Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

سے۔اس داغ کو عربی میں گیّ کہتے ہیں۔جن احادیث میں گیّ یعنی داغنے سے منع فرمایا ہے وہاں وجہ کچھ اور ہے جو ان شاء اﷲ ہم کتاب الطب میں عرض کریں گے۔

4079 -[16] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن أنس قَالَ: غَدَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ لِيُحَنِّكَهُ فَوَافَيْتُهُ فِي يَدِهِ الْمِيسَمُ يَسِمُ إِبِلَ الصَّدَقَة

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عبداﷲ ابن ابوطلحہ کو لے گیا تاکہ آپ اس کی تحنیک فرمادیں ۱؎ تو میں نے آپ کو پایا کہ آپ کے ہاتھ میں داغے کا آلہ تھا صدقہ کے اونٹوں کو داغ رہے تھے ۲؎(بخاری)

۱؎ عبداﷲ ابن ابوطلحہ حضرت انس کے سوتیلے بھائی ہیں یعنی ماں شریک بھائی ہیں،حضرت انس تو ام سلیم کے پہلے خاوند سے پیدا ہوئے تھے مگر یہ عبداﷲ حضرت ابوطلحہ سے تھے،حضرات صحابہ اپنے نومولود بچے کو حضور کی خدمت میں لاتے تھے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کھجور چباکر اپنی زبان شریف سے بچے کے تالو میں لگادیتے تھے تاکہ بچے کے منہ میں سب سے پہلے حضور کا لعاب شریف پہنچے،اس عمل کا نام تحنیك ہے۔

۲؎ یعنی آپ بنفس نفیس اس آلہ سے زکوۃ کے اونٹوں کو داغ دے رہے تھے تاکہ زکوۃ کے اونٹ دوسرے اونٹوں سے چھٹ جائیں۔یہ داغ چہرے کے علاوہ اورکسی عضو پر لگائے جاتے تھے۔لوہے کا ٹکڑا گرم کرکے جانور کے ران یا ٹانگ پر داغ دیا جاتا ہے،یہ داغ پھر کبھی چھوٹتا نہیں،رنگ وغیرہ کے نشانات مٹ جاتے ہیں۔ہم نے بعض حبشیوں کو دیکھا کہ ان کے رخسار پر لکیریں داغی ہوتی ہیں یہ حرام ہے جیساکہ گزشتہ حدیث سے معلوم ہوا۔

4080 -[17] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مِرْبَدٍ فَرَأَيْتُهُ يَسِمُ شَاءَ حسبته قَالَ: فِي آذانها

روایت ہے ہشام ابن زید سے وہ حضرت انس سے راوی فرمایا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ طویلہ میں تھے آپ کو دیکھا کہ آپ بکریوں کو داغ رہے تھے مجھے خیال ہے کہ فرمایا ان کے کانوں میں ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ حسبتہ میں ہ کا مرجع حضرت انس ہیں  اور یہ قول ان ہشام ابن زید تابعی کا ہے جو حضرت انس سے یہ حدیث روایت فرمارہے ہیں۔یعنی مجھے خیال ہے کہ حضرت انس نے فرمایا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم صدقہ کی بکریوں کے کانوں میں داغ لگا رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ کان میں داغ لگانا بھی بالکل جائز ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

4081 -[18]

عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ أَحَدُنَا أَصَابَ صَيْدًا وَلَيْسَ مَعَهُ سِكِّينٌ أَيَذْبَحُ بِالْمَرْوَةِ وَشِقَّةِ الْعَصَا؟ فَقَالَ: «أَمْرِرِ الدَّمَ بِمَ شِئْتَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت عدی ابن حاتم سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرمایئے کہ ہم میں سے کوئی شکار پائے اور اس کے پاس چھری نہ ہو تو کیا پتھر سے یا لاٹھی کی پھاڑی سے ذبح کردے ۱؎ تو فرمایا جس چیز سے چاہو خون بہادو ۲؎ اور اﷲ کا نام لے دو۔(ابوداؤد،نسائی)

 



Total Pages: 807

Go To