Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب الفئ

فئ کا بیان ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ کبھی فئ بمعنی غنیمت آتا ہے یعنی جو مال کفار سے بحالت جنگ لڑکر لیا جائے،اور کبھی فئ وہ مال کہلاتا ہے کہ جوکفار سے بغیر جنگ ملے۔غنیمت سے خمس نکال کر باقی چار خمس مجاہدین کو دیئے جاتے تھے مگر فئ میں نہ خمس ہے نہ تقسیم،یہاں فئ کے یہی معنی ہیں جیساکہ اس باب میں مذکورہ حدیث سے معلوم۔اس فئ میں حضور مختارمطلق تھےجہاں چاہیں خرچ کریں۔اب فئ خراج کے حکم میں ہے کہ وہ مسلمانوں کی مصلحتوں میں خرچ ہوگا جیسے پل بنانا،قاضیوں،علماء کی تنخواہ،پولیس پر خرچ۔(مرقات)امام شافعی کے ہاں فئ، جزیہ، خراج میں سے بھی خمس لیا جائے گا مگر یہ قول اجماع کے خلاف ہے۔کسی حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے خراج سے خمس لیا۔(مرقات)اور ان سے پہلے پیچھے کسی نے یہ قول نہ کیا۔

4055 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن مالكِ بن أوْسِ بنِ الحَدَثانِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ خَصَّ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْفَيْءِ بِشَيْءٍ لَمْ عطه أحدا غيرَه ثُمَّ قَرَأَ (مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُم)إِلى قولِه (قديرٌ)فكانتْ هَذِه خَالِصَة لرَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هَذَا الْمَالِ. ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ

روایت ہے حضرت مالک ابن اوس ابن حدثان سے ۱؎ فرماتے ہیں حضرت عمر ابن خطاب نے فرمایا کہ اﷲ تعالٰی نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اس فئ میں سے ایسی چیز سے خاص فرمایا جو ان کے سوا کسی کو نہ دی۲؎ پھر یہ آیت تلاوت کی وَ مَاۤ اَفَآءَ اللہُ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ ، قَدِیۡرٌ تک۳؎ پس یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے خاص رہا کہ آپ اپنے گھر والوں کو اس مال سے سال بھر کا خرچ دیتے تھے ۴؎ پھر جو بیچتا تھا تو اسے لیتے اللہ کے مال کے مصرف میں خرچ فرماتے ۵؎(مسلم،بخاری)

۱؎ آپ بصر ی ہیں،صحیح تر یہ ہے کہ صحابی ہیں لیکن آپ سے کوئی روایت ثابت نہیں صحابہ کرام سے ہی احادیث روایت کرتے ہیں،آپ کی اکثر روایات حضرت عمر سے ہیں ،مدینہ منورہ میں رہے،    ۹۲ھ؁ میں وفات پائی۔(مرقات و اشعہ)

۲؎ اس میں اشارہ اس آیت کریمہ کی طرف ہے:"فَمَاۤ اَوْ جَفْتُمْ عَلَیۡہِ مِنْ خَیۡلٍ وَّ لَارِکَابٍ"یعنی کفار کا جو مال بغیر جنگ مسلمانوں کے ہاتھ لگے اس میں نہ خمس ہے نہ تقسیم بلکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو اس قسم کے مالوں میں بالکل اختیار ہے جس طرح چاہیں تصرف کریں۔

۳؎  خیال رہے کہ قبیلہ بنی نضیر کو مدینہ منورہ سے جلا وطن کیا گیا،ان کے مال مدینہ پاک میں رہ گئے،یہ قوم مدینہ منورہ سے صرف دو میل فاصلہ پر تھی،صحابہ کرام پاپیادہ اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم سوار ہوکر وہاں پہنچے اور بغیر جنگ ان پر قبضہ کرلیا گیا، مسلمانوں کا خیال تھا کہ یہ بھی مال غنیمت کی طرح تقسیم ہوں گے تب یہ آیۃ کریمہ نازل ہوئی جس میں فرمایا گیا کہ تقسیم غنیمت میں ہوتی ہے یہ غنیمت نہیں ہے فئ ہے لہذا یہ اموال حضور انور کے ہیں۔(مرقات،اشعہ)

 



Total Pages: 807

Go To