Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۲؎  یعنی بقدر ضرورت زندہ اونٹ زندہ بکری کے اعضاء کاٹ کر کھالیتے جانور اسی طرح چیختا رہتا تھا۔مہینوں تک اس کے اعضاء کاٹ کاٹ کر کھاتے رہتے وہ زندہ تڑپتا رہتا،جو قوم اپنی بچیوں کو اپنے ہاتھ سے زندہ دفن کردیتے اس سے یہ کام کیا بعید ہے۔

۳؎  یعنی زندہ جانور کا جو عضو کٹ جاوے وہ مردار ہے،اس کا کھانا حرام ہے لہذا  اگر شکار کو نیزہ یاتیر مارا جس سے اس کا ہاتھ یاپاؤں کٹ کر الگ ہوگیا پھر اسے ذبح کیاگیا تو وہ کٹا ہوا پاؤں حرام ہے باقی حلال۔بعض لوگ زندہ دنبہ کی چکی سے چربی نکال لیتے ہیں وہ چربی کھانا بھی حرام ہے۔خیال رہے کہ یہ حدیث اعضاء جانور کے کھانے کے متعلق ہے۔زندہ بھیڑ کی اون،زندہ ہاتھی کے کاٹے ہوئے دانت کا استعمال حلال ہے اور زندہ جانور کے پیٹ سے نکالا ہوا بچہ جو پیٹ چاک کرکے نکالا جائے اور ہو مردہ  وہ کھانا حرام ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

4096 -[33]

عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ أَنَّهُ كَانَ يَرْعَى لِقْحَةً بِشِعْبٍ مِنْ شِعَابِ أُحُدٍ فَرَأَى بِهَا الْمَوْتَ فَلَمْ يَجِدْ مَا يَنْحَرُهَا بِهِ فَأَخَذَ وَتِدًا فَوَجَأَ بِهِ فِي لَبَّتِهَا حَتَّى أَهْرَاقَ دَمَهَا ثُمَّ أَخْبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَمَالِكٌ وَفِي رِوَايَته: قَالَ: فذكاها بشظاظ

روایت ہے حضرت عطاء ابن یسار سے  ۱؎  وہ بنی حارثہ کے ایک شخص سے روای ۲؎  وہ  احد کی گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں اونٹنی چرایا کرتے تھے ۳؎  تو اس پر موت دیکھی، ایسی چیز نہ پائی جس سے اسے ذبح کریں انہوں نے ایک میخ لی وہ اس کی گھنڈٰ ی میں گھونپ دی ۴؎حتی کہ اس کا خون بہادیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو حضور انور نے اس کے کھانے کاحکم دیا(مالک)اور ان کی روایت میں ہے کہ فرمایا اسےدھاردار لکڑی سے ذبح کرو  ۵؎

۱؎ تابعی ہیں،کنیت ابو محمد ہے،ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہاکے آزاد کردہ غلام ہیں،مدینہ منورہ میں قیام رہا ،چوراسی سال عمر پائی،  ۹۷ھ؁  ستانوے میں وفات پائی۔

۲؎  چونکہ یہ صاحب صحابی ہیں اور صحابہ تمام کے تمام عادل ثقہ ہیں اس لئے ان کا نا م معلوم نہ ہونا صحت حدیث کے لیے مضر نہیں۔

۳؎  لقمہ وہ حاملہ اونٹنی جسکا بچہ عنقریب پیدا ہونے والا ہو یا قریب ہی میں پیدا ہوچکا ہو۔شعب پہاڑ کادرہ یا دو پہاڑوں کے درمیان راستہ یا پانی کی گزرگاہ۔(مرقات و اشعہ)احد مدینہ منورہ کا مشہور پہاڑ ہے جس کی زیارت کی جاتی ہے۔

۴؎ اس طرح کے اس میخ کے گھونپنے سے اس کے گلے میں سوراخ ہوگیا اور خون بہ گیا اور حلقوم کٹ گیا۔

۵؎  شظاظ شین کے کسرہ،پہلی ظ کے شد بمعنی وہ دھاری لکڑی جس کے دونوں طرف دھار ہوگئی ہو۔(اشعہ)

4097 -[34]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مَا من دَابَّة إِلَّا وَقَدْ ذَكَّاهَا اللَّهُ لِبَنِي آدَمَ» . رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ

روایت حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کوئی دریائی جانور حلال نہیں مگراسے اللہ نے اولاد آدم کے لیے  ۱؎  حلال فرمادیا۔(دار قطنی)

۱؎ یعنی دریائی جانور کے ذبح کرنے کی ضرورت نہیں وہ بغیر ذبح حلال ہےکیونکہ اس میں بہتا خون نہیں۔خیال رہے مچھلی بالاتفاق حلال ہے،مچھلی کے علاوہ باقی دریائی جانور امام اعظم کے نزدیک حرام ہیں،دریائی جانوروں میں صرف مچھلی حلال ہے۔


 



Total Pages: 807

Go To