Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۳؎ آپ سمجھیں کہ بغیر مصافحہ بیعت ہوتی ہی نہیں اس لیے عرض کیا حضور بیعت میں جواب عالی کا خلاصہ یہ ہے کہ عورتوں سے بیعت صرف کلام سے لی جاتی ہے اور ایک عورت سے بیعت سو عورتوں سے بیعت ایک ہی کلام شریف سے ہوجاتی ہے۔اس حدیث کو برک،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،موطا امام مالک نے بروایت محمد ابن منکدرنقل فرمایا مگر صاحب مشکوۃ کو یہ حوالے ملے نہیں اس لیے انہوں نے رواہ فرماکر جگہ خالی چھوڑ دی۔ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے،اس کے راوی محمد ابن منکدر ہیں۔ (مرقات،اشعہ)

الفصل الثالث

تیسری فصل

4049 -[8] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدَعُوهُ يَدْخُلُ مَكَّةَ حَتَّى قَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يَدْخُلَ يَعْنِي مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ يُقِيمُ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا كَتَبُوا الْكِتَابَ كَتَبُوا: هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ. قَالُوا: لَا نُقِرُّ بِهَا فَلَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا منعناك وَلَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ: «أَنَا رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ» . ثُمَّ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: " امْحُ: رَسُولَ اللَّهِ " قَالَ: لَا وَاللَّهِ لَا أَمْحُوكَ أَبَدًا فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ يُحْسِنُ يَكْتُبُ فَكَتَبَ: " هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: لَا يُدْخِلُ مَكَّةَ بِالسِّلَاحِ إِلَّا السَّيْفَ فِي الْقِرَابِ وَأَنْ لَا يَخْرُجَ مِنْ أَهْلِهَا بِأَحَدٍ إِنْ أَرَادَ أَنْ يَتْبَعَهُ وَأَنْ لَا يَمْنَعَ مِنْ أَصْحَابِهِ أَحَدًا إِنْ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا " فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَى الْأَجَلُ أَتَوْا عَلِيًّا فَقَالُوا: قُلْ لِصَاحِبِكَ: اخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَى الْأَجَلُ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ذی قعدہ میں عمرہ کیا ۱؎ تو مکہ والوں نے مکہ میں داخلہ کی اجازت دینے سے انکارکردیا حتی کہ ان سے اس شرط پر صلح ہوئی کہ اگلے سال تشریف لائیں مکہ میں تین دن قیام فرمائیں۲؎  تو جب انہوں نے تحریر لکھی تو لکھا کہ یہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ نے فیصلہ فرمایا وہ بولے ہم اس کا اقرار نہیں کرتے کیونکہ اگر ہم جانتے ہوتے کہ آپ اﷲ کے رسول ہیں تو آپ کو نہ روکتے لیکن آپ محمد ابن عبداللہ ہیں ۳؎ تو فرمایا کہ میں رسول اللہ بھی ہوں اور محمد ابن عبداﷲ بھی ہوں۴؎ پھر علی ابن ابی طالب سے فرمایا لفظ رسول اللہ کو محو کردو ۵؎ وہ بولے اﷲ کی قسم میں کبھی آپ کو محو نہ کروں گا ۶؎ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑا حالانکہ آپ اچھی طرح لکھتے نہ تھے پھر لکھا یہ وہ ہے جس پر محمد ابن عبداللہ نے صلح فرمائی ۷؎ کہ مکہ میں داخل نہ ہوں گے ہتھیاروں کے ساتھ سوا تلوار کے وہ بھی میان میں ۸؎ اور یہ کہ مکہ کے باشندوں میں سے جو آپ کے ساتھ جانا چاہے اسے نہ لے جائیں گے اور یہ کہ آپ کے صحابہ میں سے نہ روکیں گے اگر وہ مکہ میں رہنا چاہے ۹؎ پھر جب حضور مکہ میں تشریف لائے اور مدت گزر گئی تو مکہ والے علی کے پاس آئے بولے اپنے ایمان کے ساتھی سے عرض کرو ۱۰؎ کہ ہمارے پاس سے تشریف لے جاویں کہ معیاد گزر چکی چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لے گئے ۱۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی عمرہ کا ارادہ فرمایا،احرام باندھ لیا،یہ واقعہ         ۶ھ؁  دوشنبہ کو ہوا۔(مرقات)

 



Total Pages: 807

Go To