Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۴؎  خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے خود اپنی ذات کے لیے کبھی کچھ جمع نہ فرمایا مگر اپنی ازواج پاک کو ایک سال کا خرچہ اس زمانہ کے بعد عطا فرمایا لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں جو مروی ہے کہ حضور نے کل کے لیے کچھ نہ رکھا۔اس سے معلوم ہوا کہ ا پنے بال بچوں کے لیے سال بھر کا گندم لکڑی وغیرہ خرید لینا سنت ہے کہ اس میں بےفکری بھی ہے اور برکت بھی ۔

۵؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم اس فئ میں سے اپنے سال کا خرچ نکال کر باقی فقراء مساکین اور ضروریات دینی میں خرچ فرماتے تھے،یہ ہی اب سلاطین اسلامیہ کو حکم ہے کہ فئ کا تمام مال مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں،اس مال سے پلوں کی تعمیر، لشکروں کے واسطے ہتھیاروں کی خریداری،قاضیوں و علماء دین کی تنخواہیں ادا کریں،یہ ہی امام اعظم قدس سرہ کا مذہب ہے۔بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ فئ میں سے بھی خمس لیا جائے گا غنیمت کی طرح باقی چارخمس مجاہدین پر خرچ ہوں گے۔یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے۔ (مرقات)

4056 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن عمر قَالَ: كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصَة يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ عُدَّةً فِي سَبِيل الله

روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں کہ بنی نضیر کے مال ان میں سے تھے جو اللہ تعالٰی نے اپنے رسول پر فئ فرمائے جن پر مسلمانوں نے گھوڑے دوڑائےنہ اونٹ چنانچہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیئے خاص طور پر رہے کہ آپ اپنے گھر والوں کو ایک سال کا خرچ دیتے تھے پھرجو باقی بچتا تھا اسے اللہ کی راہ میں ہتھیاروں جانوروں میں خرچ کرتےتھے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ اس کا مطلب وہ ہی ہے کہ بنی نضیر کے جلاوطن ہوجانے کے بعد ان کے متروکہ مالوں کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم اس طرح خرچ کرتے تھے کہ اولًا اپنے گھر کا سال بھر کا خرچ نکالا پھر باقی مال مجاہدین پر خرچ فرمایا۔خیال رہے کہ وہ جو احادیث پاک میں ہے کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ ہمارے گھر میں دو دو ماہ تک آگ نہ جلتی تھی یا یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے دو دن متواتر شکم سیر کھانا نہ ملاحظہ فرمایا یہ واقعات بنی نضیر کے مال حاصل کرنے سے پہلے کے ہیں بعد میں رب تعالٰی نے وسعت دے دی،پھر اس زمانہ کے بعد جو فقروفاقہ کی نوبت آتی تھی اس کی وجہ ازواج پاک کا زیادہ خیرات و صدقات تھے کہ یہ حضرات فقراء پر بہت خرچ فرمادیتی تھیں سال بھر کا خرچہ جلدختم ہوجاتا تھا اور نوبت فاقہ کو پہنچتی تھی،نیز اس سال کے خرچہ میں کچھ جو کچھ کھجوریں ہوتی تھیں سال ان ہی سے نکالا جاتا تھا۔ وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ حضور دنیا سے تشریف لے گئے مگر پھر بھی مسلسل دو دن گندم کی روٹی شکم سیر ہوکر نہ کھائی،اس کا مطلب بھی یہ ہی ہے کہ کھانا کبھی روٹی کبھی کھجوریں تھا۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ چونکہ اس زمانہ پاک میں پلوں کی تعمیر،قاضیوں،علماء کی تنخواہوں کا رواج نہ تھا اور ہر وقت تیاری جہاد رہتی تھی اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم فئ کا مال اس پر ہی خرچ فرماتے تھے۔اب سلاطین پل،مساجد کی آبادی،فقہاء،علماءدین کی تنخواہوں پربھی خرچ کریں گے،سرکار اسی فئ سے فقراء مہاجرین پر بھی خرچ کرتے تھے۔(مرقات)

الفصل الثانی

دوسری فصل

4057 -[3]

عَن عوفِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَتَاهُ الْفَيْءُ قَسَمَهُ فِي يَوْمِهِ فَأَعْطَى الْآهِلَ حَظَّيْنِ وَأَعْطَى الْأَعْزَبَ حَظًّا فَدُعِيتُ فَأَعْطَانِي حَظَّيْنِ وَكَانَ لِي أَهْلٌ ثُمَّ دُعِيَ بَعْدِي عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَأُعْطِيَ حَظًّا وَاحِدًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عوف ابن مالک سے ۱؎ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس جب فئ آتا تھا اسی دن تقسیم فرما دیتے تھے اس طرح کہ گھر بار والے کو دو حصے اور(چھڑے)اکیلے کو ایک حصہ دیتے ۲؎ چنانچہ میں بلایا گیا تو مجھے دو حصے دیئے میرے گھر والے تھے پھر میرے بعد عمار ابن یاسر کو بلایا گیا تو انہیں ایک حصہ عطا فرمایا ۳؎(ابوداؤد)

 



Total Pages: 807

Go To