Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

4045 -[4] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن عَائِشَة قَالَتْ فِي بَيْعَةِ النِّسَاءِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْتَحِنُهُنَّ بِهَذِهِ الْآيَة: (يَا أيُّها النبيُّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم إِذا جاءكَ المؤمناتُ يبايِعنَكَ)فَمَنْ أَقَرَّتْ بِهَذَا الشَّرْطِ مِنْهُنَّ قَالَ لَهَا: «قَدْ بَايَعْتُكِ» كَلَامًا يُكَلِّمُهَا بِهِ وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ فِي الْمُبَايَعَةِ

روایت ہے حضرت عائشہ سے آپ عورتوں کی بیعت کے متعلق فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ان کا اس آیت سے امتحان لیتے تھےاے نبی! جب آپ کے پاس مؤمنہ عورتیں بیعت کرنے آئیں،الخ تو ان میں سے جو بی بی اس شرط کا اقرار کرلیتی اس سے حضور فرماتے کہ میں نے تمہیں بیعت کرلیا اس کلام سے جو آپ اس سے کرتے اﷲ کی قسم بیعت میں حضور کا ہاتھ مبارک کسی عورت سے نہ چھوا ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم مردوں سے بیعت لیتے تو مصافحہ فرماکر بیعت لیتے مگر عورتوں سے کبھی مصافحہ نہ فرماتے صرف کلام سے بیعت فرماتے کیونکہ غیرعورت کو ہاتھ لگانا حرام ہے خواہ پیر ہو یا عالم یا شیخ یا کوئی اور۔حضرت ام کلثوم بنت عقبہ ابن ابی معیط مؤمنہ مہاجرہ ہو کر مدینہ منورہ آئیں،کنواری تھیں،ان کے اہل نے انہیں بلایا حضور انور نے واپس فرمانے سے انکارکردیا اور اس طرح ان سے بیعت لی۔بہرحال مشائخ کو چاہیے کہ عورتوں سے اس طرح بیعت لیا کریں۔(مرقات)

الفصل الثانی

دوسری فصل

4046 -[5]

عَن المِسْوَرِ وَمَرْوَانَ: أَنَّهُمُ اصْطَلَحُوا عَلَى وَضْعِ الْحَرْبِ عَشْرَ سِنِينَ يَأْمَنُ فِيهَا النَّاسُ وَعَلَى أَنَّ بَيْنَنَا عَيْبَةً مَكْفُوفَةً وَأَنَّهُ لَا إِسْلَالَ وَلَا إِغْلَالَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے مسور اور مروان سے کہ مسلمانوں نے دس سال تک جنگ بند رہنے پر صلح کی ان سالوں میں لوگ امن سے رہیں ۱؎ اور اس شرط پر کہ ہمارے درمیان بند صندوق ہو۲؎  اور یہ کہ نہ تلوار سونتنا ہو نہ زرہ پہننا ۳؎(ابوداؤد)

۱؎ مگر اس شرط کے باوجود فتح مکہ دو سال بعد ہی ہوگئی کیونکہ مشرکین نے اس صلح نامہ کی دو شرطیں خود توڑ دیں اور جب صلح نامہ کی ایک شرط بھی ٹوٹ جائے تو کُل شرطیں ٹوٹ جاتی ہیں۔

۲؎ عیبہ چمڑے وغیرہ کا وہ بقیہ یا صندوق جس میں نفیس کپڑے رکھے جائیں۔مکفوفہ بنا ہے کف سے یعنی روکنا یعنی کھلنے سے روکنا(مضبوطی سے بندومقفل)یعنی ان دس سال میں ہمارے آپ کے درمیان جنگ ایسی بند رہے کہ کھل نہ سکے جیسے مقفل صندوق۔

۳؎ اسلال بنا ہے سلٌّ سےبمعنی تلوار سونتنا اس لیے ننگی تلوار کو سیف مسلول کہتے ہیں۔اغلال مصدر ہے جس کا مصدر ہے غل بمعنی چھپانا اس سے بنا ہے غلالہ یعنی نیچے کی واسکٹ یا صدری۔یہاں مراد ہے زرہ پہننا جس سے جسم ڈھک جاتا ہے۔بعض شارحین نے کہا کہ اسلال کے معنی ہیں چھپی ہوئی عداوت اور اغلال کے معنی ہیں خیانت مگر پہلے معنی زیادہ موزوں ہیں۔(اشعہ)مطلب یہ ہے کہ اس دس سال کے دوران جنگ تو کیا جنگ کی تیاری بھی نہ ہو۔

4047 -[6]

وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ عِدَّةٍ مِنْ أَبْنَاءِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ آبَائِهِمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا مَنْ ظَلَمَ مُعَاهِدًا أَوِ انْتَقَصَهُ أَوْ كَلَّفَهُ فَوْقَ طَاقَتِهِ أَوْ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ فَأَنَا حَجِيجُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے صفوان ابن سلیم سے ۱؎ وہ متعدد صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بیٹوں سے ۲؎ راوی وہ اپنے والدوں سے۳؎  راوی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ خبردار رہو جس نے کسی معاہدہ والے کافر پرظلم کیا یا عہد توڑا ۴؎ یا اسے طاقت سے زیادہ تکلیف دی یا اس سے کوئی چیز ناخوش دلی سے لی ۵؎  تو قیامت کے دن اس کا مقابل میں ہوں گا ۶؎(ابوداؤد)

 



Total Pages: 807

Go To