Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب اخراج الیھود من جزیرۃ العرب

جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ عرب اس جزیرہ کا نام ہے جو بحر ہند،بحر شام،دجلہ و فرات سے گھرا ہوا ہے۔ عدن سے شام تک طول ہے،جدہ سے عراق تک عرض ہے۔اس کے پانچ صوبے ہیں:حجاز،عراق،یمن،نجد، بحرین،باقی دیگر ممالک کا نام عجم ہے اگرچہ عرب سے یہودونصاریٰ دونوں ہی کو نکالا جائے گا مگر یہاں صرف یہود کا ذکر کیا گیا کیونکہ حضور انور نے حکم تو دونوں فرقوں کے نکالنے کا دیا مگرعمل شریف صرف یہود کے نکالنے کا کیا۔(اشعہ)

4050 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «انْطَلِقُوا إِلَى يهود» فخرجنا مَعَه حَتَّى جِئْنَا بَيت الْمدَارِس فَقَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا اعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ. فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئا فليبعه»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی مسجد میں تھے کہ حضور نے فرمایا یہود کی طرف چلو ۱؎ چنانچہ ہم حضور کے ساتھ چلے حتی کہ ہم ان کے مدرسہ میں پہنچے تو ۲؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے قیام فرماکر فرمایا اے یہود کی جماعت اسلام قبول کرلو سلامت رہو گے ۳؎ جان رکھو کہ زمین اللہ رسول کی ہے۴؎ اور میں ارادہ کررہا ہوں کہ تم کو اس زمین سے جلا وطن کردوں ۵؎ تو تم میں سے جو اپنا کچھ مال پائے تو اسے فروخت کردے ۶؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ تبلیغ کے لیے جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔

۲؎  مدارس یا تو درس سے بنا ہے یا دراسۃ و تدریس سے،بیت المدارس کے معنی سبق لینے تعلیم حاصل کرنے کا گھر،کبھی یہودیوں کے عالم کو بھی مدرس کہتے ہیں یعنی درس دینے والا،بعض روایا ت میں یوں ہے حتی اتی المدارس۔بہرحال اس سے مراد یا یہود کا دینی مدرسہ ہے یا ان کے پوپ پادری کاگھر جو مدینہ منورہ میں تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ تبلیغ کے لیے کفار کے گھروں ان مدرسوں ،خانقاہوں میں جانا سنت سے ثابت ہے۔

۳؎ یعنی آپ وہاں بیٹھے نہیں بلکہ کھڑے کھڑے ان سے یہ کلام فرمایا یا اس لیے کہ وعظ و خطبہ کھڑے ہوکر کرنا بہتر ہے یا اس لیے کہ آپ نے ان کفار کے ساتھ بیٹھنا پسند نہ فرمایا۔سلامت رہو گے کے معنی ہیں دین و دنیا کی آفات سے بچے رہو گے،اسلام اور نماز رحمانی قلعہ ہے جس میں داخل ہوکر انسان بہت سی آفات سے بچ جاتا ہے،اس کا بہت تجربہ ہے۔معلوم ہوا کہ تبلیغ نرمی سے کرنا بہتر ہے اور نذارت سے بشارت اعلیٰ کہ حضور انور نے انہیں اسلام لانے پر سلامتی کی بشارت دی۔

۴؎  ظاہر ہے کہ ارض سے مراد ساری زمین ہے اور مطلب یہ ہے کہ زمین مخلوق و مملوک رب تعالٰی کی ہے پھر اس کے مالک بنانے سے میری ملکیت ہے"اِنَّ الۡاَرْضَ لِلہِ یُوۡرِثُہَا مَنۡ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ"۔اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ اللہ رسول کا ملا



Total Pages: 807

Go To