ساس،بیٹے کی بیوی،پوتے کی بیوی،دادا کی بیوی، مدخول بہابیوی کی بیٹی اور عارضی طور پر چند عورتیں حرام ہوتی ہیں،بیوی کی بہن،اس کی پھوپھی اس کی خالہ جس آیت سے حضرت ابن عباس نے استدلال کیا ہے یعنی"وَلَا تَنۡکِحُوۡا مَا نَکَحَ"۔اس میں نہ تو بیوی کی خالہ اور پھوپھی کا ذکر ہے نہ سسر کی بیوی کا، لہذا اس آیت سے استدلال کچھ کمزور ہے یا کہو کہ اکثر کا ذکر ہے نہ کہ کل کا۔

3182 -[23]

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً فَدَخَلَ بهَا فَلَا يَحِلُّ لَهُ نِكَاحُ ابْنَتِهَا وَإِنْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلْيَنْكِحِ ابْنَتَهَا وَأَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً فَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَنْكِحَ أُمَّهَا دَخَلَ أَوْ لَمْ يَدْخُلْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَا يَصِحُّ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ إِنَّمَا رَوَاهُ ابْنُ لَهِيعَةَ وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ وَهُمَا يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ

 روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے پھر اس سے صحبت کرے تو اس کی بیٹی کا نکاح حلال نہیں ۱؎ اور اگر اس سے صحبت نہیں کی تو اس کی بیٹی سے نکاح کرسکتا ہے۲؎ اور جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے تو اسے اس عورت کی ماں سے نکاح حلال نہیں اس سے صحبت کی ہو یا نہ کی ہو ۳؎ (ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث اسناد کی طرف سے صحیح نہیں۴؎ اسے ابن لہیعہ اور مثنی ابن صباح نے عمرو ابن شعیب سے روایت کیا اور وہ دونوں حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں،۵؎

 



Total Pages: 807

Go To