Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب ذکر الکلب

کتے کابیان  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  یہ بیان کہ کون سا کتا پالنا جائز ہے کون سا نہیں اور کس کتے کا قتل جائز ہے کس کا نہیں،چونکہ شکار کے بیان میں کتے کا ذکر بھی تو کیا تھا کہ شکاری کتے کا شکار حلال ہے،اگرچہ وہ کتے کے منہ میں مرجائے اس لیے اب مؤلف نے کتے کے اقسام و احکام باندھا گویا یہ باب پچھلے باب کا تتمہ ہے۔

4098 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ ضَارٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ»

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو جانوروں یا شکاری کتے کے سواء ۱؎ کوئی اور کتا پالے تو روزانہ اس کے عمل سے دو دانگ کم ہوں گے۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  یعنی جانوروں کی حفاظت یا شکار کے لیے کتا پالنا بالکل درست ہے جس سے کوئی بُرا  اثر نہیں پڑا۔ضار اصل میں ضاری تھا،ی تخفیف کر کے گرادی گئی تھی،ضاری بنا ہے ضری سے بمعنی بھڑکانا ضاری بمعنی شکار کو بھڑکانے والا کتا یعنی شکاری کتا۔

۲؎  عمل سے مراد نیک اعمال کا ثواب ہے نہ کہ اصل عمل کیونکہ مذہب اہل سنت یہ ہے کہ کسی گناہ کی وجہ سے نیکی برباد نہیں ہوتی نیکیاں صرف کفر سے برباد ہوتی ہیں اور کتا پالنا گناہ ہے کفر نہیں۔مطلب یہ ہے کہ نیکیوں کا جو ثواب کتا نہ پالنے والے کو ملتا ہے وہ کتا پالنے والے کو نہیں ملتا،اس کمی کی وجہ یہ ہے کہ ایسے کتے سے رحمت کے فرشتے گھر میں نہیں آتے یا اس لیے کہ کتے سے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے یا اس لیے کہ کتے والے گھر کے برتن اور کپڑے مشکوک ہوتے ہیں کہ کبھی کتا یہ چیزیں چاٹ لیتا ہے گھر والوں کو خبر نہیں ہوتی لہذا جتنی یقینی پاکی وطہارت بغیر کتے والے گھر میں ہوتی ہے ایسی طہارت کتے والے گھر میں نہیں ہوتی یہ تحقیق ضرور خیال میں رکھی جائے۔(مرقات)بہرحال نیکیوں سے تو گناہ مٹتے ہیں"اَنۡ تَحْبَطَ اَعْمٰلُکُمْ وَ اَنۡتُمْ لَا تَشْعُرُوۡنَ" مگر گناہوں سے نیکیاں کبھی نہیں مٹتیں وہ صرف کفر سے مٹتی ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِقیراط ایک خاص وزن کا نام ہے،یہاں قیراط فرمانا سمجھانے کے لیے ہے ورنہ ثواب اعمال یہاں کے باٹوں سے نہیں تولا جاتا۔

4099 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «من اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ صَيْدٍ أَو زرعٍ انتقَصَ منْ أجرِه كلَّ يومٍ قِيرَاط»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس نے جانوروں یا شکار یا کھیتی باڑی کے کتوں کے سواء اور کوئی کتا پالا تو اس کے ثواب سے روزانہ ایک قیراط کم ہوگا ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  اس حدیث میں کھیتی باڑی کے کتے کا اضافہ ہے یعنی کھیت کی حفاظت کے لیے کتا پالنا بھی جائز ہے اسی طرح باغ کی حفاظت بھی ہے اور گھر کی حفاظت بھی۔خیال رہے کہ مکہ معظمہ مدینہ منورہ میں بلاضرورت کتے پالنے پر دو قیراط کی کمی ہوگی اورکسی جگہ ایک قیراط کی،یا گاؤ ں و جنگلوں میں کتے پالنے پر ایک قیراط کی کمی ہے شہر میں دو قیراط کی کہ کتے سے زیادہ تکلیف شہر میں ہوتی ہے،یا



Total Pages: 807

Go To