Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۲؎  اور نوفل و عبدالشمس کی اولاد کو اس خمس میں سے کچھ نہ دیا جیساکہ پہلےگزرچکا اور نوفل کی اولاد سے میں تھا،عبدشمس کی اولاد سے حضرت عثمان۔

۳؎ یعنی اگرچہ نسبی رشتہ میں ہم سب حضور سے برابر تعلق رکھتے ہیں مگر بنی ہاشم کو اس لیے بزرگی ہے کہ حضور ان میں سے ہیں۔

۴؎  کیا ہم حضور کے ذی قرابۃ نہیں ہیں یقینًا ہیں تو حضور انور نے ہم کو ذی قربیٰ کا حصہ خمس سے کیوں نہ دیا۔

۵؎ یعنی نسبت میں تم اور بنی مطلب برابر ہو مگر خدمت میں بنی مطلب تم سے بڑھ کر ہیں کیونکہ ابتداء اسلام میں انہوں نے اسلام کی بڑی خدمات انجام دیں،تم لوگ بعد میں اسلام میں داخل ہوئے۔ بائیکاٹ کے زمانہ میں بنی ہاشم و مطلب ایک رہے مگر بنی نوفل اور بنی عبدشمس بائیکاٹ میں کفار کے ساتھ مل گئے  لہذا ان کو تم پر فوقیت حاصل ہے۔

۶؎  اس سے معلوم ہوا کہ مصیبت کے وقت ساتھ دینے والے بڑی قدرومنزلت کے مستحق ہیں،یہ لوگ چونکہ مصیبت کے ساتھی ہیں لہذا اس خمس کے حق دار ہیں۔ اس کے متعلق فقہی احکام پہلےگزرچکے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

4028 -[44] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: إِنِّي وَاقِفٌ فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ فَنَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَإِذَا بِغُلَامَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ حَدِيثَة أسنانها فتمنيت أَنْ أَكُونَ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا فَقَالَ: يَا عَمِّ هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ؟ قُلْتُ: نَعَمْ فَمَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي؟ قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ رَأَيْتُهُ لَا يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ قَالَ: وَغَمَزَنِي الْآخَرُ فَقَالَ لِي مِثْلَهَا فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَجُولُ فِي النَّاسِ فَقُلْتُ: أَلَا تَرَيَانِ؟ هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي تَسْأَلَانِي عَنْهُ قَالَ: فابتدراه بسيفهما فَضَرَبَاهُ حَتَّى قَتَلَاهُ ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فأخبراهُ فَقَالَ: «أَيُّكُمَا قَتَلَهُ؟» فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: أَنَا قَتله فَقَالَ: «هلْ مسحتُما سيفَيكما؟» فَقَالَا: لَا فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّيْفَيْنِ فَقَالَ: «كِلَاكُمَا قَتَلَهُ» . وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بن عَمْرِو بن الْجَمُوحِ وَالرَّجُلَانِ: مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ ومعاذ بن عفراء

روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن عوف سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں بدر کے دن صف میں کھڑا تھا تو میں نے اپنے داہنے بائیں دیکھا تو میں انصار کے دو نو عمر بچوں کے درمیان تھا ۲؎ میں نے تمنا کی کہ میں ان سے بہادروں کے درمیان ہوتا۳؎  ان دونوں میں سے ایک نے مجھے اشارہ کیا ۴؎  بولا اے چچا کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں۵؎  میں بولا تجھے اس سے کیا کام ہے اے بھتیجے؟وہ بولا مجھے خبر ملی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو گالیاں دیتا ہے  اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میرا جسم اس کے جسم سے جدا نہ ہوگا تاآنکہ ہم سے جلد موت والا مرجائے ۶؎ فرماتے ہیں میں نے اس پر تعجب کیا ۷؎ فرماتے ہیں کہ دوسرے نے بھی مجھے اشارہ کیا تو مجھے اس طرح کہا تو میں نہ ٹھہرا حتی کہ میں نے ابوجہل کو دیکھ لیا  جو لوگوں کے بیچ گھوم رہا تھا۸؎  تو میں بولا کیا تم دیکھتے نہیں یہ تمہارا وہ یار ہے ۹؎ جس کے متعلق تم مجھ سے پوچھ رہے تھے فرماتے ہیں کہ وہ دونوں اپنی تلواریں لے کر اس پر جھپٹے اسے مارا حتی کہ اسے قتل کردیا ۱۰؎پھر دونوں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف لوٹے حضور کو اس کی خبر دی ۱۱؎ تو فرمایا تم دونوں میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے تو ان میں سے ہر ایک بولا کہ اسے میں نے مارا ہے۱۲؎  فرمایا کیا تم نے اپنی تلواریں پونچھ لی ہیں وہ بولے نہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی تلواریں دیکھیں فرمایا تم دونوں نے ہی اسے قتل کیا ہے ۱۳؎  اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے سلب کا فیصلہ معاذ ابن عمرو ابن جموح کے لیے کیا۱۴؎  اور وہ دونوں صاحب معاذ ابن جموح اور معاذ ابن عفرا تھے۱۵؎ (مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 807

Go To