Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۳؎  ان کے دین میں موذی جانوروں کا زندہ جلادینا جائز ہوگا اس لیے ان پر عتاب نہ ہوا،اسلام میں زندہ کو جلانا ممنوع ہے،نیز ہمارے ہاں چار جانوروں کو مارنا ممنوع ہے جن میں چیونٹی بھی ہے جیساکہ دوسری فصل میں آوے گا۔خیال رہے کہ اگر موذی جانور کو بغیر زندہ جلائے مارنا ممکن نہ ہو تو اسے جلا ڈالنا جائز ہے۔ (مرقات)جیسے چار پائی کے کھٹمل،سوراخ میں گھسا ہوا سانپ جو کھولتے پانی سے مارے جاتے ہیں یا بھڑوں کا چھتہ جو آگ سے جلایا جاتا ہے کہ اس کے بغیر ان کو مارنا ممکن نہیں اگرچہ ہر چیز رب تعالٰی کی تسبیح کرتی ہے،مگر چیونٹی تسبیح بھی کرتی ہے اور بے ضرربھی ہے،جو چیونٹی نقصان پہنچائے یا کاٹ کھائے اسے مار دینا جائز ہے،کبھی چیونٹی کا کاٹا جوں سے زیادہ سخت ہوتا ہے اس کا قتل جائز ہے جیسے بلی کا قتل جائزنہیں لیکن موذی بلی کا قتل جائز ہے۔(مرقات)

الفصل الثانی

دوسری فصل

4123 -[20]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَةُ فِي السَّمْنِ فَإِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلَا تَقْرَبُوهُ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد

4124 -[21]وَرَوَاهُ الدَّارمِيّ عَن ابْن عَبَّاس

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب چوہا گھی میں گرجائے تو اگر گھی جما ہوا ہو تو چوہا پھینک دو اور وہ جو اس کے آس پاس ہے ۱؎  اور اگر پتلا ہو تو اس کے قریب نہ جاؤ ۲؎  (احمد اورابوداؤد)

دارمی بروایت ابن عباس۔

۱؎ یعنی اگر چوہا جمے گھی میں گرکر مرجائے تو اسے نکال کر پھینک دو،اس سے متصل گھی بھی کھرچ کر پھینک دو اگر زندہ چوہا نکلا تو گھی پاک ہے۔

۲؎  بعض علماء نے اس کے معنی یہ کیے کہ اسے کسی طرح بھی ا ستعمال نہ کرو نہ کھانے میں نہ لگانے میں نہ چراغ جلانے میں،مگر حق یہ ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے کھانے کے قریب نہ جاؤ دوسری طرح اس کا استعمال درست ہے جیسے اس سے چراغ روشن کرنا،اگر تیل ناپاک ہوجائے تو اس کا صابن میں استعمال کرلینا۔ خیال رہے کہ اس حدیث کا مطلب وہ ہی ہے جو پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ پتلے ناپاک گھی کا آس پاس پھینک دینا کافی نہیں اسے اس طرح پاک نہیں کیا جاسکتا۔پتلا گھی،تیل،دودھ ان کے پاک کرنے کا وہ طریقہ ہے جو پہلے بیان ہوا کہ اسے پتلے پاک گھی کے ساتھ بہادو پاک ہو جائے گا من دو من گھی،تیل یا دودھ کا پھینکا نہ جائے گا،پتلی چیزوں کے پاک کرنے کے تین چار طریقے شامی وغیرہ نے لکھے ہیں۔

4125 -[22]

وَعَنْ سَفِينَةَ قَالَ: أَكَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمَ حُبَارَى. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت سفینہ سے ۱؎  فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ بٹیر کا گوشت کھایا ۲؎(ابوداؤد)

۱؎ آپ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے آزادکردہ غلام ہیں یا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزادکردہ ہیں،ام المؤمنین نے آپ کو اس شرط پر آزاد کیا تھا کہ زندگی بھر حضور کی خدمت کریں۔آپ کا نام رباح یا مہران یا رومان ہے،ایک بار حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک سفر میں تلوار،ڈھال نیزہ،کچھ اور سامان ان پر لاد دیا اور فرمایا تم ہماری سفینہ یعنی کشتی ہو تب سے آپ کا لقب سفینہ ہوگیا،آپ کے چار بیٹے ہیں،عبدالرحمن محمد،زیاد اور کثیر۔

 



Total Pages: 807

Go To