Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

3170 -[11]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ بَعَثَ جَيْشًا إِلَى أَوْطَاسٍ فَلَقُوا عَدُوًّا فَقَاتَلُوهُمْ فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ وَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا فَكَأَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي ذَلِكَ(وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاء إِلَّا مَا ملكت أَيْمَانكُم)أَيْ فَهُنَّ لَهُمْ حَلَالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ.رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن ایک لشکر اوطاس کی طرف روانہ فرمایا ۱؎ یہ لوگ دشمن کے مقابل ہوئے ان پر جہاد کیا پھر غالب آگئے ان کی کچھ عورتیں قید کرلیں ۲؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ نے ان کی صحبت میں حرج سمجھا ان کے مشرک خاوندو ں کی وجہ سے ۳؎ تب اس بارے میں یہ آیت اﷲ تعالٰی نے اتاری کہ تم پر خاوند والیاں عورتیں حرام سوا ان کے جن کے تم مالک ہوجاؤ ۴؎ یعنی وہ ان پر حلال ہیں جب کہ ان کی عدت گزر جائے۵؎ (مسلم)

۱؎  اوطاس طائف شریف کے علاقہ میں ایک دادی ہے جس میں قبیلہ ہوازن آباد تھا حنین کے ساتھ وہ بھی فتح ہوا۔

۲؎ سبایا جمع ہے سبۃ کی بمعنی قیدی عورت اوطاس میں مرد کفار بھی قید تھے عورتیں بھی یہاں صرف عورتوں کا ذکر ہے اس وجہ سے جو آگے مذکور ہے۔

۳؎ یہ حضرات سمجھے کہ چونکہ یہ عورتیں منکوحہ ہیں ان کے خاوند زندہ ہیں ان سے طلاق حاصل کیے بغیر ان سے صحبت حلال نہیں۔

۴؎ یعنی قید شدہ کافرہ عورتیں تمہاری لونڈیاں ہوگئیں ان کے احکام وہ نہیں جو آزاد مسلم عورتوں کے ہیں ان کے قید ہوتے ہی ان کے نکاح ختم ہوگئے۔

۵؎  عدت سے مراد ایک حیض یا ایک ماہ گزرجانا ہے جسے فقہاء استبراء کہتے ہیں،کافرہ قیدیہ عورت سے استبراء صحبت حلال ہے، یہ تفسیر کسی راوی حدیث کی ہے،یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ قیدیہ کافرہ خواہ مشرکہ ہو یا اہل کتاب اس سے بعد استبراء مالک کو صحبت حلال ہے،امام شافعی کے ہاں کتابیہ قیدیہ سے تو صحبت حلال ہے،مشرکہ قیدیہ سے صحبت حرام ،وہ یہاں فرماتے ہیں کہ شاید یہ قیدی عورتیں مسلمان ہوچکی تھیں مگر یہ تاویل بہت بعید ہے۔(مرقات)

الفصل الثانی

دوسری فصل

3171 -[12]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوِ الْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا وَالْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا أَوِ الْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا لَا تُنْكَحُ الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى وَلَا الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ والدارمي وَالنَّسَائِيّ وَرِوَايَته إِلَى قَوْله: بنت أُخْتهَا

 روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ عورت سے نکاح کیا جائے اس کی پھوپھی پر یا پوپھی سے اس کی بھتیجی پر ۱؎ یا عورت سے اس کی خالہ پر یا خالہ سے اس کی بھیتجی پر۱؎ نہ چھوٹی سے بڑی پر نکاح کیا جائے نہ بڑی سے چھوٹی پر ۲؎(ترمذی، ابوداؤد، دارمی،نسائی)اور نسائی کی روایت میں بھانجی تک ہے ۳؎ 

 ۱؎ اس جگہ ان عورتوں کا ذکر ہے جنہیں نکاح یا صحبت میں جمع نہیں کرسکتے قرآن کریم نے فرمایا:" وَ اَنۡ تَجْمَعُوۡا بَیۡنَ الۡاُخْتَیۡنِ"دو بہنوں کو جمع کرنا حرام ہے،مگر حدیث پاک میں کچھ اور تفصیل بیان ہوئی اور فقہاء نے اس کے لیے قاعدہ کلیہ بیان فرمادیا کہ جن دو عورتوں میں حرمت دو طرفہ ہو کہ جسے مرد مانا جائے اس پر دوسری عورت حرام ہو ان کا جمع کرنا حرام ہے یہاں



Total Pages: 807

Go To