Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

الفصل الثانی

دوسری فصل

4102 -[5]

عَن عبد الله بنِ مُغفَّلٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا كُلِّهَا فَاقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَزَادَ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ: «وَمَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ يَرْتَبِطُونَ كَلْبًا إِلَّا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ أَوْ كَلْبَ غنم»

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مغفل سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا اگر یہ نہ ہوتا کہ کتے بھی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے تو میں ان سب کے قتل کا حکم دیتا ۱؎  پس تم ہر خالص کالے کتے کو قتل کردو۲؎ (ابوداؤد،دارمی) اور ترمذی،نسائی نے یہ زیادتی کی کہ کوئی گھر والے نہیں جو کتا پالیں مگر ہر دن ان کے عمل سے ایک قیراط کم ہوتا ہے سواء شکاری کتے یا کھیتی کے لیے یا بکریوں کے کتے کے۳؎

۱؎  اس فرمان عالی میں اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے"وَمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرْضِ وَلَا طٰٓئِرٍ یَّطِیۡرُ بِجَنَاحَیۡہِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُکُمۡمطلب یہ ہے کہ کتے بھی مخلوق ہیں،ایک گروہ ہے جس کے پیدا فرمانے میں حکمت ہے اور انسان کو اس سے فائدہ بھی ہے کہ حفاظت و شکار میں کام آتا ہے اس لیے اس کا بالکل فنا کرنا مناسب نہیں۔خیال رہے کہ کتے پالنے کا اور حکم ہے اسے ہلاک کرنے کا دوسرا حکم۔بلا فائدہ اس کا پالنا ناجائز۔فائدہ حفاظت یا شکار ہے اور بلا ضرر اس کا مارنا ممنوع ہے نقصان خواہ بالفعل ہو یا بالاحتمال۔

۲؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ حیوانات کا ذبح کرنا صرف دو وجہ سے جائز ہے یا نفع حاصل کرنے کے لیے یا ان کا نقصان دفع کرنے کے لیے،چونکہ خالص کالا کتا فائدہ کم دیتا ہے نقصان زیادہ اس لیے اس کے مار دینے کا حکم ہے،ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ یہ حکم بھی منسوخ ہے۔اب صرف نقصان دہ کتا ہلاک کیا جائے کالا ہو یا اور رنگ کا۔اس سے معلوم ہوا کہ بچھو،سانپ،بھیڑیا،شیر،چیتا وغیرہ تمام وہ جانور جو صرف نقصان دہ ہیں ان سے نفع کوئی نہیں ان کو مارنا مطلقًا درست ہے۔

۳؎ بکری سے مراد تمام مویشی ہیں جیسے گائے بھینس وغیرہ کہ ان کی حفاظت کے لیے کتا پالنا جائز ہے،یوں ہی باغ،گھر  و دکان کی حفاظت کے لیے پالنا درست ہے،ریوڑ کی حفاظت والے کتے بھیڑیئے کو بھی بھگا دیتے ہیں۔اعمال کم ہونے کے معنی اور اس کی وجہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔

4103 -[6]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جانور لڑوانے سے منع فرمایا ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد)

۱؎  اللہ تعالٰی رحم فرمائے،آج مسلمانوں میں مرغ لڑانا،کتے لڑانا،اونٹ،بیل لڑانے کا بہت شوق ہے یہ حرام سخت حرام ہے کہ اس میں بلا وجہ جانوروں کو ایذاء رسانی ہے،اپنا وقت ضائع کرنا۔بعض جگہ مال کی شرط پر جانور لڑائے جاتے ہیں یہ جوا بھی ہے حرام درحرام ہے۔جب جانوروں کو لڑانا حرام ہے تو انسان کو لڑانا سخت حرام ہے۔خیال رہے کہ اسلامی فوج کو کفار سے لڑانا جہاد ہے،یونہی مشن



Total Pages: 807

Go To